اسلام میں سربراہ مملکت کا انتخاب

نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد خلیفۂ اول کا انتخاب کرنے کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔اس موقع پر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح بھی موجود تھے۔تب انصار و مہاجرین میں نزاع پیدا ہوا اور انصار مدینہ نے اپنی قربانیوں کا حوالہ دے کر خلافت پر اپنا حق جتایاجب کہ مہاجرین نے اپنی سبقت و ہجرت کو استحقاق کے طور پر پیش کیا۔ حضرات ابوبکر و عمر انصار کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے،ایک موقع پر شور وشغب بڑھ گیا تو حضرت ابوعبیدہ نے اٹھ کر فرمایا "اے گروہ انصار!تم نے سب سے پہلے دست اعانت بڑھایا تھا،اب افتراق و اختلاف میں پہل نہ کرو”۔ حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا کہ "اہل عرب، خاندان قریش کے علاوہ کسی کو بادشاہ تسلیم نہ کریں گے”۔ جب قریش کا حق حکمرانی ثابت ہو گیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ عمر بن خطاب یا ابوعبیدہ بن جراح میں سے کسی ایک کے ہاتھ پربیعت کر لیں۔ سیدنا عمر نے ابوعبیدہ سے کہا،اپنا ہاتھ بڑھائیں،میں بیعت کرتا ہوں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد سن رکھا ہےکہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ ہے۔ حضرت ابو عبیدہ نے جواب دیا،میں اس شخص سے کس طرح آگے بڑھ سکتا ہوں جسے رسول اﷲﷺ نے خودنماز کی امامت کے لیے مامور فرمایا اور آپﷺ کی وفات تک اس کے علاوہ کسی نے نماز نہ پڑھائی ہو”۔ اس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت پہ اتفاق ہوگیا اور بیعت منعقد ہوئی۔

حضرت ابوبکر صدیق کی مجلس خاص سات اشخاص حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابی بن کعب رضوان اللہ اجمعین پہ مشتمل تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے خلیفہ کیلئے اسی مجلس خاص کے اراکین میں سے حضرت عمر فاروق کا نام تجویز کیا۔

حضرت عمر فاروق نے چھ اصحاب حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص پہ مشتمل ایک جماعت تجویز فرمائی کہ یہ اپنے میں سے ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ افراد حضرت عمر فاروق کے مجلس خاص کے رکن تھے۔ حضرت عثمان اور حضرت علی میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف نے عوامی رائے کے مطابق فیصلہ کردیا۔

حضرت علی کا بطور خلیفہ منتخب ہونے کا طریقہ کار ہمیں خلیفہ کے انتخاب کے اصول و ضوابط مزید واضح کرتا ہے۔حضرت علی،حضرت عثمان غنی کی مجلس خاص کے رکن تھے۔ اہل مدینہ نے اکٹھے ہوکر حضرت علی سے منصب خلافت سنبھالنے کاکہا۔جس پہ آپ نے فرمایا۔

"یہ معاملہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ تو اہل شوری اور اہل بدر کا کام ہے۔
اب جس کو بھی اہل شوری پسند کریں گے، وہی خلیفہ ہوگا۔
 لہذا ہم جمع ہونگے اور اس بارے میں غور کریں گے”

تاریخی کتب میں منقول ہے کہ جب حضرت علی کے ہاتھ پہ عوام الناس نے بیعت کرنا چاہی تو انھوں نے فرمایا۔

"مجھے تم چھوڑ دو اور میرے سوا کسی اور کو تلاش کرلو اوراگر مجھے تم چھوڑ دو گے تو میں تم میں سے ایک فرد ہوں گا۔ اور جس شخص کو تم اپنے امر کا والی بنالو گے، امید ہے کہ میں اس کا تم سے زیادہ تابعدار اور زیادہ مطیع ہوں گا”

لوگوں کے مسلسل اصرار کے بعد فرمایا۔

"ایسا نہ کرو، کیونکہ میرا وزیر رہنا، میرے امیر بننے سے بہتر ہے”

 پھر لوگوں کے اصرار پہ فرمایا کہ

"اچھا مسجد میں چلتے ہیں کیونکہ میری بیعت خفیہ نہیں ہوسکتی اورمسلمانوں کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
جب حضرت علی مسجد میں داخل ہوئے تو مہاجرین و انصار بھی داخل ہوئے اور انھوں نے حضرت علی سے بیعت کی۔ پھر تمام لوگوں نے بیعت کی”

