اسلام میں سربراہ مملکت کیلئے احکامات

قرآن و سنت کی تعلیمات سے یہ سبق ملتا ہے کہ امارت و حکومت کوئی ایسا حق نہیں جسے حاصل کرنے کیلئے کوئی جدوجہد کی جائے۔ کیونکہ طلب امارت جائز نہیں۔ مسلمانوں کے ذمہ واجب ہے کہ وہ اپنا امیر مقرر کریں اور اس کا اصول یہ ہے کہ امرائے سلطنت یعنی اہل شوری ہی امیر کا انتخاب کرنے کے اہل ہیں۔ شوری سے مراد اہل حل و عقد کی جماعت ہے۔

"اسلامی ریاست میں عوام الناس پہ امیر کی اطاعت واجب ہے”

روئے زمین پہ خلیفہ یا امیر المومنین ایک ہی ہوتا ہے اور تمام سربراہان مملکت، اسلامی ممالک بشمول عامۃ المسلمین پر اس کی اطاعت لازم ہوتی ہے۔ خلیفہ روئے زمین پہ قرآن و سنت کے احکامات کو  نافذ کرتا ہے اور نظام عالم کو عدل و انصاف سے چلاتا ہے۔ دیگر امراء بشمول سربراہان مملکت یا گورنر یا سلطان، خلیفہ کے مددگار ہوتے ہیں۔ مختلف اسلامی ممالک میں مختلف سربراہ مملکت ہو سکتے ہیں اور وہ قرآن و سنت کے مطابق ہی امور ریاست چلانے کے ذمہ دار ہیں اور خلافت کی اطاعت اور خلافت کو مضبوط کرنے کے پابند ہیں۔

مسلمانوں کے ہر ملک میں الگ الگ "سربراہ مملکت” ہوسکتے ہیں۔ جنھیں اب تک "صدر، بادشاہ، امیر، سلطان” کہا جاتا رہا ہے۔ وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو، وہ سربراہ مملکت نہیں ہے بلکہ أمور سلطنت میں سربراہ مملکت کا ماتحت اور ممد و معاون ہے۔  جیسے دفاع کے معاملے میں سپہ سالار اعظم اور قضا کے معاملات میں قاضی القضاء سربراہ مملکت کے ماتحت ہیں۔ حضرت عمرفاروق نے فرمایا۔ "سید القوم خادمھم ۔۔۔ قوم کا سردار، اس کا خادم ہوتا ہے”۔ امیر المومنین حضرت عمرفاروق کے قول کے مطابق ہر امیر اپنی رعایا کا خادم ہوتا ہے یعنی ان کا خیال رکھنے والا۔ جبکہ رعایا کیلئے حدود اللہ تعالی نے مقرر فرما دی ہیں۔ قرآن مجید، فرقان حمید میں اللہ تعالی واضح حکم صادر فرما رہے ہیں۔

"اے ایمان والو، اللہ اور اللہ کے رسول اور امیر کی اطاعت کرو”

حدیث میں زیادہ صراحت سے اسی حکم کو بیان فرمایا گیا ہے۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

” مسلمان پر امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے خواہ وہ حکم اس کو پسند ہو یا نا پسند، لیکن یہ کہ اس کو اگر کسی گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا جائز ہے، نہ اطاعت کرنا” ۔مسلم

حضرت ابوبکر صدیق نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد فرمایا۔

"اطیعونی ما اطعت اللہ و رسولہ فان عصیت اللہ و رسولہ فلا طاعۃ لی علیکم"

"جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں، تم میری اطاعت کرو۔ اگر میں اسکے خلاف کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں ہے"

امیر کی اطاعت واجب ہے۔ لیکن امیر قرآن و سنت کا پابند ہو۔ قرآن و سنت کے مقرر کردہ قوانین کی روشنی میں خامیوں کی نشاندہی کرنے کابھی انداز اسلام نے واضح فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی حکم دے رہے ہیں کہ

"اگر تمہارا اور امیر کا کسی مسئلے میں اختلاف ہو تو اسے اللہ اور رسول کے سامنے پیش کرو۔ اگر تم اللہ اور آخرت پر یقین رکھتے ہو”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!