انگریز دور حکومت

مسلمانوں کی حکومت برصغیر ہندوستان پہ تھی۔ جس میں برما سے لے کر دکن پھر ہمالیہ تک مسلمان حکومت کررہے تھے۔ جب انگریز ہندوستان آئے تو انہوں نے اس ملک کو سیاسی اعتبار سے کمزور لیکن معاشی طور پہ انتہائی خوشحال پایا۔

"تہذیبی لحاظ سے برصغیر جیسی قوم میں نے پوری دنیا میں نہیں دیکھی۔ میں نے برصغیر کے وسیع وعریض علاقوں کا دورہ کیا۔مگر یہاں اتنی خوشحالی تھی کہ مجھے ایک بھی فقیر نظر نہ آیا۔
 اس کو بربادکرنے کاایک ہی ذریعہ ہےکہ یہاں کی عوام کو غلام بنانے کےلئےایک غیرملکی زبان لاد دی جائے۔ جس سے غلاموں کی وہ کھیپ تیارہوگی جو رنگ ونسل میں ہندوستانی مگر اپنے افکار میں غلام ہوگی” ۔
لارڈ میکالے

جبکہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ انگریز ہندوستانی عوام کا نجات دہندہ تھا۔ کیونکہ یہاں کے حکمران عوام کو جاہل اور غریب رکھے ہوئے صرف عیاشیاں کر رہے تھے۔

1700ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی، جو جوہن کمپنی کے نام سے شروع ہوئی تھی، جب ہندوستان میں آئی تو انہوں نے ملکہ برطانیہ کو لکھ بھیجا کہ ہندوستان سونے کی چڑیا ہے۔ کاریگر نہایت ہنر مند ہیں، اس لئے ہماری مصنوعات کا یہاں بکنا ناممکن ہے۔ امن و امان، عدل و انصاف ہے۔شاعری، مصوری،  فنِ تعمیر  و دیگر علوم کی ہر چھوٹی بڑی ریاست اور صاحبِ ثروت خود ترویج اور سرپرستی کرتے ہیں۔ مختلف زبانوں اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ اسی فیصد سے زائد آبادی پڑھی لکھی ہے۔ بھوک افلاس نہیں ہے۔ بہترین طبیب، حکماء میسر ہیں اور مقامی جڑی بوٹیوں سے علاج میں ماہر ہیں۔آج طبی، آیور ویدیک اور حکیمی نسخے ان کے پسندیدہ ہیں، جنھوں نے ہمیں فارماسیوٹیکل اور کیمیکل پے لگایا۔

انگریزوں نے ہندوستان پہ قبضے کی منصوبہ بندی اٹھارہویں صدی میں بنانا شروع کی۔ اس کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ جمانے کیلئے دو حربے استعمال کئے۔ پہلا یہ کہ بااثر اور اہم عہدوں پہ فائز اہلکاروں کو رشوت سے قابو کرو اور دوسرا یہ کہ عوام کے درمیان پھوٹ اور نفرت پیدا کرکے انھیں تقسیم کرو اور ان پہ حکومت کرو۔سلطنت مغلیہ کے عہد میں جب انگریزوں نے سرزمین ہند پر تجارتی مقاصد کے تحت قدم رکھا تو سہولتیں حاصل کرنے کیلئے ہندوستان کے امراء اور حکام کو پیسے دیا کرتے۔ ساہوکاروں کو رقم دے کر ان سے وہ سب حاصل کر لیتے تھے جو انہیں مطلوب ہوتا۔ انگریز ہندوستانیوں کو رشوت دے کر اپنے ہی ملک کے سے غداری کرنے پر آمادہ کرتے۔ کچھ راضی ہو جاتے اور کچھ انکار کرتے۔ انہوں نے مکمل منصوبہ بندی سے ہندوستان میں بدعنوانی کو فروغ دیا اور ہندوستان کو غلام بنائے رکھنے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ہندوستان میں بدعنوانی اور غربت انگریزوں کی آمد سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ درحقیقت غربت، عمومی سیاست، بدانتظامی اور بدعنوانی انگریزوں کی پیداوار ہے۔

