افراط زر

کاغذی کرنسی/ فی ایٹ کرنسی سے پہلے دنیا میں افراط زر کا تصور ہی نہیں تھا۔ اگر پہلی جنوری 2001ء سے پہلی جنوری 2014ء تک کی سونے کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سونے چاندی کی مالیت سے زیادہ کرنسی چھاپنے کے نتیجے میں ہونے والے افراط زر کی وجہ سے پاکستانی کرنسی کی قیمت میں ساڑھے سات گنا کمی اور بھارتی کرنسی کی قیمت میں پانچ گنا کمی آئی ہے۔ 2016ء وینزویلا، 2009ء شمالی کوریا، 2008ء زمبابوے، 2002ء ارجنٹینا، 1996ء بلغاریہ، 1994ء یوگوسلاویہ، 1994ء برازیل، 1992ء سوویت یونین، 1991ء پولینڈ، 1990ءنکاراگوا،1982ء میکسیکو، 1955ء چین،1949ء تائیوان، 1946ء ہنگری، 1944ء یونان، 1923ء جرمنی اور 1865ء متحدہ امریکہ میں افراط زر ہوا۔  1993ء کا یوگوسلواکیہ میں 5 کھرب دینار کا کاغذی نوٹ تک چھاپنا پڑا۔

اسی طرح کونگو کا فرانک88584%، برما کا کیات65789%، لائبیریا کا ڈالر33787%، ایران کا ریال 5856%، مالاوی کا کواچہ 3720%، ساو توم کا ڈوبرا3123%، گنی کا فرانک1996%، گمبیا کا دلاسی1309%، ڈومینیکا کا پیسو1021%، شام کا پاونڈ1005%، جمیکا کا ڈالر 973%، برونڈی کا فرانک 948%، ہئیتی کا گورڈے 947%، ایتھوپیا کا بِر901%، نکاراگوا کا قرطبہ 764%، مصر کا پاونڈ755%، پاکستان کا روپیہ 751%، سری لنکا کا روپیہ666%، انڈونیشیا کا روپیہ622%، بنگلہ دیش کا ٹکا542%، نیپال کا روپیہ501%، بھارت کا روپیہ 496%، بحرین کا دینار336%، جاپان کا ین332%، امریکی ڈالر/اومان کا ریال/ سعودی عرب کا ریال/ قطر کا ریال 319%، برطانیہ کا پاونڈ308%، کویت کا دینار288%، اسرائیل کا شیکل250%، کینیڈا کا ڈالر 208%، آسٹریلیا کا ڈالر207%، چین کا یوان/یورو 206%، سوئیزر لینڈ کا فرانک 135%، سونا بہ نسبت چاندی16% مہنگا ہوچکا ہے۔ جبکہ کاغذی کرنسی کی آڑ میں کونگو میں 886 گنا، برما میں 658 گنا، لائبیریا میں 338 گنا،  ایران میں مہنگائی لگ بھگ 60 گنا بڑھ چکی ہے۔

"اشیاء کی  قیمتوں کا بڑھنا کاغذی کرنسی کا لازمی جُز ہے”

کاغذی کرنسی میں کی جانے والی بچت افراط زر کی وجہ سے تیزی سے سکڑتی جاتی ہے یعنی اس کی قوت خرید گرتی جاتی ہے۔ ہارڈ کرنسی کے نظام میں بچت کی "قوت خرید” وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہارڈ کرنسی کی قدر "برقرار پائیداری” ہے جبکہ کاغذی کرنسی کی قدر "چوری” ہے۔ یہی قدر کی چوری آج دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت کی بنیادی وجہ ہے۔ کاغذی کرنسی کے مالیاتی نظام کا کمال یہ ہے کہ کسی کو اپنی بڑھتی ہوئی غربت کا احساس نہیں ہوتا اور مقروض کرکے خوشحالی اور جدیدیت کا جھانسا دیکر ہر شخص، قوم کو ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی مستقبل کی کمائی کو بھی ضبط کرلیا جاتا ہے۔

اگر کسی مزدور کی تنخواہ پانچ فیصد کم کر دی جائے تو اسے شدید اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن جب افراط زر کی وجہ سے اس کی تنخواہ کی قوت خرید دس فیصد کم ہو جاتی ہے تو وہ اعتراض نہیں کرتا، نہ ہی اسے حقیقت کی سمجھ آسکے گی۔ جتنے سالوں میں کسی کی تنخواہ دوگنی ہوتی ہے، اتنی ہی مدت میں مہنگائی تین گنا یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہوتی ہے۔1994ء میں پاکستان میں روٹی ایک روپے کی ملتی تھی اور مزدور کی ایک دن کی مزدوری ایک سو روپے تھی۔ جبکہ پچیس سال بعد 2019 میں روٹی کی قیمت دس روپے ہے اور مزدور کی ایک دن کی مزدوری چھ سو روپے ہے۔ یعنی چیزوں کی قیمتیں اوسطا دس گنا بڑھ گئیں لیکن تنخواہیں پانچ یا چھ گنا ہی بڑھی ہیں۔ کاغذی کرنسی نے تقسیم دولت کا توازن انتہائی حد تک بگاڑ کر غربت کو تیزی سے دنیا بھر میں پھیلا دیا ہے۔ دولت بڑی سرعت سے محض چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے اور متوسط طبقہ مزید سکڑتا جا رہا ہے۔

