انگریز دور میں ہندوستان کی معاشی تباہی

انگریز اس علاقے میں کاروبار کرنے آئے تھے لیکن انھوں نے اس علاقے میں کاروباری مواقع نہ ملنے پہ بدعنوانی کے ذریعے لوٹ مار اور بدمعاشی شروع کردی۔ سوتی اور ریشمی کپڑا بنانے والے کھڈی والوں کے انگوٹھے کٹوا دئیے گئے تاکہ انگریزی مال بک سکے۔ برطانیہ میں بنے کپڑے کو ہندوستان میں مقبول بنانے کیلئے ہندوستان کی کپڑے کی صدیوں پرانی صنعت کو بڑی بے رحمی سے تباہ کیا گیا۔ اگر کوئی جولاہا کپڑے بیچتا ہوا نظر آ جاتا تو اس کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا جاتا تھا تاکہ وہ زندگی بھر کپڑا نہ بن سکے۔ 1814ء سے 1835ء تک برطانیہ کے بنے کپڑے کی ہندوستان میں فروخت میں 51 گنا اضافہ ہوا جبکہ ہندوستان سے برطانیہ آنے والی درآمدات صرف چوتھائی رہ گئیں۔ اس دوران ڈھاکہ جو کپڑا سازی کا بڑا مرکز تھا اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے گر کر صرف بیس ہزار رہ گئی۔ گورنر جنرل ویلیم بنٹنک نے 1834ء میں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ معاشیات کی تاریخ میں ایسی بدترین صورتحال کی مثال نہیں ملتی۔ ہندوستانی جولاہوں کی ہڈیوں سے ہندوستان کی زمین سفید ہو گئی ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک ڈائریکٹر ہنری جارج ٹکر نے لکھا کہ ہندوستان کو ایک صنعتی ملک کی حیثیت سے گرا کر ایک زرعی ملک بنا دیا گیا ہے۔ تاکہ انگلستان کا مال ہندوستان میں بیچا جا سکے۔

"یہ بات بڑے افسوس کا مقام رکھتی ہے کہ مغرب نے دولت، مشرق میں قبرو ں کی تعمیر کے ذریعے حاصل کی ہے "

"The Riches of the West were built on the Graves of the East”

مقامی کاریگروں اور کسان کو ٹیکس نے مارا۔ روز مرہ استعمال کی عام اشیاء پر بھی ٹیکس عائد کیے گئے جن میں نمک بھی شامل تھا۔ اس سے نمک کی کھپت آدھی ہو گئی۔ نمک کم استعمال کرنے کی وجہ سے غریب لوگوں کی صحت سخت متاثر ہوئی اور ہیضے اور لو لگنے کی وجہ سے ہونے والی اموات میں بڑا اضافہ ہوا۔ 1947ء تک کی برطانوی حکومت میں ہندوستان نے طاعون، ملیریا اور ہیضے جیسی بدترین وبائیں دیکھیں۔

1765ء میں معاہدہ الٰہ باد طے پایا جس کے نتیجے میں شاہ عالم ثانی نے لگان وصول کرنے کے اختیارات ایسٹ انڈیا کمپنی کو بخش دیئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے راتوں رات لگان  بڑھا کر 50 فیصدکردیا۔ اس سے غربت میں اضافہ ہوا اور آنے والے بُرے وقتوں کیلئے بچت کرنا مشکل ہو گیا۔

اپنی منڈیوں کا تیار مال ہندوستان میں فروخت کرنے کیلئے ہندوستانی صنعتوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی فائدہ حاصل کرنے کی طرف توجہ دی گئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے نقد فصلوں کی کاشت کے بڑے پیمانے پر احکامات جاری کئے۔ جن کو برآمد کرنے کا ارادہ تھا۔ اس طرح کسانوں کو بڑھتی ہوئی دھان اور سبزیوں کی بجائےاب انڈگو، پوست اور اس جیسی دیگر اشیاء کی کاشت کاری کیلئے مجبور کیا گیا جو کے ان کیلئے مارکیٹ میں اعلی قیمت برقرار رکھ سکے نہ کہ بستی میں کھانے کی بھوک مٹانے کا باعث بن سکے۔ قحط کی صورت میں خوردنی فصلوں کا کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ کسانوں کو چاول اور گندم کے بجائے نقد فصلیں (کپاس، نیل) اگانے پر مجبور کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں قحط کے دوران بڑے ہولناک نتائج برآمد ہوئے۔

