اسلام میں زر کے احکامات

اسلامی تاریخ میں بطور "کرنسی” یا "زر” سونے اور چاندی سے بنے سکے  رائج رہے۔ اللہ تعالیٰ نے زر کا ذکر قرآن میں سونے کے سکوں کا تذکرہ "دینار” اور چاندی سے بنے سکوں کا تذکرہ "درہم” کی صورت میں فرمایا۔ قرآن کی سورۃ العمران آیت 75 میں دینارکا تذکرہ اور درہم کا ذکر سورۃ یوسف کی آیت نمبر20 میں آیا ہے۔

نبی کریمﷺ کے دور میں سونے اور چاندی کے ساسانی اور یونانی سکے زیراستعمال تھے۔ چونکہ عرب میں ریاست مدینہ سے پہلے کوئی حکومت نہ تھی، اس لئے چاندی کا سکہ "درہم” ساسانی تھا، سونا کا سکہ "دینار” رومیوں کی کرنسی براستہ شام عرب میں آتا۔ نبی کریمﷺ نے دونوں کو ہی رائج فرمایا۔ چاندی کے سکے کا وزن 3 گرام سے لے کر 3.5 گرام ہوا کرتا تھا۔ جبکہ سونے کے سکے کا وزن4.44 گرام سے لے کر 4.5گرام ہوا کرتا تھا۔ اہل عرب اس کاتبادلہ وزن کے حساب سے کیاکرتے تھے۔ نبی کریمﷺ نے ایک دینار کا وزن ایک مثقال مقرر فرمایا، جو 72 "جو”کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے اور جدید معیار وزن کے مطابق اس کا وزن تقریبا 4.25 گرام ہے اور اس کی خالصیت کم ازکم 22 قیرات (یعنی91.7 فیصد) ہونی چاہئے۔ حضرت عمر کے دور میں یہ معیار قائم کیا گیا کہ سات دینار کا وزن دس درہم کے برابر ہو یعنی درہم کا وزن 2.975گرام مقرر ہوگیا۔ لیکن ان کے آپس کے تبادلے کا تناسب طلب و رسد کے مطابق آزاد ہی رہا۔ عہد فاروقی  میں سکوں پہ "بسم اللہ” لکھا گیا۔ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت امیر معاویہ نے اپنے سکے جاری فرمائے۔ مجلۃ البحوث الاسلامیہ میں زر کی تین خصوصیات درج ہیں۔

  1. ذریعہ مبادلہ ہو یعنی اس کے عوض اشیاء و خدمات حاصل کی جاسکیں۔
  2. اشیاء کی قیمتوں کیلئے معیار ہو یعنی اس کے ذریعے دیگر اشیاء کی قیمتیں طے کی جائیں۔
  3. دولت محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو اور خراب ہونے سے محفوظ رہے۔

اسلام کے عطا کردہ قوانین کے مطابق امام مالک ؒ نے "زر” کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے۔

"ہر وہ جنس جو عوام آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال کرنا قبول کریں اُسے "زر” کہا جائے گا "

خرید و فروخت یا لین دین انسانی زندگی کا لازمی جزو ہےتو ایسے میں ایک ایسے معیار، آلہ مبادلہ کی بہرحال ضرورت ہے، جس کی مدد سے تمام اشیاء کی قیمتیں مقرر کی جاسکیں۔ ورنہ یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے کہ ایک شے کی کتنی مقدار دوسری شے کی صحیح قیمت یا متبادل ہے۔ ایسے ہی ہر جنس کی مختلف قسمیں اور معیار ہوتے ہیں، اس لئے کوئی جنس اس مقصد کیلئے موزوں نہیں ہوسکتی تھی۔ اس لئے کسی مشترکہ معیار کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وہ مشترکہ معیار زر ہے۔  اسی لئے ہزاروں سال پہلے ہی جب مختلف اشیاء میں برابری کا ادراک مشکل ہوتا گیا تو چاندی کے سکے "درہم” اور سونے کے سکے "دینار” منجانب اللہ بتدریج قدر و قیمت جانچنے کا آلہ یا معیار مقرر ہوگئے۔ اور اب یہ ہے کہ جو درہم و دینار کا مالک ہے وہ ہر شے خرید سکتا ہے۔ جبکہ کپڑا یا چمڑے سے ہرشے نہیں خریدی جا سکتی۔ یہ معیار آج بھی ہمیشہ کی طرح اتنے ہی کارآمد ہیں۔

