انتخابات

اس وقت جمہوری نظام صرف اور صرف ایک چیز پر قائم ہیں اور وہ ہے رائے یعنی ووٹ۔ اس نظام کی بنیادی اکائی ایک ووٹر یعنی رائے دینے والا ہے۔ تصور یہ عام کیا گیا ہے کہ اسی کے ووٹ سے حکومت کا نظام کار چلتا ہے۔ عوامی حمایت کا معیار بھی ووٹوں کی تعداد سے تعلق رکھتا ہے۔ برسراقتدار آنے والا طبقہ جو اچھائی اور برائی کرے گا اس کا خمیازہ اس ووٹ دینے والے کو ہی بھگتنا ہوگا اور یہ سب کچھ اس لیے خاموشی سے برداشت کرنا ہوگا کہ اسی نے تو رائے یا ووٹ دے کر ان لوگوں کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا تھا۔

تاریخ اسلامی یہ بتاتی ہے کہ مجلس خاص میں حضرت عثمان اور حضرت علی میں سے خلیفہ کے انتخاب کیلئے سب سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن عوف نے مدینہ منورہ کے باسیوں سے رائے لی تھی۔ ہرشخص نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے سامنے برملا اپنی رائے کا اظہار  کیا اور کوئی خفیہ رائے نہیں لی گئی تھی۔

 نظام سیاست اسلامی میں کسی نمائندے کا انتخاب ایک مذہبی ذمہ داری ہےاور توازن کیلئے ایمانداری کا متقاضی ہے۔ اسلامی تاریخ میں خفیہ نصرت اور رائے دہی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اپنے موقف کو واضح اور دو ٹوک ہر ایک کے سامنے رکھنا چاہئے۔ برائی کو برائی اور اچھائی کو اچھائی کہنے میں بے تکلف ہونا قرون اولی کے اکابرین سے ہی ہر سطح پہ ثابت ہے۔ انتخاب کا عمل اصل میں ایک گواہی ہے کہ میں فلاں شخص کو اس ذمہ داری کے قابل سمجھتا ہوں اور جو معیار اس انتخاب کیلئے مقرر کئے گئے ہیں، ان پہ یہ شخص میرے علم کے مطابق پورا اترتا ہے۔ اگر انتخاب کرنے والے حضرات اپنی رائے کا صحیح استعمال کریں تو ہی حکومت صحیح تشکیل پا سکتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔

"اور تم گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص اس گواہی کو چھپائے، اس کا دل گناہ گار ہوگا”

سرکار العالمین ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

"نصرت کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ تعالی اسے برسر عام رسوا کرے گا”

جھوٹی گواہی کو نبی کریمﷺ نے اکبر الکبائر میں شمار کرکے اس پر سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں۔ اس سے اندازہ کریں کہ رشوت لے کر ووٹ دینا تو بہت ہی بڑا گناہ ہوگا۔ شرعی نقطہ نظر سے ووٹ دینے کی حیثیت شہادت، گواہی کی سی ہے اور جس طرح جھوٹی گواہی دینا حرام اور ناجائز ہے اسی طرح ضرورت کے مطابق شہادت کو چھپانا بھی حرام اور ناجائز ہے۔ ایک حدیث مبارکہ روایت ہے کہ

"کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ بہترین گواہ کون ہے؟۔۔۔
وہ شخص جو اپنی گواہی کسی کے مطالبہ سے پہلے ہی ادا کردے”

امیر تنظیم الاخوان پاکستان، حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پہ فرمایا۔

"ووٹ کیا ہے۔۔۔؟
 ووٹ اس بات کی ضمانت ہے کہ میں جس آدمی کی تائید کر رہا ہوں، یہ دیانتدار نیک صحیح العقیدہ مخلص مسلمان ہے۔
دوسرا یہ اس بات کی تائید ہے کہ جس عہدے، جس رتبے کیلئے میں اسے ووٹ دے رہا ہوں، اس میں یہ کام کرنے کی اہلیت بھی ہے۔
 اس کیلئے ہم اللہ کے روبرو آج بھی اور میدان حشر میں بھی جواب دہ ہوں گے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!