حضرت علی کے قول و فعل سے ثابت ہے کہ وہ خلیفہ بننے کے خواہش مند یا خود سے امیدوار نہیں تھے اور یہی اسلام میں امیر کی استطاعت کا پہلا اصول اور معیار ہے۔ پھر آپ صرف حضرت عثمان غنی کی مجلس خاص کے ہی رکن نہ رہے تھے بلکہ ان سے پہلے کے خلفاء کی مجلس خاص کے بھی رکن رہے تھے۔ یعنی خلیفہ کے انتخاب کے وقت آپ سب سے زیادہ امور ریاست کو چلانے کا تجربہ و صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ ثابت شدہ ہے کہ اکابر صحابہ اکرام جن میں مجلس خاص اور مجلس شوری کے اراکین موجود تھے، کے اصرار پہ ہی حضرت علی نے بیعت لینا منظور فرما یا۔ ویسے بھی شہادت عثمان کے بعد آپ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص امیر المومنین کیلئے نامزدنہیں ہوا تھا۔ حضرت علی کے خطبہ کے الفاظ آپ کی رائے اور عمل پہ دلیل ہیں۔

"خدا کی قسم نہ تو مجھے خلافت کی کبھی خواہش تھی، نہ ولایت کی حاجت۔ لیکن تم لوگوں نے مجھے اس کی طرف بلایا اور یہ بوجھ مجھ پر لاد دیا”۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۲۱۵

خلفاء راشدین کے انتخاب کے ذریعے طریقہ کار واضح ہوگیا۔ حکومت سازی کیلئے اسی عمل کو اپنایا جائے۔

  1. کسی بھی سربراہ مملکت کو تعینات کرنے کا پہلا حق خلیفہ کو حاصل ہے۔ لیکن مجلس شوری، عوامی ناپسندیدگی کا خیال رکھیں۔
  2. امیر نے اپنا ولی عہد مشاورت سے مقرر کیا ہو اور امیر کی وفات کے بعد امرائے سلطنت یعنی مجلس شوری اس کے امیر بننے پہ معترض بھی نہ ہوں اور عوام الناس بھی اس کی اطاعت کو قبول کرتے ہوں۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر فاروق کو مشاورت سےاپنی زندگی میں ہی ولی عہد یا جانشین مقرر فرما دیا تھا۔ امیرالسلطنت مجلس خاص کو بھی اختیار دے سکتے ہیں اور ایک مخصوص کمیٹی مجلس شوری و مجلس خاص میں سے بھی بنا سکتے ہیں کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر مقرر کرلیں۔ جیسے حضرت عمرفاروق نے اختیار دیا تھا۔ یعنی مجلس شوری یا مجلس خاص کی نسبت پہلا حق امیر کا ہے۔ جیسے امیر المومنین سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت سونپ دی۔
  3. اگر درج بالا صورتیں نہ ہوں تو مجلس شوری سربراہ مملکت کا نام تجویز کریں اور کسی ایک پہ مشاورت سے متفق ہوجائیں۔ ولی عہد کی بطور امیر تقرری کا اختیار اہل شوری کے پاس ہے۔ عامۃ الناس کے پاس امیر کی تجویز و تائید کا اختیار نہیں۔ پہلی ترجیح یہ ہونا چاہئے کہ امیر یا ولی عہد مجلس خاص سےہی منتخب ہو۔ اگر مجلس خاص کے اراکین میں ایسا شخص نہ ہو جو محدود ذمہ داری کے علاوہ پوری سلطنت کے امور کی نگہبانی نہ کرسکتا ہو اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص امیر یا اہل شوری کی نظر میں ہو جس میں امیر بننے کی صلاحیت و قابلیت زیادہ ہو تو انتہائی غور و خوض کے بعداسے امیر مقرر کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ایک ایسا شخص جو امور سلطنت چلانے میں تجربہ نہ رکھتا ہو، صرف اس کی تعلیم، گفتگو کی بناء پہ، بغیر تجربہ کے منتخب کرنا سلطنت اور رعایا کیلئے زہر قاتل بھی بن سکتا ہے۔
  4. ایک سے زیادہ اعلی خصوصیات کے حامل افراد کے مابین اہل شوری میں معاملہ اٹک جانے پہ بہترین دو افراد میں سے عوامی رائے کے ذریعے کسی ایک کا انتخاب کرلیا جائے۔جیسا کہ حضرت عثمان غنی کا انتخاب ہوا۔
  5. دستور اسلامی میں امیر کے براہ راست انتخاب کی کوئی گنجائش نہیں لیکن اس کیلئے اتنا کافی ہے کہ منتخب شدہ امیر سے عوام الناس کی اکثریت راضی ہو اور اس کی پشت پناہی کیلئے آمادہ ہو۔ اسلام کا سیاسی نظام، صفحہ ۲۲۸

