انتخابات کیلئے امیدوارن کی اہلیت

انتخابات کیلئے امیدواران کی قرآن مجید میں بنیادی ذمہ داریاں چار طرح سے واضح کی گئی ہیں۔

"اقامت صلوۃ”، "ایتائے زکوۃ”،  "امر بالمعروف”، "نہی عن المنکر”

جو جتنی بہترین سطح پہ ہو اتنا اس پہ ذمہ داریوں کا بار زیادہ ہو۔ جس میں درج ذیل معاملات کو ملحوظ رکھا جائے۔

  1.  دین کا علم اوردین سے  لگاؤ           امیدوار ، جس کو تجویز کنندہ اور تائید کنندہ نامزد کررہے ہیں۔ ان سب کو دین کا کس قدر علم ہے۔نماز کی پابندی کس قدر کرتے ہیں۔المختصر متقی ہوں۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اور نظریہ پاکستان کی بنیاد دین اسلام ہے۔اس لئے دین کا علم اور دین سے لگاؤ کو جز وقتی انٹرویو کے ذریعے ہی کافی نہ سمجھا جائے بلکہ باقاعدہ تعلیمی قابلیت ، اور تجربے کے علاوہ ، امام یا خطیب یا  عالم کی تصدیق بھی ضروری ہوں۔
  2. زکوۃ و عشر کی ادائیگی اور شفافیت    امیدوار اور تجویز کنندگان اور تائید کنندگان کے اس معاملے کا اندازہ مالیات کی شفافیت سے  لگایا جائے۔ ضروری نہیں کہ وہ بہت زیادہ زکوۃ یا عشر یا صدقات ، بیت المال میں جمع کرواتے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ صاحب نصاب ہی نہ ہوں لیکن امیدواران / تجویز کنندگان / تائید کنندگان کے آڈٹ اور زکوۃ و عشر کی ادائیگیوں سے اندازہ لگایا جائے۔
  3. تعلیمی قابلیت اور تجربہ               امیدوار کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ کو مدنظر رکھا جائے۔ لیکن اس معاملے میں امیدوار کی اسناد اور  اساتذہ کی رائے یا سرٹیفکیٹ ہی اس کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ کی ترجمانی کریں۔ تجویز کنندگان اور تائید کنندگان کس کس کونسل کے رکن ہیں اور تعلیمی قابلیت کیا ہے۔
  4. انتظامی اور قائدانہ  صلاحیتیں         ماہر نفسیات اندازہ لگائیں کہ اعصابی  طور پر امیدوار کتنا مضبوط ہے اور قائدانہ صلاحیتیں کس قدر ہیں۔ کیا اس میں صلاحیت ہے کہ یہ اپنے محلہ / شہری کونسل / ضلع کونسل یا مجلس شوری یا متعلقہ شعبہ میں کچھ کرسکے گا۔ ہر کام کے کرنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے  اور متعلقہ منصب سے متعلقہ افراد کو اعتماد میں ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔  انتظامی صلاحیتوں کا حامل فرد ہی یہ کام کر سکتا ہے ۔ ہر فرد کی انتظامی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔امیدوار کے تجربہ کے ذریعے امیدوار کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
  5. عسکری  علم                 کسی وقت اگر افراتفری یا لڑائی کا معاملہ آجائے تو دفاعی یا جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو بلکہ عسکری امور سے واقفیت  ہونا چاہئے۔
  6. عادل اور فیصلہ سازی کی صلاحیت    اگر کوئی معاملہ یا مسئلہ نمائندہ کے سامنے فیصلے کیلئے آجائے ،تو فیصلہ سازی کی کس قدر صلاحیت کا حامل ہے۔ معاملے کی سنگینی اور معاملے کی اصل تک پہنچنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔   فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ، کیا اس امر سے واقف ہے کہ کیسے اس پہ عمل درآمد کروانا ہے۔
  7. صادق و امین                امیدوار صادق و امین ہو اور تجویز کنندگان / تائید کنندگان کس حد تک صادق و امین ہیں اور کیا وہ تجویز و تائید کا اختیار رکھتے ہیں؟۔۔۔ ان کا کردار کیسا ہے؟۔۔ ۔یہ سب لوگ سچ بولتے  ہوں۔ کسی کا حق نہ مارا ہو،کسی کی جگہ پہ قبضہ ، جھوٹے مقدمات ، کسی کو پریشان کرناوغیرہ کا ریکارڈ دیکھا جائے۔کسی گناہ کبیرہ  کے ارتکاب کی کوئی مثال موجود نہ ہو۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رپورٹ لی جائے۔ اگر کسی موقع پہ بھی فتنہ یا فسادات کا باعث بنا ہو تو وہ امیدوار یا تجویز کنندہ یا تائید کنندہ بھی بننے کا اہل نہیں ہونا چاہئے۔
  8.  عہدے کا لالچ            حضرت ابو موسی سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس مع اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے حاضر ہوا۔ پس ایک نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ  ہم کو اپنے مقبوضہ بعض ملک پر حاکم بنا دیجئے۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ

” واللہ ہم یہ کام کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کریں گے جو  اس کا سوال کرے گا یا اس کا خواہش مند ہوگا”۔ بخاری و مسلم

حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے ایک سپہ سالار کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا۔

اللہ کے رسولﷺنے فرمایا
  "جو کوئی مسلمانوں کا حاکم مقرر ہو اور ان پر بعد استحقاق ، محض رعایت کے طور پر کسی کو افسر بنادے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اللہ اس کا کوئی عذر اور فدیہ اس معاملے میں قبول نہ فرمائے گا۔ یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کرے گا”

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ امیدوار کسی لالچ کے تحت اپنے آپ کو پیش نہیں کررہا۔ جیسا کہ حضرت علیؓ  نے خلیفہ بننے کے بعد فرمایا۔

” اللہ کی قسم نہ تو مجھے خلافت کی کبھی خواہش تھی اور نہ ولایت کی حاجت۔ لیکن تم لوگوں نے مجھے اس کی طرف بلایا اور یہ بوجھ مجھ پر لاد دیا۔” نہج البلاغہ خطبہ ۲۱۵

آپ کے اس خطبہ کے الفاظ ، "خلافت اور کبھی "خاص طورپر قابل غور ہیں۔اور پھر اس پر اللہ کی قسم کی تاکید مستزاد ہے۔ اس سے وہ تمام افسانے جو حضرت علیؓ   سے منسوب ہیں غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اس بات کا ہر طرح سے یقین کیا جائے کہ "سربراہ مملکت” ، "وزراء”، "گورنرحضرات”، "وفاقی اور صوبائی مجالس منتظمہ کے اراکین”، "امیر” اور”ناظم” اور” نمائندگان” کسی صورت بھی ان عہدوں کی باگ دوڑ میں شامل تو نہیں یا خواہش تو نہیں رکھتے۔ ان سب سلامتی اور فلاح کے امور کا تعلق محکمہ انتخابات کے دائرہ کار سے متعلق ہے۔

"عبداللہ بن  عباس کے پاس ایک شخص آیا اور ایک لاکھ دے کر ایلہ کی حکومت کا طالب ہوا۔ آپ نے اس کو سو کوڑے لگوائے اور عبرت و تعزیر کیلئے سولی پر چڑھا دیا”۔ احکام السلطانیہ ۲۸۳

کیونکہ اس میں حکومت کی طلب کے علاوہ اس نے رشوت دینے کی بھی کوشش کی۔ حضرت عثمان غنی اور حضرت علی کی شہادت بھی اقتدار کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے ہوئی۔ اس لئے اقتدار کی خواہش کرنے والے کی کڑی سزا ہونی چاہئے۔ جو شخص حکومت کی ذمہ داریوں  سے بھاگتا ہو  لیکن اس شخص میں اہلیت ہو، وہ زیادہ اپنے عہدے سے انصاف کرے گا۔ایسے شخص کو منصب دینا چاہئے۔

عہدوں کی حساسیت کے حساب سے چھانٹی مزید سخت ہوتی جائے۔اس چھانٹی میں غفلت یا رعایت برداشت نہ کی جائے، چھانٹی کیلئے محکمہ انتخابات مناسب وقت لے اور  غفلت یا رعایت  ثابت ہو جانے پرذمہ داران کو حکومت سخت سزا دے۔ ایسی چھانٹی کے بعد ایسے لوگوں کا رفاہی کاموں اور حکومت  میں داخلہ بند کردیا جائے، جو کسی طرح سے بھی ریاستی مفاد میں نہ ہوں۔ جس فرد کے خلاف جھوٹ یا قومی پالیسی کے خلاف بیان یا بہتان   ثابت ہو جائے اس کو انتخابات میں نہ صرف حصہ لینے سے روکا جائے بلکہ وہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے بھی اہل نہ رہ سکے۔ اگر ان کا رویہ بدستور فسادی اور انتشاری ہی رہے توبعد ازاں ایسے عناصر کے ووٹ/رائے  دینے کے حق کو بھی ضبط کر لیا جائے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پہ سخت پابندی لگائی جائے، کسی خطرے کی صورت میں قید کردیا جائے۔ حضرت علی نے باغیان کے قتل کی تجویز حضرت عثمان غنی کو دی تھی جو کہ آپ نے مسترد کردی۔ حضرت علی کی رائے سے ثابت ہوتا ہے کہ امیر کے پاس بغاوت یا ریاست کے خلاف انتہائی اقدامات کو کچلنے کا اختیار ہے اور وہ ایسے فسادی اور انتشاریوں کے قتل کا حکم صادر کرسکتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!