اسلام میں حکومت سازی کے احکامات اور اہمیت

اسلامی حکومت کے قیام کی اہمیت اس حدیث مبارکہ سے بھی واضح ہوجاتی ہے۔

"قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم اَلْاِسْلَامُ وَالسُّلْطَانُ اَخَوَانِ تَوْأ مَانِ لَا یَصْلُحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا اِلَّا بِصَاحِبِہ فَالْاِسْلَامُ اُسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَّمَا لَا اُسَّ لَہُ ھَادِمٌ وَّمَا لَا حَارِسَ لَہ ضَائِعٌ (کنز العمال)”

"نبی نے ارشاد فرمایا کہ اسلام اور حکومت ، دو جڑواں بھائی ہیں۔
دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
 پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے۔
جس عمارت کی بنیاد نہ ہو ،گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لی جاتی ہے”

رسالت کے بعد "خلافت و امارات اسلامیہ” کو قائم کرنا اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ نبی کریم ﷺ کے جسد اطہر کی تدفین کرنے سے پہلے صحابہ اکرام  رضوان اللہ اجمعین نے بالاتفاق یہ کام سرانجام دیاتھا۔ اگر صحابہ خلافت کی صورت میں مرکزیت کو قائم رکھنا فرض  اور دین اسلام کا اہم کام نہ سمجھتے تو تدفین پر اسے مقدم نہ کرتے۔ کسی صحابی سے اس بارے میں اختلاف منقول نہیں، بلکہ یہ مسئلہ اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ میں حدیث کا ایک حصہ  امارت ثابت کرتا ہے۔

"و من مات و لیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ"
"جو شخص ایسی حالت میں مرجائے کہ اس کی گردن میں کسی امیر کی بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا”

علامہ قرطبی آیت  "انی جاعل فی الارض خلیفۃ” کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔

"چوتھی بات یہ ہے کہ یہ آیت ایک ایسے خلیفہ کے تقرر کے بارے میں ایک اصل ہے، جس کی اطاعت و فرماں برداری کی جائے تاکہ اس طریقت کلمہ میں اتحاد پیدا ہو اور احکام خلیفہ کا نفاذ ہو۔
 اس تقرر کے واجب ہونے کے بارے میں امت یا آئمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے”

کچھ آگے صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  کے طرز عمل سے استدلال فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔

"یہ نصب خلیفہ کے وجوب کی نیز اس بات کی دلیل ہے کہ
یہ کام ارکان دین میں سے ایک رکن ہے جس پر مسلمانوں کی بقاء موقوف ہے”

اسلامی ریاست کے قیام اور امیر کے انتخاب کی اہمیت کا ادراک جہاں احادیث  اور اسلامی ادوار  سے ہوتا ہے وہاں اطاعت امیر کی اہمیت بھی واضح  ہے کہ امراء سلطنت جس کو امیر منتخب کریں اور بیعت کریں، اس  امیرکی اطاعت عوام  الناس کو بلا تردد کرنی چاہئے اور امور ریاست میں امیر کی ہر طرح سےمدد کرنی چاہئے۔ امیر سے حسد اور بغض رکھنا بھی جائز نہیں ہے۔  صاحب درمختار فرماتے ہیں۔

"امیر کو مقرر کرنا واجبات میں سے سب سے اہم واجب ہے”

حضرت شاہ ولی اللہ اس وجوب کی تصریح کے ساتھ کچھ تشریح بھی فرماتے ہیں۔

"مسلمانوں پر جامع شرائط خلیفہ کا مقرر کرنا واجب بالکفایہ ہے اور یہ حکم قیامت تک کیلئے ہے”

کتاب "اسلام کا سیاسی نظام” میں اسلامی حکومت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے۔

"اسلامی حکومت مسلمانوں کی اس جماعت کا نام ہے جو شرعی استحقاق کی بناء پر اسلامی احکام کو زور و قوت کے ساتھ نافذ کرسکے”

 جو حکومت اسلامی حدود اور قوانین کا نفاذ نہ کرے اور اسلام کا راستہ نہ اپنائے،بلکہ اپنی مرضی من مانی کرے یا اپنے لئے آسانیاں تلاش کرے، وہ اسلامی ملک ہوسکتا ہے لیکن اسلامی حکومت نہیں ہوسکتی۔ خواہ اس کو چلانے والے سب کے سب مسلمان ہی ہوں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے ملک شام کو فتح کیا تو وزیروں نے مشورہ دیا کہ نصرانیوں کا ملک ہے، نیا فتح کیا ہوا ہے اور اس ملک کے لوگ نہایت سرکش اور سخت ہیں اور اسلامی قوانین نرم ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ان پر قابو رکھنے کیلئے اسلامی احکام کے علاوہ اگر اور بھی کچھ سخت قوانین نافذ کردئیے جائیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ اس پر صلاح الدین ایوبی نے کہا۔

"کیا تمہارا خیال ہے کہ میں نے جو ملک فتح کیا ہے وہ حکومت اور سلطنت کرنے کیلئے کیا ہے؟۔۔۔
میں نے تو محض اللہ کو خوش کرنے کیلئے یہ سب کوشش کی ہے۔ میں اسلامی احکام کو ہی نافذ کروں گا،  اس پر چاہے ملک رہے یا جائے۔ اسلامی احکام کے خلاف ایک حکم کا بھی نفاذ نہ کروں گا”

اسلامی احکامات کی حدود میں رہ کر ہی سربراہ مملکت یا صاحبان اختیار کو حکومت کرنی ہے اور پوری قوت سے اسلام کے احکامات کو نافذ کرنا ہی مقصد منصب ہے۔ اسلام کہتا ہے اقتدار اعلی، خالق کائنات اللہ وحدہ لاشریک کا ہےاور کوئی بھی ویسے ہی حکومت کرے جیسے نبی آخر الزماںﷺ نے بتلایا اور صحابہ اکرام نے عمل کیا۔

"اسلام کے مطابق، حاکمیت صرف اللہ کی ہے اور انسان صرف بطور نائب حکمرانی کرسکتا ہے اور ویسے ہی حکمرانی کرے گا جیسے اللہ کے رسول ﷺنے حدود مقرر کی ہیں”

یہی امارت ہےکہ حکومت اللہ تعالی کی ہے اور انسان بطور خلیفہ ویسے ہی نظام چلائے گا جیسے اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔خلیفہ یا  سربراہ مملکت اللہ کے نائب کے طور پر ذمہ داری ادا کرے گا۔ اسلام نے سربراہ مملکت کے چننے کا اختیار  دیا ہے لیکن اسلام میں وہ طریقہ  انتخاب ایسا نہیں جو آج کل رائج ہے۔

حکومت، اختیار اورقانون سب اللہ تعالی کا ہے۔ انسان زمین پہ اللہ کا نائب ہے۔ صرف اللہ کے حکم کے مطابق ہی ہر کام کیا جائے گا۔  ورنہ ریاست ہی نہیں بلکہ دنیا تباہی کے دہانے پہ چلی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آمریت، مغربی جمہوریت، سیکولرازم اور ان جیسے نظاموں کی عمر بہت تھوڑی رہی اور یہ سب ناکام ہوگئے۔ کیونکہ انھوں نے اپنے معاشروں کو عدم توازن میں مبتلا کرلیا۔ لیکن جب تک مسلمانوں نے اسلام کے عطا کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہو کر نظام حکومت چلایا وہ دنیا کو امن و عدل، خوشحالی اور تحقیق سے روشناس کرتے ہوئے، تیرہ سو سال سے زیادہ  اس دنیا پہ حکمرانی کرتے رہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!