اسلام کا فروغ

مسلمان، اسلام کو لے کر روئے زمین پہ پھیلتے گئے۔ صحابہ اکرام جہاں تک جاسکے، وہ رکے نہیں، وہ بڑھتے رہے۔ تابعین و تبع تابعین، مسلمان تاجر حضرات، علماء و مشائخ نے سفر کئے، مجاہدین نے اپنا خون بہایا اور اسلام کو عامۃ الناس کو متعارف کروایا اور اسلام کو پھیلایا۔دعوت و تبلیغ کا کام کیا۔

دنیا کی ہر حاکم اور حملہ آور قوم نے محکوم کو غلام بنایا۔ امریکہ میں گورے سیاہ فاموں کو بحیثیت اجتماعی غلام سمجھتے تھے اور ان کو اچھوت جیسے کم تر درجے کی غلامی کا سامنا تھا۔ لیکن اسلام نے انسانیت کو آزادی سے ہمکنار کیا۔ دنیا میں آپ کو سوائے اسلامی تاریخ کے کہیں ایسی مثال نہیں ملے گی کہ کسی کے  حسن سلوک سے اتنے بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا ہو۔ کسی کو غلام بنانا تو درکنار کسی کا معاشی استحصال نہیں کیا۔ مسلمانوں کے حسن سلوک کا نتیجہ ہے کہ بہت سی غیر اسلامی ریاستیں نہ صرف اسلامی ریاستوں کا حصہ بنیں بلکہ انھوں نے اسلام کو ایسا اپنایا کہ آج ان کو عرب ہی سمجھا جاتا ہے جبکہ صحابہ اکرام کے دور میں وہ اہل عرب نہیں تھے، جن کی واضح مثال مصر، عراق جیسی ریاستیں ہیں۔

اسلام کے فروغ میں احکامات اسلام پہ عمل، جس میں مسلمانوں کے معاملات اور اخلاقیات کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ جس میں  تاجر حضرات، علماء اکرام، مشائخ عظام، مجاہدین سبھی کی محنت  شامل ہے۔ مسلمان تاجر جب تجارت کی غرض سے دور دراز کے علاقوں کی طرف روانہ ہوتے تو تجارت کے اسلامی اصولوں کی وجہ سے لوگ اسلام سے متاثر ہوتے اور اس طرح اسلام کو اپناتے چلے گئے۔ تاجر حضرات نے اسلام کی تبلیغ میں کردار ادا کیا اور اسلام کے فروغ کیلئے جدوجہد کی۔ یہ تاجرحضرات علماء و مشائخ سے اسلام کے فروغ کیلئے مدد بھی لیتے تھے اور ان کو تبلیغ دین کیلئے  علاقوں کی نشاندہی بھی کرتے تھے۔

مسلم حکمران قانون کی پاسداری کرتے اور اللہ کے احکامات کو اپنے علاقوں میں پوری قوت سے نافذ کرتے تھے۔ جبکہ غیرمسلم ریاستوں میں ملوکیت اور آمریت نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور کوئی قانون نہیں تھا۔ غیر مسلم بھی آزادی سے اپنی زندگیاں، امن و امان سے گزار تے تھے۔ بہت زور و شور سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا۔ جبکہ تاریخ اسلام میں  روئے زمین پہ جہاد کی وجوہات  "احکامات الہیہ کا نفاذ”اور  "دفاع” اور "امن وامان” اور "ریاست اسلامیہ کا استحکام” ہی رہیں۔اسلامی ریاستوں نے دفاع یا ریاست اسلامیہ کے استحکام کے پیش نظر جہاد کو جاری رکھا ۔ مجاہدین نے مخلوق خدا کو ظلم سے نجات دلانے کیلئے اپنا خون روئے زمین کو دیا اور اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ جس علاقہ یا ریاست سے اسلامی ریاستوں کو خطرہ لاحق ہوتا تھا یا کسی پہ ظلم ہوتا تھا تو ظلم کے خاتمے یا دفاع کے پیش نظر اسلامی فوجیں پیش قدمی کرتیں۔ مجاہدین کے جنگ کے بعد حسن سلوک اور جذبہ اسلامی نے بھی غیرمسلموں پہ اسلام کی حقانیت واضح کی۔ راجہ داہر کا سپہ سالار جنگ کے دوران زخمی ہوا۔ محمد بن قاسم نے اس کا علاج کروا کر اسے وردی، گھوڑے سمیت آزاد کردیا۔ اس نے  راجہ داہر کے دربار میں جا کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔تاریخ اسلام سے ایک بھی مثال ایسی نہیں دی جاسکتی کہ اسلام کو جبر سے پھیلایا گیا ہو۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!