اسلام کے فروغ میں صوفیاء و مشائخ کا کردار

جب بھی کسی بزرگ کے حالات تاریخ سے کریدتے ہیں تو ایک چیز مشترک ملتی ہےکہ ظاہری علوم حاصل کرکے، فلاں شیخ کی خدمت میں پہنچے اور علوم باطنی حاصل کئے۔ شیخ نے اپنی خلافت سے نوازا اور شیخ کی ہدایت کے مطابق کسی علاقے میں جاکر دین کی خدمت میں کوشاں ہوگئے۔ مجھے کسی ایسے عالم کا یاد نہیں پڑتا کہ جن کے حالات زندگی میں نے تاریخ میں پڑھے ہوں اور ایسا نہ ہو۔ آج بھی علماء مشائخ کی خدمت میں علوم باطنی کیلئے آتے ہیں اور علوم باطنی سے سینہ منور کرکے دین کی تبلیغ کا فرض ادا کرتے ہیں۔ آج بھی صوفیاء و مشائخ تبلیغ دین میں بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ جبکہ بہت افسوس سے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ آج کل علماء کا کچھ طبقہ علوم باطنی کا انکاری ہوگیا ہے یا  تصوف و سلوک کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے آج علماء اس طرح سے کامیابیاں نہیں سمیٹ پارہے جیسے علماء اکرام  نے تاریخ  میں دین کی تعلیم و تبلیغ میں داستانیں رقم کیں۔ افسوس کہ علماء اکرام  نے بھی تصوف کے علوم حاصل کرنے پہ توجہ چھوڑدی ہے۔ جس کی وجہ سے نااہل لوگوں نے پیروں کا روپ دھار لیااور عوام الناس نے دم درود، ڈھول ڈھمکے، قوالی اور قبر پرستی کو تصوف سمجھ لیا ہے۔ جس کا تصوف سے کوئی واسطہ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام کے عملی نفاذ میں صوفیاءکرام  کا ہر دور میں بہت اہم کردار رہا ہے۔  مشائخ عظام نے بے شمار دنیا کو جہاں اسلام سےروشناس کروایا وہیں بھٹکے ہوؤں کو بھی راہ راست پہ بھی لے کر آئے۔ مشائخ نے  اسلامی نظام کے تمام  شعبوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا اور  رہنمائی فرمائی۔  خطہ ہند میں مشائخ عظام  تاجروں کے ساتھ تشریف لائے اور اسلام کی تبلیغ و ترویج کی۔

ریاست کے قیام کیلئے عوام کے دلوں میں مثبت تاثر اجاگر کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے۔ یہ کردار مشائخ عظام نے اسلام کے فروغ کیلئے باحسن ادا کیا۔ مشائخ عظام نے محبت کے ساتھ اسلام سے لوگوں کو آشنا کیا۔ صوفیاء و مشائخ کی خدمات سے تاریخ کے ابواب بھرے ہوئے ہیں۔ اسلامی ریاستوں نے تعلیمات اسلامی کی تبلیغ کیلئے کام کیا اور مشائخ عظائم  کی سرپرستی بھی کی۔ صوفیاء و مشائخ نے جتنی محنت کی اور تکالیف برداشت کیں، وہ ایک الگ باب ہے۔ صوفیاء و مشائخ عظام کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مشائخ عظام کی محنت کا اللہ نے ثمر دیا کہ ان کے ہاتھ پہ ہزاروں، لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے اور آج تک ان علاقوں میں مسلمان دین اسلام پہ عمل پیراملتے ہیں۔

غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے تاجر  تھے، ان کے سامان کے لدے ہوئے بحری جہاز آتے تھے اور بطور شیخ، اپنے مریدین کی اصلاح و تربیت  بھی کرتے تھے اور تعلیم و تربیت بھی کرتے تھے۔ ان کے زمانے میں شیعیت بہت عروج پہ جارہی تھی۔ انھوں نے شیعیت کی کمر توڑدی  اور بڑے بڑے نامور شیعہ جرنیل ان کے ہاتھ پہ مسلمان ہوگئے۔ اور اس پربادشاہ نے  انھیں "نیم روز” صوبہ جاگیر کے طور پر دینےکی کوشش کی،تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ

” میں کسی صوبے کی صوبے داری کیلئےکام نہیں کررہا بلکہ جس کیلئے میں کام کررہا ہوں وہ مجھے جانتا ہے”

مسلمان کا ہر عمل خالصتا اللہ کیلئے ہوتا ہے۔ کیا یہ جہاد نہیں؟۔۔۔ یہ ہیں  ہمارے اسلاف و مشائخ اور ان کی عظیم تاریخ۔ بہت سے صوفیاء بڑے سپہ سالار گزرے ہیں۔ بہت سے صوفی، بڑے بڑے طبیب ہو گزرے ہیں۔مدرس گزرے ہیں۔  ایسے ہی بہت سے صوفیاء حکمران بھی گزرے ہیں ۔ جیسے برصغیر میں شمس الدین التمش، سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید  رحمہم اللہ نمایاں صوفی حکمران ہیں۔مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بحیثیت شیخ اور مجاہد مسلمانان برصغیر کیلئے بہت بڑا اور ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انھوں نے اکبر کے ایجاد کردہ مذہب کے خلاف کلمہ ء حق بلند کیا۔ مجدد فی الطریقت، حضرت العلام مولانا اللہ یار خاں رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق ، آج جو ہم دین الہی پہ عمل کررہے ہیں یہ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی کوششوں کے طفیل ہے۔ اب مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اقتدار نہ سنبھالا لیکن صاحب اقتدار کو توبہ کروا کے چھوڑی۔ نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں بلکہ روئے زمین پہ صوفیاء اکرام نے حکومتیں بھی کیں ، تبلیغ بھی کی ،جہاد بھی کیا ، کاروبار و تجارت بھی کی، درس و تدریس بھی کی، مذاہب باطلہ کی بیخ کنی بھی کی، تحقیق بھی کی، سیاحت بھی کی۔ صوفیاء نے دنیا کے ہر شعبے میں اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بھرپور خدمات دیں۔

"ذکرالہی سے محبت بڑھتی ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ

میرا رب وحدہ لاشریک ہے اور

ہر وقت میرے ساتھ ہے اور

میری شہہ رگ سے بھی قریب ہے اورجو بھی کروں

 وہ اللہ کریم کی ناراضگی کا نہیں بلکہ خوشنودی کا سبب بنے

جس کا صرف ایک راستہ اطاعت محمد رسول اللہ   ہے”



Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!