متاثرہ آبادی کی معاونت کیلئےکوئی اقدامات نہ کئے گئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1768ء  کے مقابلے میں 1771ء میں زیادہ منافع حاصل کیا۔ اگرچہ بنگال میں خوراک کی کمی کی شکار عوام ابھی تک اس بات سے بے خبر تھی کہ یہ قحط انگریزوں کی طرف سے منافع کے حصول کی وجہ سے قائم ہوا۔ زرخیز بنگال اور آسام نے شدید قحط سالی جھیلی۔  دیگر علاقوں میں بھی شدید غذائی قلت پیش آئی۔  بنگال کے قحط  نے کمپنی کے افسران کو امیر بننے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔ چاول جو ایک روپے میں 120 سیر ملتا تھا اب ایک روپے میں صرف تین سیر ملنے لگا۔ ایک جونیئر افسر نے اس طرح 60,000 پاونڈ منافع کمایا۔ ہندوستان میں انگریزوں کے آنے سے پہلے دو ہزار سالوں میں 17 دفعہ قحط پڑا تھا۔ مگر برطانوی راج کےدوران  34 دفعہ قحط پڑا۔ انگریز قحط پڑنے پہ لگان بڑھا دیتے تھے۔ لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھے۔ لوگ روٹی کی خاطر اپنے بچے بیچنے لگے تھے۔

فصلوں کی جزوی ناکامی ہندوستانی کسانوں کی زندگی میں ایک باقاعدہ معمول بن چکا تھا۔ لیکن بڑھتے ہوئے لگان کے ساتھ، اس اضافی سرمائےمیں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔ قحط کے متعلق تمام انتباہ کو ، نوآبادیاتی حکمرانوں کی طرف سے سراسر نظر انداز کیا جاتا رہا۔  ایسٹ انڈیا کمپنی نے قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس) کم کر نے کی بجائے بڑھا کر 60 فیصد کر دیا۔ 1878 ء سے 1880 ء  کے دوران قحط سے نمٹنے کیلئے رقم خرچ کرنے کی بجائے افغانستان سے جنگ پر خرچ کی گئی۔

ونسٹن چرچل جس نے یورپ کو ہٹلر سے بچا یا ۔ 1943 ء کے بنگال کے قحط، جو کہ ایک تہائی آبادی نگل گیا،  کے بارے میں کہا تھا کہ”مجھے ہندوستانیوں سے نفرت ہے۔یہ جنگلی لوگ ہیں اور ان کا مذہب بھی جنگلی ہے۔ قحط ان کی اپنی غلطی ہے کیونکہ وہ خرگوشوں کی طرح آبادی بڑھاتے ہیں”۔ اس نے اس خدشے کے پیش نظر کہ جاپانی برما کی طرف سے ہندوستان میں نہ داخل ہو جائیں، بنگال کا سارا اناج اور طبی امداد یورپ میں برسرپیکار اپنی فوجوں کی طرف بھیج دیا کہ جاپانی فوج کو بنگال میں داخل ہونے پہ غلہ نہ مل سکے۔ جن کے پاس پہلے سے ہی خوراک اور اناج کی امداد موجود تھی ۔ جس کی وجہ سے غلے اور ادویات کی قلت ہو گئی تھی۔ تاہم بنگال کے قحط 1770ء، 1783ء، 1866ء، 1873ء، 1892ء، 1897ء، 1943ء، 1944 ء کے بنگال کے قحط کی وجہ خراب فصل نہیں تھی۔ ہر قحط کے دوران ہونے والی ہلاکتیں اپنے آپ میں مہلک تھا ۔ 1870ء کی دہائی میں موسمی تغیر سے دکن کے علاقہ میں فصلیں نہ ہوئیں۔ قحط اور بھوک کی شدت ہوئی۔ اس کے باوجود برطانوی حکمران وائسرائے لیٹن نے ہندوستان سے گندم برطانیہ برآمد کر دی۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانی ہلاک ہوئے۔ 1771ء کے بعد 1934ءمیں آنے والا قحط مہلک ترین تھا ، جس میں تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور دوسروں کو زندہ رہنے کیلئے گھاس اور انسانی گوشت کا سہارالینا پڑا۔

