بیرونی قرضے – External Debt کی ادائیگی

پاکستان میں اسلامی شریعت کورٹ کے فیصلے کے مطابق، حکومت اسلامی، شرعی ذرائع آمدن سے سود کی رقم ادا نہیں کرسکتی ہے۔ کیونکہ وہ قرض سود پہ لیا گیا اور شرعی ذرائع آمدن سے وہ رقم ادا نہیں کی جاسکتی۔اللہ کے رسول ﷺ نے واضح کر دیا ہے کہ

"المسلمون علی شروطھم الا شرط حرم حلال و احلل حرام”
"اگر ایک شرط اسلام کے خلاف ہو اور ہم وہ معاہدہ کر بھی چکے ہوں تب بھی ہم اس کے پابند نہیں”

بے شک مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں،سوائے اس شرط کے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے۔  یاد رہے سود اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ کھلم کھلا جنگ کا اعلان کرنا ہے۔

ٹیکس بڑھا کر، مہنگائی بڑھا کر، لوگوں کا خون پسینہ نچوڑ کر استعمار کو قرض اور سود کی قسطیں ادا کرنا ساتھ ظلم ہے۔ دیوالیہ/ڈیفالٹ کرنے سے نہ ہی جنگ ہوتی ہے اور نہ ہی برآمدات اور درآمدات پر فرق پڑتا ہے۔ اس سے صرف آپکو مزید قرضوں کی فراہمی پر فرق پڑتا ہے۔ جبکہ ہمیں اگر قرضے ادا نہ کرنے ہوں تو مزید کسی قرض کی ضرورت نہیں ہے اور یہی خود کفالت کی پالیسی ہے۔

ترقی پذیر ممالک ایک ڈالر کے بدلے میں چوبیس ڈالر ادا کرچکے ہیں۔ پاکستان اس وقت پندرہ سو ارب روپے قرض اور اسکی سود کی مد میں ادا کرتا ہے، جبکہ ہمارا دفاع کا خرچہ 11 سو ارب،  حکومتی اخراجات 800 ارب اور پورے ملک کی ترقی پر 550 ارب روپے خرچ ہوتا ہے۔ اور اگر ہمیں قرض ادا نہ کرنا پڑے تو شاید ہمیں کوئی قرض نہیں چاہیے۔ ہمارے ملک میں غیرشرعی محصولات بھی اسی لئے لگائے جا تے ہیں کہ ان سود خور بین الاقوامی اداروں کو قرضے کی قسط واپس کرسکیں۔ قرض اور سود کی رقم پاکستان کے دفاع تعلیم صحت اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہونے والی رقم سے بھی زیادہ ہے۔ قرضوں کا حل یہ ہے کہ آج تک ہر ادارے سے لیا گیا قرض اور ادا کی گئی رقم کا حساب لگایا جائے اور اگر بچ جانے والی اصل رقم ادا کی جائے، باقی رقم کی ادائیگی سے انکار کردیا جائے۔ یعنی ہم قرض کی اصل رقم جو وصول کی گئی، وہ ادا کریں گے لیکن سود کا ایک پیسہ بھی ادانہیں کریں گے۔

ورنہ ملک کو دیوالیہ قرار دیا جائے۔ دیوالیہ قرار دینے سے نہ ہی جنگ ہوتی ہے اور نہ ہی برآمدات اور درآمدات پر فرق پڑتا ہے اس سے صرف آپکو مزید قرضوں کی فراہمی پر فرق پڑتا ہے۔ جبکہ ہمیں اگر قرضے ادا نہ کرنے ہوں تو مزید کسی قرض کی ضرورت نہیں ہے اور یہی خود کفالت کی پالیسی ہے۔اقوام متحدہ  کے چارٹر  کے مطابق۔

UN Charter Article 2 (4) prohibiting use of force by states, made threats of war or waged war against a debtor nation for
 failing to pay back debt to seize assets to enforce its creditor’s rights.

"اقوام متحدہ کے آرٹیکل 2 سب سیکشن 4 کے رو سے کوئی ملک اس بات پر کسی قرض خواہ ملک پر نہ تو حملہ کر سکتا ہے نہ حملے کی دھمکی دے سکتا ہے کہ وہ اس کے قرضے دینے سے انکار کرتا ہے تاکہ وہ اپنا قرضہ واپس لے سکے”

اگر دیوالیہ ہوجانے سے یہ خدشہ پیش نظر ہو کہ آئندہ بیرونی قرض نہیں ملے گا تو بھی حکومت کو بین الاقوامی سطح پہ دیوالیہ ہوجانا چاہئے۔کیونکہ اسلامی حکومت  کسی غیر مسلم ریاست یا غیرمسلم ادارے سے قرض نہیں لے سکتی۔ اس کی شرعی طور پر اجازت نہیں ہے۔ باامر مجبوری ریاست میں موجود مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم شہریوں سے بھی قرض لیا جاسکتا ہے۔  کسی غیرمسلم یاکسی  غیر مسلم ریاست یا کسی غیرمسلم ادارے سے قرض لینے کی اجازت ہرگز نہیں ہے، بلکہ بے جا روابط بھی نہیں بڑھائے جاسکتے۔

1940ء سے لیکر 1944ء تک جنگ عظیم دوم کے درمیان فرانس، نازی جرمنی کے قبضے میں رہا۔ اس دوران جرمنی نے فرانس کوکئی قرضے دئیے اور ان قرضوں کے ساتھ سخت شرائط لگائیں۔1944ء میں فرانس کو چارلس ڈیگال نے آزاد کیاتو انہوں نے ان تمام قرضوں سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ قرضے دراصل جرمنی کی کٹھ پتلی حکومتوں نے لئے، اس کا فرانس کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں تھا اس لئے ہم نہ وہ قرض دیں گے اور نہ اس کا سود”۔

3مئی 2017ء کو پورٹے ریکو Puerto Rico  نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ پورٹے ریکو 34 لاکھ کی آبادی رکھنے والا امریکی حکومت کے ماتحت علاقہ ہے۔ اس علاقے پہ 74 ارب ڈالر کا قرضہ اور 49 ارب ڈالر کے پینشن واجبات تھے۔ یہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی میونسپل bankruptcy ہے۔ پورٹے ریکو کی بیشتر آبادی نہایت غریب ہے مگر اوسطاً ہر فرد پر 15,637 ڈالر کا قرضہ واجب الادا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!