بینکنگ کا نظام

دنیا میں دو سو سے زیادہ ممالک ہیں لیکن ان سب کا اقتصادی ڈھانچہ تقریبا ایک  جیسا ہوچکا ہےاور دنیا کے دساتیر میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ملک میں ایک مرکزی بینک ہو نا چاہیے۔ ملک کی تمام کرنسی مرکزی بینک چھاپے گا، مرکزی بینک جو چیز چاہے اُسے کرنسی (زر) کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

زرکثیف یعنی ہارڈ کرنسی کے نظام میں سرمایہ محنت اور بچت سے تخلیق ہوتا ہے جبکہ فی ایٹ کرنسی کے نظام میں سرمایہ مرکزی بینک کے اختیارات سے تخلیق ہوتا ہے اور”کیپیٹل کہلاتا ہے۔ بینکار ہی کیپیٹل ازم کے موجد ہیں۔ قابل تخلیق کرنسی اپنے تخلیق کنندہ کی غلام ہوتی ہے جبکہ ہارڈ کرنسی کا نظام عوام الناس کو خوشحال بناتا ہے۔

2013ء کے ایک حساب کے مطابق دنیا بھر کے بینکوں میں 10ٹریلین ڈالر سے زیادہ رقم کا اندراج تھا جبکہ  1.2 ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر مالیت کے کاغذی کرنسی نوٹ زیر گردش ہیں۔2017ء میں امریکن سی آئی اے نے دعوی  کیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کے 80ٹریلین ڈالر کے کرنسی نوٹ گردش کررہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ معیشت میں گردش کرنے والے کاغذی کرنسی نوٹوں اور بینکوں کے کھاتوں میں فرق ہوتا ہے۔  عالمی معاشی بحران کی وجہ سے نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ  کسی عالمی ادارے یا ملک کے پاس کاغذی کرنسی نوٹوں کا کوئی ریکارڈ ہی موجود ہی نہیں ہے کہ دنیا بھر میں کتنی مالیت کے کاغذی نوٹ گردش کررہے ہیں۔ درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کی جان کاغذی کرنسی کا مالیاتی نظام کی بقاء اسی میں ہے کہ زیرگردش کاغذی کرنسی نوٹوں کی اصل رقم اور دنیا بھر کے بینکوں کے کھاتوں میں اندراج رقم کسی کو پتہ نہ چلے۔ ماضی قریب میں ایک تحقیق کے مطابق جب پاکستا ن کے اثاثے 323 ارب روپے تھے، پاکستان نے کم و بیش 920 ارب روپے کے کاغذی نوٹ چھاپے ہوئے تھے۔ جبکہ بینکوں میں موجود کھاتوں میں 13000ارب روپے کی دولت کا اندراج تھا۔ یہ وہ کاغذ کے نوٹ ہیں جن پر یہ عبارت تحریر ہوتی ہے"بینک دولت پاکستان ایک سو روپیہ، حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا۔ حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا"۔ اس عبا رت کے نیچے گورنر سٹیٹ بینک کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔ یعنی یہ ایک رسید ہے، ایک وعدہ ہے، ایک حلف نامہ ہے کہ اس کے بدلے میں جب اور جس وقت رسید کا حامل سونا، چاندی، اجناس یا جو چیز طلب کرے حکومت پاکستان اس کو ادا کرے گی۔ جو کہ اب ایک جھوٹ بن چکا ہے۔ ادائیگی کا وعدہ ایک اعلان ہے، جبکہ عمل ادائیگی کرنا ہے اور یہی آج کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔

پاکستان میں کوآپریٹو بینک بنے۔ ہوا چل اٹھی کہ کوآپریٹو بینک دیوالیہ ہو رہے ہیں، بند ہورہے ہیں۔ لوگوں کی اپنی رقم نکلوانے کیلئے قطاریں لگ گئیں۔چند ایک تو کیش ہوئے پھر بہانے شروع ہو گئے۔ کیش منگوایا ہے، ابھی آتا ہی ہو گا، وین چل پڑی ہے۔ گیارہ بجے تک ملازمین بینک کو تالا لگا کر بھاگ گئے۔ یہ صرف ایک شہر میں پھیلی ہوئی چھوٹی سی افواہ کا نتیجہ تھا۔ لوگ صرف بینک سے اپنے کاغذ کے نوٹ مانگ رہے تھے لیکن بینکاری کی اوقات یہ تھی کہ صرف دو گھنٹے میں یہ عمارت زمین بوس ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مستحکم بینکنگ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کوآپریٹو بینک دھڑام سے نیچے آگرے۔ آج بھی اگر ہم اپنا پیسہ صرف بینکوں سے نکلوانا شروع کردیں اور کوئی شہری بھی اپنی رقم بینک میں نہ رکھے۔ آپ لمحوں میں موجودہ نظام بینکاری اور سرمایہ دارانہ معاشی نظام کو تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ کیونکہ بینکوں کے پاس اتنا پیسہ ہی نہیں ہے جتنا کاغذات میں درج ہے۔

اگر صرف چین کی عوام کاغذی نوٹوں سے سونا خریدنا شروع کردے تو اتنے کاغذی نوٹ زیر گردش ہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کےبینکوں کے پاس موجود دنیا کا دو تہائی سونا چینی عوام کے پاس ہو۔ یا دنیا کی "بیس بڑی معیشتوں کی  عوام” کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیں کہ کاغذی نوٹوں کے بدلے سونا، چاندی یا کوئی بھی جنس جو تم بہتر تصور کرتے ہو، دے دو، تو ایک دن میں ہی کاغذ پر کھڑی عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔ اب ملکی سطح پہ بھی  امریکہ سے سونا منگوانے میں تیزی آگئی ہے کیونکہ امریکی ڈالر سے بھروسہ اٹھ جانے کی خبریں اب عام ہیں۔ایسے ہی اگر  بینکوں کے تمام کھاتہ دار اپنی تمام رقم نکلوانا چاہیں تو یہ رقم ادا نہیں کی جاسکتی اورموجودہ مالیاتی نظام برباد ہوجائے گا۔ اس لئے حکومتیں اور مرکزی بینک یہ ترغیب دیتے ہیں کہ کاغذی نوٹوں کو گھر یا دفتر یا لاکر میں رکھنے کی بجائے بینکوں میں رکھا جائے۔ اس کیلئے مختلف ترغیبات دی جاتی ہیں۔ جیسے  انشورنس اور بینک کھاتہ میں پیسے رکھنے پہ آسان شرائط پہ قرضوں کی فراہمی، پیسوں پہ سودی منافع۔ بینک سرمایہ کاری کرکے آپ کو منافع دے گا، انشورنس کے ذریعے آپ کا پیسہ محفوظ بھی رہے گا ۔ زیادہ دیر پیسہ بینک میں رہنے سے آپ مکان، گاڑی یا جو چاہیں بینک کے ذریعے خرید سکتے ہیں۔

کاغذ کو چھاپ چھاپ کر اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ عالمی مالیاتی نظام اور اقتصادی نظام بینکوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور کسی وقت بھی دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2008 ء میں آئس لینڈ کا مرکزی بینک فیل ہو گیا جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ میں ایک بڑا مالیاتی بحران آیا۔ بحران سے محض چند دن پہلے امریکی ٹریژری کے سیکریٹری پالسن نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ہماری معیشت کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔ 2010 میں آئرلینڈ اور 2013 میں قبرص کے مرکزی بینک فیل ہو گئے۔ فیل ہونے سے کچھ ہی دن قبل حکام نے انہیں محفوظ قرار دیا تھا۔ چین کے مرکزی بینک نے 2015 میں اپنی کرنسی کی قیمت غیر متوقع طور پر 3 فیصد گرا دی۔ جون 2016 میں جب بیلجیئم کا آپٹما بینک فیل ہوا تو نہ میڈیا میں کوئی خبر آئی، نہ بیلجیئم کے ریگولیٹر اور ECB کی ویب سائٹ پر اس کا تذکرہ ہوا۔  7 جون 2017ء کو اسپین کے چھٹے سب سے بڑے بینک Banco Popular کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا جس کی وجہ سے شیئر ہولڈروں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا۔ 23 جون 2017 کو اٹلی کے دو بڑے بینکوں Veneto Banca اور Banca Popolare di Vicenza کو کنگال قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ صرف چند دنوں پہلے اٹلی کے وزیر معیشت Pier Carlo Padoan نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان دونوں بینکوں پر مجموعی طور پر 60 ارب یورو کے واجبات ہیں۔ 29 اگست 2017ء کو روس کا چوتھا سب سے بڑا بینک  Otkritie Bank  ڈوب گیا جسے روس کے مرکزی بینک نے بیل آوٹ کر دیا۔ اس کے صرف تین ہفتوں بعد روس کا ایک دوسرا بینک  B&N Bank بھی دیوالیہ ہو گیا۔ 2017ء کے اختتام تک روس کے مرکزی بینک نے انہیں 15 کھرب روبل (25 ارب ڈالر) فراہم کیے مگر انہیں اب بھی مزید 10 کھرب روبل کی ضرورت ہے۔ دسمبر 2014 کے وسط میں روس کے مرکزی بینک نے اچانک اپنی شرح سود 10.5 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی۔