1977ء میں آنے والا سب سے پہلا قحط بہت خوفناک اور سفاکانہ تھا۔ اتنے بڑے قحط آنے کی پہلی علامات 1759ء میں ظاہر ہوئی۔ جس سے تقریبا دس لاکھ ہندوستانی اموات کا شکار ہوئے۔ جن کی تعداد دوسری عالمی جنگ کے دوران قید یہودیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی ۔ اس قحط نے بنگال کی ایک تہائی آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ جان فسک  کہتا ہے کہ  بنگال میں 1770ء میں آنے والا قحط چودہویں صدی میں یورپ کو دہشت زدہ کر دینے والے سیاہ طاعون سے کہیں زیادہ مہلک تھا۔

ہندوستانی شماریات کے ڈائریکٹر جنرل سر ولیم ہنٹر نے لکھا ہے کہ بھارت میں 4 کروڑ لوگ ایسے تھے جو کبھی بھی اپنا پیٹ نہیں بھر پاتے تھے۔ بھوک اور غربت کے شکار ہندوستانی عوام جسمانی اعتبار سے کمزور ہو کر وباء کا شکار ہونے لگے۔1901ء میں بیرون ملک سے آئے طاعون کی وجہ سے 2 لاکھ 72 ہزار ہندوستانی لقمہ اجل ہر گئے۔ 1902ء میں 50 لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ 1903ء میں 8 لاکھ ہندوستانی ہلاک اور 1904ء میں 10 لاکھ بھارتی بھوک، غذائی قلت اور طاعون جیسی وبا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ 1918ء میں 12 کروڑ 50 لاکھ افراد بیماری کے شکار ہوئے، جن میں سے سوا کروڑ لوگوں کی موت سرکاری طور پر درج ہوئی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1800ء میں بنگال میں زمینوں کا ٹیکس وصول کرنے کیلئے ایک نئے قانون کے تحت ایک نیا زمینداری نظام شروع کیا جو بندوبست دوامی (Permanent Settlement) کہلاتا ہے۔ اس نظام میں زمینداروں کے اختیارات میں بڑا اضافہ ہو گیا۔ ٹیکس چونکہ بڑھ گیا تھا اس لئے کسانوں پر بوجھ بھی بڑھ گیا۔ جس نے ایک دفعہ زمین حاصل کر لی اب وہ اور اسکی اولادیں اس زمین کی مالک تھیں بشرطیکہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک سورج غروب ہونے سے پہلے اگلے سال کیلئے اتنا ہی ٹیکس حکومت کے خزانے میں جمع کروا دیا کریں۔ ایک دن کی بھی دیر ہونے سے انکی زمینداری کے حقوق ضبط ہو جاتے تھے اور زمین دوبارہ نیلام ہو جاتی تھی۔ کسانوں سے وصول کی گئی رقم میں سے 89 فیصد حکومت کا حصہ ہوتی تھی اور 11 فیصد زمیندار کا۔ سیلاب، قحط یا دوسری کسی آفت کی صورت میں بھی ٹیکس کم نہیں ہوتا تھا۔ اس نظام نے ایک طرف کسان طبقے کو کچل کر رکھ دیا اور دوسری طرف حکومت کے وفادار زمینداروں کی تعداد میں بڑا اضافہ کیا۔

ایڈمنڈ بروک نے یہ بات واضح کہی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلسل دولت لوٹی جس وجہ سے ہندوستان بدقسمتی کی گہرائی میں جاگرا۔ مورخ و مفکر ول ڈیورانٹ کی نادر کتاب "The Case for India” میں انگریزوں کی طرف سے بھارت کی لوٹ ہی نہیں، بلکہ ہندوستان کی قدیم رسوم و روایات، علم اور کردار پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کے حقائق بھی بیان کرتی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بھارت صرف ایک قوم ہی نہیں تھا، بلکہ تہذیب، ثقافت اور زبان کے حوالہ سے دنیا بھر میں خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ علم اور صنعت و تجارت کا ایسا کوئی میدان نہیں تھا جس میں ہندوستان نے نمایاں مقام نہ حاصل کیا ہو۔ خواہ وہ ٹیکسٹائل ہو، زیورات سازی اور جواہرات کی دریافت ہو، شاعری اور ادب کا میدان ہو، ظروف سازی اور عظیم تعمیرات کا میدان ہو یا سمندری جہاز کی تعمیر ہو، ہر میدان میں ماہرین موجود تھے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!