سربراہ مملکت، امیر کے اختیارات

سربراہ مملکت کو وسیع اختیارات ہوتے ہیں۔

"امیر ریاست کو قرآن و سنت کے مطابق چلانے کا پابند ہوتا ہے اور انھی حدود و قیود میں رہ کر وہ کوئی بھی فیصلہ لے سکتا ہے۔ جس کی تائید امت مسلمہ پہ لازم ہے”

امیر میں اپنے احکامات کو نافذ کرنے کی جرات ہونا چاہئے۔ قانون کو قوت سے نافذ کرنا جبر نہیں ہوتا۔ امیر کے اختیارات کی تین قسمیں ہیں۔

۱)      انتظامی اختیارات :

امیر کے انتظامی اختیارات کا دائرہ بہت وسیع ہے وہ ہر محکمہ کا افسر اعلیٰ ہے، بڑے سے بڑے عہدیدار کو معزول کرسکتا ہے، اس کی نافرمانی ،سیاسی جرم ہونے کے علاوہ دینی وروحانی جرم بھی ہے، جس کی سزا آخرت میں بھگتنی پڑے گی لیکن ان وسیع اختیارات کے باوجود امیر کیلئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی حکم یا فیصلہ شریعت اسلامیہ سے متضاد نہ ہو۔

آج کل کے دور میں انتظامی امور کو دو حصوں میں منقسم کردیا گیا ہے۔ سیاسی انتظامیہ اور غیر سیاسی انتظامیہ۔ سیاسی انتظامیہ، عوامی نمائندگان کی صورت میں تشکیل دی جاتی ہے۔ جبکہ غیرسیاسی انتظامیہ حکومتی ملازمین کی صورت میں ہوتی ہے۔ جبکہ اسلامی سیاسیات کی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ  سربراہ مملکت،  وزیر کا عہدہ کسی بھی سرکاری ملازم یا غیر سرکاری ملازم  کو اس کی علم و فراست، انتظامی مہارت اور اپنے شعبے میں تجربے کی بنیاد پہ دیتے تھے۔ جس کا مقصد بادشاہ کی معاونت ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی حکومتوں میں فوج کے سپاہی ترقی کرکے، فوج کے سپہ سالار اعظم بھی بنے اور پھر امور ریاست بھی ان کو امرائے سلطنت نے سونپ دئیے۔ قاضی حضرات بھی سربراہ مملکت بنے۔

امیر کو درج ذیل انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔

  1. ضوابط بنانے کا اختیار۔
  2. ماتحتوں کی کاروائی کی منظوری ونامنظوری اور انہیں حکم دینے کا اختیار۔
  3. نصب وعز ل کا اختیار بشمول سپہ سالار اعلی و قاضی القضاء و صوبائی سربراہان و دیگر تمام شعبہ جات۔
  4. احتساب ومواخذہ کا اختیار۔
  5. جنگ اور صلح کا اختیار۔
  6. مشورہ لینے اور اسے رد کرنے کا اختیار۔
  7. استصواب اور تفتیش کا اختیار۔

۲)     قانونی اختیارات :

امیر کو مجلس شوری میں اپنی جانب سے کوئی بھی مسودہ پیش کرنے کا اختیار ہے کہ جس پر مجلس شوری غور کر کے اپنی رائے دے۔

  1. ہنگامی قانون سازی کا اختیار۔
  2. عمومی اورخصوصی نگرانی۔
  3. بین الاقوامی مسائل میں حکمت عملی وضع کرنا۔

۳)     عدالتی اختیارات :

          سربراہ مملکت عدلیہ کا سربراہ بھی ہے۔

  1. اعلی عدالتوں میں قاضی القضاۃ کاتقرر۔
  2. امیر کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے اسے ہرمقدمہ کی اپیل اور سماعت دونو ں کا اختیار ہے۔
  3. عدالتی ضوابط کااختیار۔
  4. فوری انصاف کی فراہمی۔

اسلامی حکومت کی سب سے بڑی عدالت خود خلیفہ کی عدالت ہے۔ اسے ہر مقدمہ کی اپیل اور ابتدائی سماعت دونوں کا اختیار ہے۔ بشرطیکہ اس میں اس کی قابلیت اور صلاحیت ہو۔ قانون اسلامی سے اعلی درجہ کی واقفیت اس شرط کی تکمیل کیلئے شرط اولین ہے۔ ورنہ امیر قاضی القضاء/چیف جسٹس/ مفتی اعظم  یا کسی بھی مدبر اور قضا کے ماہر شخص  سے سماعت کے وقت معاونت بھی لے سکتا ہے۔ جیسا کہ خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں قاضی القضاء امام یوسف مقدمات کی سماعت کے وقت موجود ہوتے تھے۔

خلیفہ، امیر، قاضی القضاء کسی  کو بھی ادنی سے ادنی عدالت کی  کاروائی کے دوران، عدالت کی  آزادی میں دخل اندازی کا حق نہیں ہے۔ ہر عدالت قانون اسلامی کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ امیر نہ اسے کسی فیصلہ کا حکم دے سکتا ہے، نہ کسی فیصلہ سے روک سکتا ہے۔ نہ کوئی ایسے اقدامات کرسکتا ہے جو اس کی آزادی عدل پر اثر انداز ہوں۔ البتہ عدالت کے فیصلے کو منسوخ یا قبول یا رد و بدل کا اختیار رکھتا ہے۔ جس کا بار صاحب عمل پہ ہوگا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!