اکیسویں صدی کے آغاز کا پاکستان

اس وقت پاکستان دنیا بھر کے دو سو سے زائد ممالک میں آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے اور رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا چھتیسواں بڑا ملک ہے۔

مسلم ممالک کی فہرست میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا اسلامی ملک ہےجبکہ رقبہ کے لحاظ سے اسلامی ممالک میں چودہواں بڑا ملک ہے۔

پاکستان وسیع زرعی اراضی اور معدنیات سے مالا مال خطے کا حامل ہے۔ پاکستان دنیا کا ایک اہم طاقتور ملک ہے۔ پاکستان  اسلامی دنیا کا واحد اور جنوبی ایشیا کا دوسرا ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے۔ پاکستان کی معیشت دنیا میں 27 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ پاکستان کے حساس ادارے دنیا کے بہترین حساس ادارے ہیں۔

برطانیہ کے تسلط سے جتنی ریاستیں آزاد ہوئیں، وہ آج تک صحیح معنوں میں آزاد نہ ہوسکیں۔ وہاں آج بھی غیر اسلامی طرز حکمرانی ہی چل رہاہے۔ جس کی وجہ سے آج بھی وہاں پہ رہنے والوں کو بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں۔ حتی کہ یہ اقوام  انگریزی زبان اور انگریزی لباس کو ترک نہ کرسکے اور ذہنی غلامی کی زنجیروں کو پہننے کے باوجود خود کو آزاد تصور کرتے ہیں۔ انڈین سول سروس سے تربیت یافتہ مسلمان آفیسر ہی پاکستان میں امور ریاست کو چلانے کیلئے لائے گئے اور وہ انگریزی تہذیب و تمدن اور اقدار سے باہر نہ نکل سکے۔ پاکستان کو بھی اسلام نظام حکومت کی بجائے آج تک پارلیمانی جمہوری طرز حکمرانی پہ چلایا جارہا ہے۔ پارلیمانی طرز حکمرانی جو کہ برطانیہ اور بھارت کی نقل کے عین مطابق ہی ترتیب دیا گیا ہے۔ برطانیہ اور کینیڈا کے شاہی خاندان کی ملکہ اور بادشاہ کی طرح پاکستان میں صدراور گورنرز کو مکمل طورپر ایک خانہ پری کیلئے محدود کردیا گیا ہے۔ جبکہ ان ممالک نے اپنے ملکوں کی روایات کو زندہ رکھنے کیلئے شاہی خاندان کی سربراہی رکھی ہوئی ہے۔ باقی ملک کو وہ پبلک لیمیٹڈ کمپنی کی مانند چلارہے ہیں۔

 اسی طرح دستور پاکستان میں مختلف ترامیم کرکے رفتہ رفتہ ملک کو ایک پبلک لیمیٹڈ کمپنی بنا لیا گیا ہے۔ لیکن جس طرح لیمیٹڈ کمپنی میں ہرشعبہ آزاد ہوتا ہے، ویسے ہی عدلیہ آزاد ہے، فوج ایک خودمختار ادارہ ہے۔ مقننہ آزاد ہے، مرکزی بینک آزاد ادارہ ہے۔ جو چاہے، جیسے چاہے کرے۔ ہر شعبے کا سربراہ اس شعبے کو چلانے کا ذمہ دار  ہے۔ کمپنی کے مالک کو مستقل تنخواہ اور مراعات مل رہی ہوتی ہیں، ویسے ہی عوامی نمائندوں کو تنخواہ اور مراعات مل رہی ہوں اور ان  کا اقتدار میں حصہ، عوامی رائے کے مطابق بڑھتا اور کم ہوتا رہے اور یہ طبقہ ایوانان حکومت میں بیٹھا رہے۔ نظریہ یہ ہے کہ عوام اپنے منتخب کردہ عوامی نمائندوں کے ذریعے  ملک کے حاکم اور مالک ہیں۔ عدلیہ، فوج، انتظامیہ اور دیگر شعبے ملک کے ملازم ہیں، لیکن آزاد ہیں۔ انھی عوامی نمائندوں کے ذریعے منتخب کردہ سربراہ مملکت بھی برائے نام ہی ہو۔  سربراہ مملکت، برطانوی و کینیڈی ملک کی طرح صرف توثیق کے دستخط ہر قانون یا مسودہ پہ ثبت کرنے کا پابند ہو۔ سربراہ مملکت جو ہر طرح کے اختیارات کا حامل ہوتا ہے، بےاختیار کردیا گیا۔  یہ باطل اور غیرفطری نظریہ مغرب کے ذریعے پروان چڑھ رہا ہے جو اقتدار کی مرکزیت کو ختم کرتا ہے۔  اسی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں مسائل پہ کوئی ایک فرد جواب دہ نہیں ہوتا اور مسائل بڑھتے جاتے  ہیں۔ جیسے آج کل بیشمار مسائل کو ہر محکمہ دوسرے محکموں پہ ڈال دیتا ہے لیکن کوئی بھی محکمہ ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