” بلاتوسط ارباب حل و عقد براہ راست عوام الناس کے ووٹوں سے خلیفہ کا انتخاب و تقرر نہیں ہوسکتا”۔ اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۲۲۹

حدیث میں ہے کہ ہوازن سے تشریف لانے والے صحابہ کے وفد سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"اپنے نمائندے منتخب کرکے ان کے ذریعہ سے اپنی مرضی سے مجھے مطلع کرو”

حضرت عمر فارو ق کے عہد میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ ماتحت ممالک کے حالات اور رعایا کی ضروریات و مطالبات بتانے کےلئے جو وفود آتے تھے، و ہ رعایا کے منتخب کئے ہوئے ارکان پہ مشتمل ہوتے تھے بلکہ بعض مقامات کے گورنروں کا تقرر بھی رعایا کے انتخاب اور خلیفۃ المسلمین کی منظوری سے ہونا ثابت ہے۔ لیکن مجلس شوری کے انتخاب کا کہیں بھی عوامی نمائندگان کی صورت میں جواز تاریخ اسلامی میں نہیں ملتا۔ اس سے ہم اخذ کرسکتے ہیں کہ خلیفہ کی صوابدید ہے کہ وہ سربراہ مملکت کی تعیناتی خود کریں یا مجلس شوری کو اختیار دے دیں کہ وہ سربراہ مملکت منتخب کرلیں۔ دونوں صورتوں میں سربراہ مملکت کا اختیار ہے۔ ایسے ہی سربراہ مملکت خود گورنر تعینات کردیں یا مجلس منتظمہ کو اختیار دے کہ وہ خود ہی گورنر منتخب کرلیں۔ البتہ خلیفہ کسی بھی سربراہ مملکت کو اور سربراہ مملکت، گورنر کو ناقص کارکردگی پہ عہدے سے الگ کرسکتا ہے۔ ورنہ مجلس منتظمہ کے اراکین بھی وزیر یا گورنر کی ناقص کارکردگی، کمزور انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پہ اصلاح نہ ہونے کی صورت میں سربراہ مملکت کو معزول کرنے کی درخواست کرسکتی ہیں، جیسے آج کل "ریفرنس” بھیجا جاتا ہے۔ سربراہ مملکت یا گورنر یا وزیر یا کسی بھی عہدیدار کے خلاف ذاتی خواہشات یا مفادات کی بناء پہ تحریک عدم اعتماد لانا سخت ناجائز ہے۔ اسلامی نظام حکومت ذاتی پسند یا نا پسند کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ کےقانون کی حکمرانی کا نام ہے۔

سربراہ مملکت کو منتخب کرنے کیلئے، مجلس شوری کے اراکین مجلس خاص میں سے بہترین افراد کا نام تجویز کریں، جن میں سے ہر ایک امور ریاست و حکومت چلانے کا اہل ہو۔ ہر اس شخص کا نام تجویز کیا جاسکتا ہے جو ایک سے زیادہ شعبے میں ماہر ہو، بہترین منتظم ہوں اور حکومت و سیاست کا تجربہ رکھتا ہو۔ انصاری کمیشن رپورٹ کے مطابق ایک تجویز یہ بھی ہوسکتی ہے کہ

"مجلس شوری کے کم از کم تین افراد کسی ایک فرد کا نام تجویز کریں،جن کو مجالس منتظمہ کے کم از کم پانچ افراد کی تائید حاصل ہو”۔ انصاری کمیشن رپورٹ

سربراہ مملکت کے عہدہ کیلئےتجویز کردہ فرد کیلئےانتظامی امور کی صلاحیت، تاریخ، جغرافیائی واقفیت، دینی و دنیاوی علوم، امور خارجہ، عسکری و قضا کی صلاحیتیں، اراکین اسلام کی پابندی جن میں بالخصوص نماز و زکوۃ کا اہتمام،امر بالمعروف و نہی عن المنکرجیسی تمام تفصیلات پہ نظر دوڑائی جائے۔ ان تجویز شدہ اشخاص کی مزید معلومات اور تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ان کی درجہ بندی کی جائے اور ان میں سے بہترین افراد کی درجہ بندی کے لحاظ سے ایک فہرست مرتب کر لی جائے۔

