امیر الامراء، خلیفہ

"خلیفہ” خود بھی اسلامی ریاست کا منتخب سربراہ ہوتا ہے اور باقی تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور تمام عام مسلمانوں کا بھی  امیر ہوتا ہے۔

قرون اولی میں مختلف اسلامی ریاستیں نہیں تھیں۔ جو علاقے بھی اسلامی افواج فتح کرتی تھیں وہ خلیفہ کے زیر نگیں ہی آجاتے تھے۔ بعدازاں خلافت کے دور میں ہی کچھ آزاد اسلامی ریاستیں بھی معرض وجود میں آگئیں جیسا کہ "ہندوستان” ایک آزاد اسلامی ریاست تھی۔ لیکن سربراہ مملکت، بادشاہ خلافت کا نصرت یافتہ یا تائید یافتہ ہوتا تھا۔ خلافت کی اطاعت کا فرمان اسلامی ریاست کیلئے باعث تکریم ہوتا۔ شمس الدین التمش نے ہندوستان میں سب سے پہلے خلافت عباسیہ سے "ناصر الملک” کا خطاب حاصل کیا۔ خلافت کی اطاعت کے پروانہ یعنی"فرمانِ خلافت” کیلئے مصر کے فرمانروا، امیر ریاست فیروز شاہ خود عباسی خلیفہ کے سفیروں کے استقبال کیلئے پیدل نکلے۔ فرمانِ خلافت کو دونوں ہاتھوں میں لیا اور بوسہ دے کر سر پر رکھا اور ایسے ہی سر پر دھرے ہوئے پیدل دربار حکومت تک واپس آئے۔

اسلامی ریاست کے بادشاہ کا خلافت سے نصرت یافتہ ہونا، عوام الناس بالخصوص مسلمان رعایا میں بھی حکمران کی تکریم کا باعث ہوتا ہے۔ دنیا پہ موجود تمام زندہ انسانوں میں سب سے زیادہ تکریم "خلیفہ ء وقت” کی ہوتی ہے کیونکہ وہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا ہی نائب ہوتے ہیں۔ اس لئے خلیفہ کی اطاعت واجب ہے اور خلیفہ سے بے وفائی یا غداری دین اسلام سے بےوفائی و غداری تصور ہوتی ہے۔ خلافت کے تسلسل کے رکنے اتحاد بین المسلمین بھی رک گیا اور مرکزیت ختم ہوگئی اور بہت سی اسلامی ریاستیں قائم ہوئیں۔

 سب سے پہلے  ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسلامی ریاستوں میں اسلامی نظام حکومت نافذ کیا جائے۔ نظام حکومت، اسلامی ریاستوں کے سربراہ کے انتخاب کا طریقہ، معیشت،  عدل و انصاف سب دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہوں اور جو ملک تمام اسلامی ریاستوں میں سے سب سے زیادہ عسکری برتری کا حامل ہو اور خارجہ امور پہ مضبوط گرفت رکھتا ہو، خلافت کی ذمہ داری سنبھالے۔

نظام عالم کو عدل و انصاف سے چلانے کیلئے ایک خلافت کی قیادت میں قرآن و سنت کے احکامات کو نافذ کرنا لازمی ہےکیونکہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اللہ تعالی نے پوری روئے زمین پہ نافذ کرنے کیلئے نازل فرمایا۔ ایک اسلامی ریاست کی دوسری اسلامی ریاست کی پشت پناہی اور مدد شرعی طور پر واجب ہے جو کہ خلافت جیسی مرکزیت کی محتاج ہے۔ تمام اسلامی ریاستوں کا بڑا ملک جو کہ عسکری، معاشی، سیاسی طور پہ سب سے مضبوط ہو، ایسے ملک  کو ہی تمام اسلامی ممالک کی سربراہی زیب دیتی ہے۔ خلیفہ کے ہی زیر قیادت اسلامی فوجی اتحاد ہو۔

جیسے کسی ریاست کے امور جس شہر سے چلائے جاتے ہیں، اسے ” دارالحکومت” کہا جاتا ہے، جیسے "اسلام آباد” پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ "استنبول” ترکی کا دارالحکومت ہے۔ "الریاض” سعودی عرب کا دارالحکومت ہے۔ جس شہر سے صوبے کے معاملات چلائے جاتے ہیں، اسے ” صوبائی دارالحکومت” کہاجاتا ہے۔ ایسے ہی "دارالخلافہ” ایسا شہر ہوتا ہے جہاں خلیفہ اور خلیفہ کے معاون دفاتر اور عملہ موجود ہو۔ دور رسالت مآب کے بعد خلفائے راشدین میں سے حضرت علی نے انتظامی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے، مدینہ منورہ سے دارالخلافہ "کوفہ” منتقل کیا۔ بنوامیہ کے دور میں دارالخلافہ کوفہ سے "دمشق” لے جایا گیا۔ بنو عباس کے دور میں دارالخلافہ "بغداد” بنا ۔بغداد پہ منگولوں کے حملہ 1258ء  کے بعد مصر میں خلیفہ کی موجودگی کے باعث دارالخلافہ "قاہرہ” منتقل ہوگیا۔ 1518ء میں ترک عثمانی بادشاہ سلطان سلیم نے خلافت سنبھالی اور "قسطنطنیہ /استنبول” کو دارالخلافہ مقرر کیا۔

