انتخابات میں امیدوار کی تجویز و تائید

اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق سب سے اہم کام کسی فرد کا نام تجویز کرنا اور پھر تائید کرنا ہے۔ بہترین امیدواران کا نام تجویز اور تائید کرنا ایمانداری کا متقاضی ہے۔ ایماندار لوگوں کے انتخابات سے الگ ہوجانے کی صورت میں کبھی بھی یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ متقی لوگ حکومت میں آئیں گے۔  بہترین اور قابل فرد کا نام تجویز کرنا  وہ ذمہ داری ہے جو خلفاء راشدین کے دور سے ثابت ہے۔ کبھی بھی کسی امیدوار کا نام عام عوام  تجویز نہ کرسکتے تھے۔ امور ریاست و حکومت سے واقف اور تجربہ کار صحابہ اکرام، اہل شوری و اہل بدر ہی نام تجویز کرتےتھے۔ اور پھر ان کی تائید یا تردید شوری کے افراد سے ہی لی جاتی تھی۔

حضرت ابوبکر صدیق کا نام حضرت عمر فاروق نے بطور خلیفہ تجویز فرمایا۔ حضرت عمر فاروق بدری صحابی تھے اور نبی کریمﷺ کے اہل شوری میں سے بھی تھے۔ جس پہ انصار و مہاجرین کے اکابر و اہل شوری نے اتفاق کیا۔ اہل شوری کے مابین ہی معاملہ طے پاجانے کی وجہ سے عوامی رائے نہ لی گئی۔ ایسےہی حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر فاروق کا نام مجلس خاص کے دو اراکین کو تجویز کیا اور مشاورت فرمائی۔ ان حضرات کی تائید کے بعد اہل شوری سے رائے لی۔ لیکن چونکہ کوئی اور امیدوار نامزد نہ تھا اس لئے عوامی رائے نہ لی گئی۔

حضرت عمر فاروق نے چھ افراد کے نام  تجویز فرمائے کہ یہ افراد خلیفہ بننے کے اہل ہیں اور اپنے میں سے کثرت رائے سے انتخاب کریں۔ ایک اکابر حضرت عثمان غنی کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ ایک اکابر حضرت علی کے حق میں دستبردار ہوگئے اور ایک اکابر حضرت عبدالرحمن بن عوف کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف  دونوں  کے حق میں دستبردار ہوگئے اور ان کے مابین فیصلہ کرنے کا ان سے اختیار حاصل کرلیا۔ جس پہ انھوں نے عوامی رائے کے ذریعے فیصلہ کیا۔ مدینہ منورہ میں موجود مرد و خواتین سے رائے لے کر فیصلہ کیا۔ جن افراد نے حضرت علی کے حق میں رائے دی تھی انھوں نے بھی حضرت عثمان کی بیعت کی اور اطاعت کی۔ حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد  اہل مدینہ نے حضرت علی کو خلافت کا منصب سنبھالنے کا کہا۔جس پہ آپ نے فرمایا۔

"یہ معاملہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ تو اہل شوری اور اہل بدر کا کام ہے۔ اب جس کو بھی اہل شوری پسند کریں گے، وہی خلیفہ ہوگا۔ لہذا ہم جمع ہونگے اور اس بارے میں غور کریں گے”

یعنی حضرت علی نے عوامی تجویز و  تائید کو مسترد کیا اور تجویز و تائید کو اہل شوری و اہل بدر کی ذمہ داری بیان فرما کہ اصول واضح فرما دیا اورآپ کا خلیفہ بننا اہل شوری کی  تائید سے ہی ممکن ہوا۔ لیکن حضرت علی نے واضح فرما دیا کہ کسی کو خلافت کیلئے نامزد یا تجویز کرنا بھی عوام کا کام نہیں۔ بلکہ یہ اہل شوری کا کام ہے اور انھی کی تجویز و تائید سے امیر مقرر ہوسکتا ہے۔

کسی کو تجویز کرنا یا تائید کرنا گواہی کے زمرے میں ہی آتا ہے کہ یہ شخص اس ذمہ داری کو ادا کرنے کا اہل ہے ۔ قرآن و سنت کے تمام احکام اس پر بھی جاری ہوتے ہیں کہ رائے کا زیادہ سے زیادہ صحیح استعمال کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ ویسے بھی یہ معاملہ غور طلب ہے کہ اگر دین دار، شریف النفس اور ایماندار لوگ انتخابات کے تمام معاملات سے الگ ہو کر بیٹھ جائیں گے تو بے دینی کو فروغ ملے گا۔ اس لئے تجویز کنند گان اور تائید کنندگان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔

مقامی نمائندہ کے انتخاب کیلئے بہتر سے بہتر فرد کو تجویز کیا جائے جو کہ متعلقہ وارڈ یا محلہ کے بزرگ، سنجیدہ اور باعلم اور باعمل بزرگ تجویز فرمائیں۔ ایسے ہی منتخب شدہ مقامی نمائندگان، ضلع کے نمائندے کیلئے نام  تجویز کریں اور اگر وہ کسی ایک پہ اتفاق کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو معاملہ حل ہوگیا ورنہ  بہترین دو افراد کے بارے میں عوامی رائے لے لی جائے کہ کون ضلع کی نمائندگی کرنے کا بہترین حق دار ہے۔ بنیادی طور پر وہ لوگ اپنے مقامی علاقے یا ضلع کے نمائندہ مقرر ہورہے ہیں اور اس علاقے کے لوگ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ ان میں قیادت کی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔

ضلعی سطح پہ تمام شعبوں کے نمائندگان کا چناؤ، ان کے شعبے میں مہارت کی بناء پہ  اور انتخابات کے ذریعے ہی کیا جائے۔ ڈاکٹرز کا نمائندہ ڈاکٹر ہی ہو۔ صحافیوں کے نمائندے صحافی ہوں۔ تاجروں کے نمائندے تاجر، لیکن یہ صرف ضلعی سطح پہ ہی ہوں۔ ضلع سے نیچے ایسی کوئی تنظیم سازی نہ ہو۔ کوئی گروپ بندی یا یونین یا جماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے۔ قابلیت اور صالحیت کی بنیاد پہ انتخابات ممکن بنائے جائیں۔

عمر کی حد مقرر کرنے کی بجائے بلوغت اور شعور کو ووٹ دینے کی صلاحیت مقرر کیا جائے۔ کسی سطح پہ کوئی جماعت یا گروہ یا گروپ نہ بنایا جائے۔ ہر سطح پہ غیر جماعتی انتخابات ہوں۔ صرف صالح اور موزوں نمائندگان کا چناؤ یقینی بنایا جائے۔

حکومتی مناصب کی طلب ناجائز ہے اور پاکستان میں تجویز کنندہ اور تائید کنندہ والا طریقہ جائز اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔ سب سے اہم یہ بھی ہے کہ امیدوار کو تجویز کنندگان اور تائید کنندگان ہی امیدوار نامزد کررہے ہیں اور وہ سمجھتے ہوں کہ یہ شخص ان صلاحیتوں کا حامل ہےاور اس قابل ہے کہ وہ متعلقہ ذمہ داریوں کو پورا کرسکتا ہے۔ امیدوار کی اہلیت کیلئے لازمی ہے کہ امیدوار اس عہدے کی خواہش نہ رکھتا ہو لیکن تجویز کنندہ جانتا ہو کہ اس شخص میں ذمہ داری نبھانے کی اہلیت ہے اور تائید کنندہ اس بات کی تصدیق کررہے ہوں کہ تجویز کنندہ کی رائے درست ہے۔ یہ بھی شہادت دینا ہی ہے اور انتخاب سے پہلے یہ شہادت زیادہ ذمہ داری کی حامل ہے۔ یہ پہلا معیار ہے اہلیت و قابلیت کا۔ اس لئے پہلا مواخذہ تجویز اور تائید کنندگان کا ہونا چاہئے۔ امیدوار کی نامزدگی سے قبل ہی تجویز کنندگان اور تائید کنندگان سے دریافت کیا جائے کہ وہ کیوں اس شخص کو اس ذمہ داری کے اہل سمجھتے ہیں؟۔۔۔ تجویز کنندگان اور تائید کنندگان سے بھی پوچھا جائے کہ کن ذمہ داریوں کےلئے اس شخص کا چناؤ ہورہاہے اور وہ کیسے سمجھتے ہیں کہ یہ شخص اس ذمہ داری کیلئے موزوں ہے؟۔۔۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!