سربراہ مملکت کا انتخاب تین دن کے اندر اعلانیہ رائے دہی سے ہونا چاہئے، جیسا کہ حضرت عثمان غنی کے خلیفہ کے انتخاب کے دوران ہوا۔ جس کیلئے ہاتھ کھڑا کرکے یا نشستیں الگ الگ کرکے بھی نشاندہی ہوسکتی ہے۔ ہر ایک کی رائے اعلانیہ طور پہ واضح ہونی چاہئے کہ وہ کس کو سربراہ مملکت کے عہدے کیلئے زیادہ موزوں سمجھتا ہے۔ جس فرد کو نصف سے زیادہ ووٹ مل سکیں وہ سربراہ مملکت منتخب ہوجائے۔ کثرت رائے سے انتخاب ہو جائے ورنہ دو افراد کے درمیان معاملہ اٹک جانے پہ عوامی رائے کے ذریعے بھی منتخب کیا جاسکتا۔ ایسی صورت حال میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے دوران ہمیں یہی مثال ملتی ہے۔ خفیہ رائے دہی کی کوئی مثال ہمیں تاریخ اسلامی سے نہیں ملتی۔ نہ کوئی جلسہ، نہ کوئی ریلی بلکہ سابق حکومتی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس اعلانیہ رائے دہی کے ذریعے جلد از جلد سربراہ مملکت منتخب کرلیں۔

سربراہ مملکت کی تقرری و اعلان کی سربراہی مفتی اعظم، شیخ الاسلام ہی کرتے آئے ہیں۔ خیر و برکت کی خصوصی دعا فرمائیں گے۔ سب سے پہلے یہی افراد، نو منتخب سربراہ مملکت کی بیعت کریں اور پھر مجلس شوری سربراہ مملکت کی بیعت کریں۔ پھر صوبائی مجالس منتظمہ سے سربراہ مملکت کے خطاب اور بیعت کا عمل مکمل کیا جائے۔ عوام الناس میں سے ہر ایک کو بیعت کرنا ممکن نہیں اور شرعی طور پر صرف امراء سلطنت کی بیعت ہی کافی ہوتی ہے۔

"جب شریعت کی شرائط کے تحت کسی خلیفہ یا سربراہ مملکت کا انتخاب ہو جائے تو سب مسلمانوں پر اس کی اطاعت واجب ہوگی اور مخالفت حرام ہوجاتی ہے” اسلام کا سیاسی نظام صفحہ ۱۴۲

سلیمان قانونی، خلافت عثمانیہ میں ایک خلیفہ ہوئے ہیں۔ سلیمان قانونی ایک مجاہد سپہ سالار تھے اور انصاف پسندی کے علاوہ بہت سی خوبیوں کی وجہ سے قانونی مشہور ہوئے۔ سلیمان قانونی آسٹریا کی جانب جہاد کی غرض سے نکلے تو رستے میں انتقال ہوگیا۔ سلطان کی تجہیز و تدفین کے دوران آپ کا وصیت نامہ ملا۔ وصیت نامے میں لکھا تھا کہ میرا صندوق میرے ساتھ دفن کیا جائے۔ علماء و مشائخ حیران ہوگئے اور رائے عامہ یہ بنی کہ شاید اس میں کچھ قیمتی جواہرات ہیں جو کہ مٹی میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اس لئے صندوق کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تو صندوق میں تمام فتاوی جات تھے جو لینے کے بعد سلطان نے اقدامات کئے تھے اور ساتھ دفنانے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالی کو بتا سکیں کہ میں نے کوئی حکومتی اقدام اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ قاعدہ فتاوی لے کر کیا۔ یہ دیکھ کر شیخ الاسلام ابو سعود جوکہ مفتی اعظم بھی تھے، رونے لگے اور فرمایا۔

"سلطان تم نے اپنے آپ کو بچا لیا، ہمیں کون بچائے گا”

امرائے سلطنت، ایسےامیر کا انتخاب کرتے تھے۔ امیر کا دل خوف خدا سے لبریز ہوتا تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!