مذہبی تفرقہ بازی  بھی انگریز دور کی ایجاد ہے ۔ تاکہ "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے تحت ان کو آپس میں اکٹھے نہ ہونے دیا جائے۔ ہندوستان چھوڑتے وقت انگریزوں نے یہاں مذہبی منافرت کا بازار گرم کیا اور مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں بانٹنے میں نئے فرقوں سے تعاون کیا۔

ہندوستانیوں میں روایات و ثقافت سے نفرت، جڑی بوٹیوں سے علاج سے نفرت، یہاں کی مصنوعات سے نفرت، حکمرانوں سے نفرت، فوری عدل و انصاف سے نفرت پیدا کی جائے۔ اس کیلئے مقامی غدار پیدا کئے گئے اور اپنے لوگ یہاں تعینات کرکے اس لائحۂ عمل پر کام شروع کیا گیا۔

انگریزوں نے مدراس، کلکتہ اور ممبئی میں ہندو حکمرانوں سے تجارتی چوکیاں کرائے پر لیں اور بغیر اجازت وہاں اپنی فوجیں تعینات کیں اور توپیں نصب کیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اگرچہ ایک تجارتی کمپنی تھی مگر ڈھائی لاکھ سپاہیوں کی ذاتی فوج رکھتی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں اکثر مقامی حکمرانوں کو اجرت کے عوض فوجی خدمات فراہم کرتی تھیں۔ لیکن ان فوجی اخراجات سے مقامی حکمران جلد ہی کنگال ہو جاتے تھے اور اپنی حکمرانی کھو بیٹھتے تھے۔ جہاں تجارت سے منافع ممکن نہ ہوتا وہاں فوج اسے ممکن بنا دیتی۔

 1756ء میں جب نواب بنگال سراج الدولہ نے اس کی مخالفت کی اور انگریزوں کے قلعہ فورٹ ولیم پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ ایک سال بعد رابرٹ کلائیو نے پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ (جو فرانس کا اتحادی تھا) کو شکست دے کر اس پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد کمپنی کے اعلیٰ ترین افسران نے بنگال میں یکے بعد دیگرے کئی نواب مقرر کئے اور ہر ایک سے رشوت لے کر 26 لاکھ پاونڈ کے قریب بٹور لئے۔ اور ایک نواب کو دوسرے سے لڑا کر لوٹ اور رشوت ستانی کا بازار گرم رکھا۔ صرف ایک سال میں کلائیو نے 11 لاکھ 70 ہزار رشوت لی اور 1 لاکھ 40 ہزار سالانہ نذرانہ لینا شروع کیا۔ تحقیقات میں اسے مجرم پایا گیا، لیکن برطانیہ کی خدمت کے بدلے اسے معافی دے دی گئی۔ ول ڈیورانٹ لکھتے ہیں کہ بھارت سے 20 لاکھ کا سامان خرید کر برطانیہ میں ایک کروڑ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ انگریزوں نے نواب اودھ کو اپنی ماں اور دادی کا خزانہ لوٹ کر 50 لاکھ دینے پر مجبور کیا پھر اس پر قبضہ کر لیا اور 25 لاکھ میں دوسرے نواب کو فروخت کیا۔ اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کی سلطنت وسیع ہوتی چلی گئی۔ انگریزوں  نے دو عظیم جنگیں لڑیں جس کا ایندھن ہندوستان بنا۔

قابل ہندوستانی افراد کو مناسب منصب سے بھی محروم رکھا جاتا۔ حکومت محض اخبارات و رسائل ہی کو خریدتی تھی جو سرکار انگلشیہ کی تعریف کیا کرتے تھے۔انگریزی زبان کو فروغ دینے اور استعمار کو مستحکم کرنے کیلئے ہندوستان کے تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے۔ انگریز نے آتے ہی یہاں کا تعلیمی نظام مکمل تباہ کیا۔  ہند میں عربی اور فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کی اہمیت حکومتی اور دفتری سطح پہ ختم ہوگئی اور یہی ظلم آج تک روا رکھا گیا ہے۔ 1911ء میں گوپال كرشن گوکھلے نے پورے ہندوستان میں ہر بچے کیلئے لازمی ابتدائی تعلیم کا بل پاس کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کوشش کو انگریزوں نے ناکام بنا دیا۔ 1916ء میں اس بل کو دوبارہ لانے کی کوشش کی گئی، تاکہ تمام ہندوستانیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے، لیکن اسے بھی ناکام بنا دیا گیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!