نجی شعبے کے قرض نہ لینے کے باوجود امریکہ قانونی ضرورت سے 15 گنا زیادہ اور جاپان 26 گنا زیادہ "ریزروز” بنا چکا ہے، سب کچھ مرکزی بینکوں کے پاس قرض کے عوض جائیدادیں رہن ہونے کی وجہ سے بظاہر ریزرو ز میں اضافہ ہوا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کا مرکزی بینک SNB ایک نجی ادارہ ہے اور اس کی بیلینس شیٹ جو 2008ء میں لگ بھگ 100 ارب فرانک تھی، وہ 2017ء میں 800 ارب فرانک ہو چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ بینک دنیا کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی کمپنی ہے اور ایپل کمپنی کے 2 ارب 80 کروڑ ڈالر کے شیئرز کا مالک ہے۔ 2008ء میں دنیا کے 6 بڑے مرکزی بینکوں کی آمدنی عالمی جی ڈی پی کا 17 فیصد تھی۔ 2018ء میں یہ 40 فیصد ہو چکی ہے۔

جرمنی کے ڈوئیچے بینک کے پاس 55 ارب یورو کے ڈیری ویٹوز  derivatives جمع ہو چکے ہیں، جو جرمنی کی جی ڈی پی سے بھی 20 گنا زیادہ ہیں۔ اگر یہ بینک فیل ہوتا ہے تو حکومت کیلئے اسے بیل آوٹ کرنا ناممکن ہے۔30 جون 2016 سے آئی ایم ایف نے ڈوئچے بینک کو مالیاتی نظام کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔  2008 ء میں بیئر اسٹرن، مورگن اسٹنلے اور لہیمن بردارز جیسے بڑے بینک ڈوبنے سے پہلے جھوٹ بولتے رہے تھے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں۔ یعنی آج کی سیاست و معیشت کے علمبردار اس وقت اقرار کررہے ہیں کہ دنیا کی سیاست و معیشت جھوٹ پہ مبنی ہے۔

پچھلے چند سالوں میں کینیڈا، قبرص، نیوزی لینڈ، امریکہ اور برطانیہ نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو بینکوں کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنے کھاتے داروں کی جمع شدہ رقم منجمد کر دیں اور پھر ضبط کر لیں۔ جرمنی نے بھی ایسے قوانین منظور کر لئے ہیں۔10 اپریل 2016 کو آسٹریا کے ایک بینک Heta Asset Resolution AG نے اپنے سینیئر کھاتے داروں کے اکاونٹ سے 54 فیصد کٹوتی کا اعلان کیا ہے تا کہ بینک کو درپیش 8.5 ارب ڈالر کے خسارے کا ازالہ کیا جا سکے۔

 جنوبی افریقہ کے مرکزی بینک نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ کرنسیوں کی جنگ/ کرنسی وار میں بے بس ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ اب کنٹرول مرکزی بینکوں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔2008-2009ء کے بحران کو گزرے 8 سال ہو چکے ہیں اور اب بھی دنیا بھر کے مرکزی بینک ہر مہینے 200 ارب ڈالر چھاپ رہے ہیں۔  موجودہ مالیاتی بحران سے یہ ثابت ہوچکا ہےکہ بڑی سے بڑی حکومت ناقابل واپسی مقام پہ پہنچ سکتی ہے اور موجودہ معاشی بحران کی وجہ کرنسی کی بے لاگ تخلیق ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!