کرنسی کی قیمت اس کے اندر ہونی چاہیے۔ سونے اور چاندی کے سکوّں کی اپنی ایک قدر و قیمت ہے جو پوری دنیا میں ہمیشہ قابل قبول ہے۔ سونے اور چاندی کے سکے ّ اپنی قیمت ہر دور میں اور ہر جگہ  برقرار رکھتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس سونے اور چاندی کے سکے ّ ہو تو آپ خواہ کسی بھی ملک میں چلے جائیں تو اس کی قیمت برقرار رہتی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی دور ہو یا جیسے بھی حالات ہو، جنگ کا زمانہ ہو یا امن کا دور، ملک کی معاشی حالت خراب ہو یا اچھی ہو، ہر حالت میں سونا، چاندی اپنی قیمت کو برقرار رکھتے ہیں، اپنی اہمیت اور قیمت کھوتے نہیں۔ اگر سونے اور چاندی کے سکوّں کو زمین میں دبادیا جائے اور چار، پانچ سو سال بعد بھی نکلیں گے تو اس کی قیمت برقرار ہوگی اور اس کیلئے یہ سکے ّ ایک قیمتی خزانے کی شکل اختیار کریں گے۔ اس لیے اگر کسی کو آج سےچند سو سال پہلے کے دور کے سکے ّ مل جائیں تو ہم کہتے ہے کہ اس کو خزانہ مل گیا ہے۔ جو سونے یا چاندی کی وجہ سے آج بھی خزانہ ہے۔  اگر اس دور میں کرنسی کاغذ کی ہوتی تو پھر اس کی قدر آج  ردّی کاغذ کے سوا کچھ بھی نہ ہوتی۔ کاغذی نوٹ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، پٹ جاتے ہیں، پانی لگنے سے خراب ہو جا تے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتے ہیں لیکن سونا اور چاندی جل کر راکھ نہیں ہو تی اور نا ہی پانی وغیرہ  سے خراب ہوتی ہیں۔ سونے چاندی کے سکے پائیدار ہیں۔کاغذی کرنسی کی عمر دو سے تین سال ہی ہوتی ہے۔

سونے کے دینار اور چاندی کے درہم کو"شرعی زر”اس لیے کہا جاتا ہے کہ شریعت نے اس کے ساتھ دین کے کئی معاملات کا تعلق جوڑ دیا ہے۔ مثلاً زکوٰۃ، مہر اور حدود وغیرہ۔  آپ کے پاس بیس (20) دینار ہیں تو ایک سال گزرنے کے بعد آپ پرزکوٰۃ واجب ہو گئی اور آپ کو آدھا دینار زکوٰۃ میں دینا پڑے گا۔ لہٰذا بیس دینار 85گرام سونا بنتا ہے اور آدھا دینار 2.125گرام سونا بنتا ہے۔  اسی طرح اگر آپ کے پاس 200 درہم ہیں تو ایک سال گزرنے کے بعد آپ پرزکوٰۃ واجب ہوگی اور آپ کو5 درہم زکوٰۃ دینا ہوگی۔ زکوٰۃ کا حساب لگانے کا انتہائی آسان طریقہ کل جمع دولت کا 2.5%فیصد حصّہ آ پ زکوٰۃ میں دیں گے۔ اسلام میں زکوٰۃ کا اطلاق کسی جنس پہ ہی ہوتا ہے اور جنس ہی زکوۃ کے طور پہ دی جانے کا حکم ہے۔ جنس یا حقیقی دولت کا مطلب ہے سونا، چاندی،جانوریا دوسری اشیاء جن کی اپنی کوئی حیثیت ہو۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ المجموع میں فرماتے ہیں کہ