پورا نظام سیاست و معیشت تباہ کردیا گیا۔ پاکستان میں ابھی بھی دستور سازی، عدلیہ میں حوالہ جات کیلئے اور محکمانہ دفتری کام کرنے کے طریقہ کارمیں بھارت اور مغرب کی تقلید کی جاتی ہے۔ اگر صدر اور گورنرز کو بےاختیار کر ہی دیا گیا ہے تو صدارتی نظام نافذ کریں تاکہ ریاست پہ  معاشی بوجھ کم ہو جائے۔ لیکن ارباب اختیار و اقتدار کو کوئی پرواہ نہیں کہ یہ پیسہ ملک کے غریبوں کے کام آسکتا ہے، ملک کی ترقی میں استعمال ہوسکتا ہے۔

"پاکستان میں نظام حکومت آج بھی برطانیہ اور بھارت کی پالیسیوں کا تسلسل ہے”

 یہ معاملہ آج یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پاکستان کے ہی امور ریاست چلانے والے صاحب اختیار کفر کے مراکز میں جا کر برملا اسلام سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔ احساس کمتری اتنا شدید ہوگیا ہے کہ عالم کفر سے آنے والے کسی بھی نظرئیے کو ہم ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ ہم اسلامی قوانین پہ اسے پرکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہم نے یہیں پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ جمہوریت پہ خواص ہو یا مسٹر یا علماء سب نے مغرب کی ہاں میں ہاں ملایا۔ اور یہاں تک پروپیگنڈا کیا کہ جمہوریت تو عین اسلامی نظام حکومت ہے۔  ہمارے ارباب اختیار و اقتدار یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم جمہوریت پہ یقین رکھتے ہیں اور ہم جمہوریت کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ عالم کفر کا نظریہ آج کے سیاستدانوں اور ارباب اختیار کا مذہب بن چکا ہے۔ جبکہ انھوں نے ہی اداروں کے قواعد و ضوابط اور ان کی حدود کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے قوانین کا جائزہ لے کر امور ریاست آگے بڑھا رہے ہیں۔ مزید تحقیق کیلئے دونوں ممالک برطانیہ کے حکومتی اقدامات پہ بھی نظر رکھتے ہیں۔ جبکہ مسلم ممالک کے پاس اسلام کی تعلیمات ہیں جن کی روشنی میں امورریاست آگے بڑھانے چاہئیں کیونکہ

"چودہ صدیوں پہ محیط دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کی عالیشان تاریخ مسلمان قوم کو ورثہ میں ملی ہے”

اسلامی ممالک میں ارباب اختیار و اقتدار اسلام بیزاری میں اتنے آگے چلے گئے ہیں کہ امریکہ کا صدر، برطانیہ کا وزیراعظم تو بائیبل پہ ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے لیکن اسلامی ممالک میں صدر، وزیراعظم یا چیف جسٹس یا آرمی آفیسر قرآن پہ ہاتھ رکھ کر حلف نہیں اٹھاتے۔ اور نہ ہی ہمارے حکمران اس عہد کا اعادہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اپنے اختیارات کے استعمال  میں قرآن و سنت کے پابند رہیں گے۔ غیراسلامی قوانین اور  رواجات کو اپنانے کے عمل کو شرک کہیں گے یا کچھ اور؟۔۔۔ ہم اللہ کے احکامات کے ساتھ، انسانوں کی مرضی کے احکامات کو بھی چلانے کا دعوی کرتے ہیں لیکن مغربی جمہوریت اور مغربی تہذیب پہ عمل شوق سے کرتے ہیں اور اسلام پہ عمل مجبوری میں کرتے ہیں۔

غیرمسلم اقوام اور ہم میں یہ فرق واضح ہونا چاہئے کہ ہمارے پاس پہلے ہی زندگی کے ہر پہلو کو گزارنے کے اصول و ضوابط موجود ہیں، ہمیں کسی دوسرے کی پیروی یا نقل کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کریم ، قرآن مجید میں  فرماتے ہیں کہ

