بریٹن ووڈز معاہدہ اور عالمی مالیاتی ادارے

دوسری جنگ عظیم تک دنیا بھر میں کاغذی کرنسی فروغ پاچکی تھی لیکن مشکل یہ تھی کہ مرکزی بینک آپس میں کس طرح لین دین کریں۔ کوئی بھی مرکزی بینک کسی دوسرے مرکزی بینک کی چھاپی کاغذی کرنسی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا اور سونے کا مطالبہ کرتا تھا۔ ڈالر یا پاؤنڈ کی حیثیت سونے کی رسید سے زیادہ نہ تھی اور ملکی مالیاتی ادارے آپس میں تجارت کے وقت سونے کا مطالبہ کرتے، نہ کہ رسید کا۔

اس مشکل کو حل کرنے کیلئے جولائی 1944 میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکہ کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی۔ جس میں اس کانفرنس میں 44 اتحادی ممالک کے 730 مندوبین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے تحت یہ اصول بنایا گیا کہ جس ریاست کے پاس جتنا سونا ہوگا،  اتنی مالیت کے ہی کاغذی نوٹ ریاست جاری کرسکے گی۔ کرنسیوں کی قیمت امریکی ڈالر کے حساب سے طے ہوگی۔ علاوہ ازیں یہ کہ 35امریکی ڈالر ایک اونس سونے کے برابر ہوگا اور امریکہ 35امریکی ڈالر کے عوض ایک اونس سونا دینے کا پابند ہوگا۔

اس معاہدے میں "Gold Convertible Exchange” کی اصطلاح سن کر ہندوستان کے مندوب نے پوچھا کہ "گولڈ کنورٹ ایبل ایکسچینج” سے کیا مراد لیا جائے گا؟۔۔۔ اس کا گول مول جواب یہ دیا گیا کہ "امریکی ڈالر سے جتنا چاہیں سونا خریدا جا سکتا ہے، اس لیے اس تبادلے سے ڈالر ہی مراد لیا جائے”۔

کاغذی کرنسی کے تنازعات کو حل کرنے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی-ایم-ایف) اور ورلڈ بینک وجود میں لائے گئے۔ جبکہ جنگ عظیم کے زمانے کا ایک بینک Bank of International Settlement / عالمی تنازعات کے تصفیے کا بنک پہلے سے ہی موجود تھا۔ اس کانفرنس میں شامل روسی وفد نے اس معاہدے کی توثیق سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "ورلڈ بینک، آئی ایم ایف جیسے ادارے وال اسٹریٹ کی شاخیں ہیں”۔

آسٹریلیا کے وزیر محنت Eddie Ward نے کہا تھا۔"مجھے یقین ہے کہ پرائیوٹ عالمی بینکار بریٹن ووڈز معاہدے کے ذریعے پوری دنیا پر اپنی ایسی مکمل اور خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا ہٹلر نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہو گا۔ یہ وحشیانہ طریقے سے چھوٹے ممالک کو غلام بنا دے گی اور ہر حکومت ان بینکاروں کی دلال بن جائے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کا گٹھ جوڑ بے روزگاری، غلامی، غربت، ذلت اور مالیاتی تباہی میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے ہم آزادی پسند آسٹریلویوں کو اس منصوبے کو نا منظور کر دینا چاہیے"۔ لیکن اس کانفرنس کے انعقاد کے وقت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود کل سونے کا %75 امریکہ کے پاس تھا اور انگریزی کہاوت ہے کہ "جو سونے کا مالک ہوتا ہے وہی قانون بناتا ہے۔اور جو قانون بناتا ہے وہی اصل حکمران ہوتا ہے”۔ الفاظ کے گورکھ دھندے میں کسی کو ان اقدامات کے بھیانک نتائج کی سمجھ  نہ آئی اور اس بات کو معمولی لیا گیا۔

اس معاہدے کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے دوسرے ممالک اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر سے ایک مقررہ نسبت پر رکھنے پر مجبور ہوگئے۔ اس معاہدے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک اپنی اپنی کرنسی کے کنٹرول سے دستبرداری ہونا منظور کر لیا۔ پہلے جو کچھ بھی فوجی طاقت سے چھینا جاتا تھا، وہ سب کچھ شرح تبادلہ کا کھیل بن گیا۔ بریٹن ووڈز معاہدے کے ذریعے سارے ملکوں کی حاکمیت امریکہ کو منتقل ہو گئی۔

"ہارڈ کرنسی کے پیچھے کوئی دھونس دھمکی نہیں ہوتی، اس لیے ہارڈ کرنسی/زرکثیف دائمی ہوتا ہے۔
جبکہ کاغذی کرنسی کے پیچھے دھوکا، فراڈاور فوجی طاقت ہوتی ہے”

اس معاہدے کے بعد دنیا بھر میں کاغذی ڈالر زیر گردش آگیا۔ اس معاہدے سے امریکیوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں آ گیا۔ اس معاہدے نے معاشی غلامی کی ایک نئی قسم کی بنیاد رکھ دی جو ہارڈ کرنسی میں ممکن نہ تھی۔  اس معاہدے کے تحت 35 ڈالر میں ایک اونس سونا خریدنے کا حق عوام کو نہیں دیا گیا تھا بلکہ امریکہ کی طرف سے بظاہر صرف دوسرے ممالک کے مرکزی بینکوں کو دیا گیا تھا۔ گویا عوام کیلئے صرف کاغذی کرنسی اور بینکوں کے مالکان کیلئے سونے کی ملکیت طے پائی۔ اُس وقت امریکی عوام کو سونا رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!