  2015ء  کے مطابق پچھلی اڑھائی صدیوں میں قیمتیں دوگنی ہونے میں ابتدائی 185 سال لگے۔ حالانکہ اس عرصے میں دنیا کو دو جنگ عظیم بھی جھیلنا پڑیں۔ لیکن بریٹن ووڈز معاہدے کے ٹوٹنے کےبعد 70 سالوں میں قیمتیں 50 گنا بڑھ چکی ہیں۔

ترکی نے اپنے کاغذی نوٹوں سے صفر  کی تعداد کم کرنے کیلئے یکم جنوری 2005ء کو نیا ٹرکش لیرا جاری کیا۔ ایک نیا ٹرکش لیرا، ایک ملین پرانے ٹرکش لیرا کے برابر مقرر کیا گیا۔ ماضی قریب  میں زمبابوے کی حکومت نے بھی بے تحاشہ کاغذی کرنسی چھاپی۔ اس کے نتیجہ میں 2008ء میں زمبابوے کے 1200 ارب ڈالر صرف ایک برطانوی پاونڈ کے برابر رہ گئے۔ اس قدر افراط زر کی وجہ سے زمبابوے میں شرح سود %800 تک جا پہنچی تھی۔ زمبابوے میں  2008ء میں 100 ارب زمبابون ڈالر میں صرف تین انڈے خریدے جا سکتے تھے۔ بالآخر وینزویلا کی عوام نے افراط زر اور کرنسی کی مالیت میں کمی کی وجہ سے فروری 2018ء میں کرنسی  ردّی کی طرح سڑک پر پھینکنا شروع کر دی۔نومبر 2016ء میں ایک امریکی ڈالر 1500 وینیزویلا بولیور کے برابر ہوچکا تھا۔ صرف ڈیڑھ سال بعد 8 جون 2018ء کو ایک امریکی ڈالر کی قیمت 23 لاکھ بولیور کے برابر پہنچ چکی تھی یعنی ڈالر اس عرصہ میں 1533 گنا مہنگا ہو گیا تھا۔

” افراط زر کی وجہ سے دنیا کی 775 کاغذی کرنسیوں میں سے 599 ڈوب چکی ہیں”

اگر دشمن ملک آپ کی کرنسی بنانا چاہتا ہے تو اسے بھی سونے اور چاندی کے سکے ّ ہی بنانے پڑتے ہیں۔ جس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ دنیا کا سب سے پائیدار مالیاتی نظام جس میں کرنسی کی قدر میں کمی نہ ہو، یعنی کرنسی کی اصل قدر اس کے اندر ہو، چاندی اور سونے کے سکوں کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ جبکہ آج کے دور میں جعلی کرنسی کو دشمن ملک کی معیشت تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دشمن ملک آپ کی کرنسی کو چھاپ کر آپ کے ملک کی منڈی میں لاتا ہے، تو آپ کے ملک میں افراط زر کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے اور ملک کی کرنسی تباہ ہوجاتی ہے۔  دشمن ملک آپ کی کرنسی چھاپ لے تو وہ صرف کاغذ کے چند نوٹوں کے بدلے آپ کے ملک کے مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید سکتا ہے۔ مثلاً وہ آپ کے بازارروں سے سونا، چاندی،گندم، وغیرہ، غرض ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ لیکن سونے چاندی کے سکوں کی صورت میں افراط زر بھی ممکن نہیں ہوتا۔ دھاتی کرنسی میں افراط زر صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب سونا چاندی کی اتنی بڑی کان دریافت ہو جائے کہ دنیا بھر کی ضرورت سے زیادہ ہو اور سونا چاندی منڈی میں بہت زیادہ عام ہوجائے۔ جبکہ کاغذی کرنسی چھاپ کے حکومتیں اپنی آمدنی تو بڑھا لیتی ہیں لیکن عوام کو غریب بنا دیتی ہیں۔ افراط زر، کرنسی کی قدر میں کمی واقعہ ہونے سے لوگوں کا اعتبار اس کرنسی پر کم ہونے لگتا ہے۔ جو کرنسی چھاپنے والے ادارے یا حکومت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ لوگ کسی دوسری کرنسی یا کسی دوسری جنس کی شکل میں اپنا سرمایہ محفوظ کرلیتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!