"میں نے تمہارے لئے دین اسلام کی صورت میں تم پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں”

ہم  قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کی بجائے مغربی نظام حکومت اور غیر اسلامی ملکوں میں بننے والے دستور کی نقل کرتے ہیں۔ ہمارا تو حال یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے اسلام کی شکل میں باغ عطا کیا ہے جس میں ہر نعمت ہے۔ لیکن ہم نے باغ کے باہر گندگی سے جاکر کھانا ہے، جوہڑ سے پانی پینا ہے  لیکن باغ میں موجود ٹھنڈے چشمے کا پانی نہیں پینا۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کے حکم کے مطابق ہی اس باغ میں رہیں گےاور اللہ کے حکم کے مطابق ہی سب نعمتیں استعمال کریں گے۔ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” ہی ہمارا مقصد حیات ہوگا۔  لاکھوں جانیں اس وعدے پہ قربان ہوئیں۔ لاکھوں عزتیں لٹ گئیں۔ لاکھوں بچے یتیم ہوگئے۔ لیکن جب ہم نے اللہ تعالی سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا تو ہم کیسے کیسے عذاب کا شکار ہوئے ۔ زلزلے آئے، سیلاب کی تباہ کاریاں آئیں،  ٹیکسز کا ناجائز بوجھ، مہنگائی،  بم دھماکے، خودکش حملے، ڈاکہ زنی اور دیگر بے شمار مظالم  کا شکار ہوئے ۔ ذرائع ابلاغ پہ لیبر ڈے،ویلنٹائن ڈے و دیگر دن بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالی کی خوشنودی ملحوظ خاطر نہیں رکھی جاتی۔

جب آپ اللہ کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے میں آمیزش کریں یا تبدیلی کریں تو عین اسلام پہ عمل کا دعوی نہیں رہتا۔ جیسے آج کل ہم دعوی مسلمان ہونے کا کرتے ہیں اور پاکستان کو ایک "لبرل ریاست” بنانا چاہتے ہیں۔ یہ مسلمانی ہرگز نہیں کہ آپ نماز پڑھیں،حج کریں،  دعوی اللہ کی اطاعت کا کریں لیکن جہاں دل چاہا احکامات الہی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی من مانی بھی کرلیں۔ ایسی من مانیوں کو روکنے کا نام "حسینیت” ہے۔ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نےاسلام سے استفادہ کیا ۔ جیسا کہ آج غیرمسلم اسلام کے عطا کردہ اصولوں سے استفادہ کررہے ہیں۔

 ہمیں تب بھی سمجھ نہ  آئی جب ملک کا ایک  حصہ گنوا چکے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقہ میں حکمران تو مسلمان آ گئے لیکن اسلامی نظام حکومت کو نافذ نہ کیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کا ہی ایک حصہ، بعدازاں بنگلہ دیش کے نام سے الگ اسلامی ملک بن گیا۔ بانی تنظیم الاخوان پاکستان، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پہ فرمایا۔

"کتنی عجیب بات ہے کہ اپنے نظام سیاست میں ہمیں اسلام قبول نہیں۔ ہمیں اپنے معاشی نظام میں اسلام قبول نہیں، اپنے عدالتی نظام میں اسلام قبول نہیں۔
اپنے تعلیمی نظام میں اسلام قبول نہیں تو اسلام کیلئے پھر گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔۔۔؟

جبکہ حقیقی عبادت ہی یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں غلبہ اسلام کیلئے جدوجہد کی جائے”

اب دشمنوں کی وطن عزیز پاکستان کو مزید طبقات میں تقسیم کرنے اور توڑنے کی کاروائیاں تیز ہوچکی ہیں۔ کیونکہ وہ اس نظریاتی ریاست کو توڑ کر امت مسلمہ کو مزید کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ جس کیلئے پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان یعنی لسانی، علاقائی، طبقاتی تقسیم کا انسانیت دشمن نظریہ پھیلایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ امت مسلمہ کی جگہ علاقائی قومیت کو فروغ دیا جارہا ہے تاکہ امت مسلمہ متحد نہ ہوسکے اور کوئی بھی ملک عالم کفر اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔

جمہوریت میں اتنے محکمے بنا دئیے جاتے ہیں اور افراد تعینات کئے جاتے ہیں کہ کسی کی فریاد پہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کاروائی کس نے کرنی ہے۔ بالآخر اعلی اختیارات کا حامل صوبائی یا ریاستی سربراہ مداخلت کرے تو کاروائی شروع ہوتی ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!