"حاکم وقت کے علاوہ کسی کو درہم اور دینار بنانے کی اجازت نہیں۔ چاہے وہ خالص ہی ہوں۔ کیونکہ یہ حاکم وقت کا حق ہے اور اس کی دوسرے کو اس لئے بھی اجازت نہیں کہ اس میں جعل سازی اور بگاڑ کا اندیشہ ہے”

سونے چاندی کے علاوہ کسی دوسری دھات سے بنے ہوئے سکوں کو "فلوس” کہتے ہیں لیکن فقہا کی نظر میں "فلوس” زر نہیں ہیں بلکہ "ناقص زر” ہیں۔ فلوس ایک درہم کے ایک چھوٹے سے حصّے کا نمائندہ ہوا کرتا تھا اور اس کا استعمال صرف ریزگی کے طور پر ہوا کرتا تھا۔ ایک درہم کی بہت سے چھوٹے چھوٹے حصّے کرنے کی بجائے چھوٹی خریداری کیلئے اس کی اجازت دی گئی۔ لیکن یہ کبھی بھی دینار یا درہم کے خاتمےیا ان کی جگہ لینے کیلئے استعمال نہیں ہوئے۔ کاغذی کرنسی کو فلوس  پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ  دھاتی سکوں کی طرح ان میں جنس کا پہلو نہیں ہے۔فلوس زر میں شامل نہیں بلکہ صرف ریزگاری کیلئے استعمال کرنے کی اجازت ہے، جیسے لوہا، تانبا وغیرہ کے سکے۔ صحابہ اکرام کے ہاں سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے سکے  درہم کی ریزگاری کے طور پہ استعمال ہوتے تھے۔ امام مالک کے قول سے ثابت ہے کہ "زر” کیلئے کوئی جنس ہونا ضروری ہے۔

"اگر لوگ اپنے درمیان چمڑوں کے ذریعے خرید و فروخت کو رائج کر دیں یہاں تک کہ وہ چمڑے ثمن اور سکہ کی حیثیت اختیار کر جائے تو میں سونے چاندی کے بدلے ان چمڑوں کو اُدھار فروخت کرنا پسند نہیں کروں گا”

یعنی چمڑا بھی اگر "ناقص زر” کی حیثیت سے رائج ہوجائے تو اس پر بھی وہی احکام جاری ہوں گے جو درہم و دینار پر ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے دَور میں مدینے کے بازار میں چھ چیزیں آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ سونے اور چاندی کے سکے ّ، اس کے علاوہ گندم، جو، کھجور اور نمک بھی آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہوتیں تھیں۔کسی حدیث میں دھاتی سکوں/فلوس کی زکوٰة کا تذکرہ نہیں ملتا۔ حالانکہ عہد ِنبویؐ میں یہ موجود تھے۔ لیکن فقہائے احناف ان کی زکوٰة واجب قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ کسی مسلمان کے پاس دنیار، درہم اور فلوس ملا کر بیس دینار یا دو سو درہم کی مالیت کے برابر مال اکٹھا ہوگیا ہے تو صاحب نصاب ہونے پہ زکوۃ کا اطلاق ہوگا۔ جیسا کہ آج کل کاروبار میں لین دین کیلئے ریزگاری اکٹھی کی جاتی ہے اور وہ کافی تعداد میں ہوتی ہے۔

” شافعی اور حنبلی فقہا کی رائے میں دھاتی سکے سامان کی طرح ہیں ،
 چنانچہ ان میں زکوٰة اسی وقت واجب ہو گی جب یہ تجارت کی غرض سے ہوں”

  آج کل بھی سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے سکے بھی حکومتوں نے جاری کر رکھے ہیں لیکن وہ حکومتی سکے جنس کی قیمت کے مطابق نہیں ہوتے، اسی لئے "ٹوکن منی” کہلاتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!