یہ ضروری نہیں کہ خلیفہ ہر اسلامی ریاست کے سربراہ کے انتخاب یا امور ریاست میں مداخلت کرے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ خلیفہ تمام اسلامی ریاستوں اور غیر مسلم ریاستوں کے امور پہ نظر رکھے اور حقوق و فرائض میں توازن برقرار رکھنے کی تدابیر اختیار کرتا رہے اور ایسے اقدامات اختیار کرے کہ کوئی بھی کسی کے ساتھ ظلم نہ کرسکے اور طاغوتی طاقتیں بھی کسی  مسلمان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ روئے زمین کے کسی بھی انسان کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہ کرسکیں۔

تمام امت مسلمہ   اور بالخصوص ہر اسلامی ریاست کے سربراہ کیلئے خلیفہ کی اطاعت، نصرت اور مدد لازم ہے۔ خلافت ہی وہ جماعت ہے جس کی سمع و اطاعت و ہجرت و جہاد فی سبیل اللہ کی تلقین نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ جو اسلامی سلطنت سب سے بڑی اور سب سے زیادہ شرع و ملت کی حفاظت کی طاقت رکھتی ہو، وہی شرعا خلافت کا منصب سنبھالنے کی اہل ہوتی ہے اور تمام اسلامی ریاستوں کو اس کی اطاعت لازمی ہے۔

پہلے خلیفۃ الرسول، حضرت ابوبکر  صدیق سے مسلمان اس نظام کے تحت زندگی گزار رہے تھے اور دنیا کے سپر پاور تھے۔ کسی مسلمان عورت کی عزت غیر محفوظ نہیں تھی۔ ریاست میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔ مجموعی طور پر پوری دنیا بالخصوص امت مسلمہ نے غربت کا منہ ہی نہیں دیکھا تھا۔ کسی عورت پر تیزاب نہیں پھینکا گیا تھا۔ نہ بےروزگاری تھی، نہ کوئی جان و مال کا خطرہ تھا۔

جس طرح ہم صحابہ کی طرح خشوع و خضوع سے نماز نہیں پڑھ سکتے تو کیا نماز نہ پڑھیں؟۔۔۔
آج کوئی خلفاء راشدین رضوان اللہ اجمعین جیسا خلیفہ نہیں ہوسکتا تو کیا مسلمانوں کی مرکزی قیادت "خلافت” ہی قائم نہ کی جائے؟۔۔۔ اسلامی نظام حکومت نافذ نہ کیا جائے؟۔۔۔

خلیفہ کا کام روئے زمین پہ اسلام کا نفاذ یقینی بنانا ہوتا ہے۔ وہ نظام عالم کو اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات کی روشنی میں امن اور عدل سے چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ خلیفہ بھی اسلامی احکامات کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں کر سکتا۔ امت مسلمہ کی فلاح میں خلیفہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن خلافت کے نظام کی وجہ سے کمزور یا اوسط سطح کے خلیفہ کے آنے سے بھی مسلمانوں پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹتی کیونکہ خلافت کے نظام میں ہر ایک شخص خلافت کی مضبوطی کیلئے کارفرما ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں ابوبکر و عمر کے بعد عمر بن عبدالعزیز، سلیمان القانونی، عبد الحمید، سلطان محمد فاتح جیسے خلفاء بھی گزرے اور مقابلتاً بعض امور میں کمزور بھی، جس سے خلافت میں کچھ حد تک مضبوطی اور کمزوری ضرور آتی۔ لیکن امت کے مجموعی مفادات بہر کیف محفوظ رہتے، کیونکہ کوئی خلیفہ سود نافذ نہیں کر سکتا، جہاد نہیں روک سکتا، حدود کے نفاذ کو معطل نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں کی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا، عزت و حرمت، ناموس رسالت، مرتدین کو قتل کرنے، دعوت، اقامت صلواۃ، زکواۃ کی وصولی، مسافروں کا خیال، معذوروں کی مدد، نوجوانوں کی شادیاں، عورتوں کے حقوق، جزیہ لینے، خراج و عشر کی وصولی کسی چیز سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا کیونکہ یہ اللہ کے احکام ہیں۔ نہ ہی کسی اسلامی ریاست کا سربراہ کفار کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف اتحاد بناسکتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو بےیارومددگار چھوڑ سکتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!