اسلام کا سیاسی نظام

جلال بادشاہی ہو، کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

اسلامی حکومت، ہر شہری بشمول امراء سلطنت پہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر جو قوانین کی صورت میں ہوتے ہیں، کے نفاذ کیلئے اقدامات کرنے والی قوت کا نام ہے۔ اسلام کے عطا کردہ قوانین پہ عمل کرنا بحیثیت مسلمان ہم پہ لازمی ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ

” پورے کے پورے دین اسلام میں داخل ہو جاؤ”

اس آیت میں یہ گنجائش نہیں دی گئی کہ کچھ احکامات پہ عمل کرلینا اور کچھ میں نہیں۔ البتہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ ” دین میں کوئی جبر نہیں” یعنی مذہب کے اختیار کرنے میں کوئی زبردستی نہیں ۔ لیکن جو اسلام کو اپنا لیتا ہے، وہ دائرہ امن و سلامتی میں آجاتا ہے۔ لازم ہے کہ مسلمان ویسے ہی زندگی گزارے گا جیسے اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔ اللہ کے احکامات پہ عمل نہ کرکے، اپنی اور دوسروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا۔ اسلام اپنے آپ کو یا اجتماعی طور پر کسی کو بھی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ

"دائرہ اسلام میں ایسے قوانین ہیں جو ہر ایک کو امن اور سلامتی عطا کرتے ہیں، یہاں تک کہ غیرمسلم بھی اپنے آپ کو محفوظ گردانتےتھے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!