اسلامی نظریاتی کونسل

اسلامی ریاست میں عوام، مجلس شوری، مجلس خاص کسی صورت قرآن و سنت سے انحراف نہیں کرسکتے۔ اس لئے مجلس شوری میں موجود ایوان علماء کی ہر قانون میں مشاورت اور توثیق ضروری ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ پاکستان میں موجود ہے ۔تمام مکاتب فکر کو اس ادارہ میں رسائی حاصل ہے ۔ دستور سازی کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل ،اس وقت تشریحات بھی دے رہی ہے۔ لیکن حکومت اس ادارے سے کوئی کام نہیں لے رہی  اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل کی تشریحات  پہ عمل کررہی ہے اور نہ ہی ان کی سفارشات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کی سفارشات پہ عمل اس وقت ہی ممکن ہے جب اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندگان مجلس شوری میں موجود ہوں گے اور ان کی توثیق کے بغیر قانون سازی ممکن نہ ہوگی۔ اس وقت بھی اسلامی نظریاتی کونسل کا مقصد ہر معاملے کی اسلامی حیثیت کا جائزہ لے کر پندرہ دنوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرنا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین میں جہاں تمام فقہی مکاتب فکر کی مساوی نمائندگی ضروری ہے وہاں اس کے کم از کم چار ارکان ایسے ہوتے ہیں، جنہوں نے اسلامی تعلیم وتحقیق میں کم وبیش پچپن برس لگائے ہوں۔اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کی طرز پہ ہی پاکستان بار کونسل، پاکستان انجینرنگ کونسل وغیرہ کی تشکیل کا نظام دوبارہ سے بنایا جائے۔

 قانون اسلامی کی حمایت، نفاذ  اور اس کو قائم رکھنا فرض ہے۔ اس کیلئے خواہ جان گنوانا پڑے جیسا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت کا راستہ چنا اور ظلم برداشت نہیں کیا۔ اس لئے عوام  اور امراء سلطنت پہ بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کوئی بھی حکم جو قرآن و سنت سے متصادم ہو اس کو نہ مانیں۔ خواہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح جان ہی کیوں نہ چلی جائے، حکمرانی صرف اللہ کی ہی ہوگی۔ پارلیمنٹ کے علامتی بائیکاٹ اور پھر اسی ایوان میں بیٹھ کر غیر اسلامی قوانین کو منظور ہونے دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، بلکہ اگر کچھ نہ کرسکیں تومستعفی ہوجائیں۔

مجلس شوری میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے علماء کی نمائندگی موجود ہو جو کہ قانون سازی اور امور ریاست کے امور پہ نظر رکھے ہوئے ہو تاکہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہی چلائے جائیں۔ جیسے معیشت دانوں کا نمائندہ موجود ہوگا جو کہ قانون سازی میں معاشی اثرات کا جائزہ لے گا۔ ماہر قانون دان قانونی پہلودیکھے گا۔ جیسے دوسرے شعبوں کے ماہرین کے نمائندگان مجلس شوری میں موجود ہوں گے، ایسے ہی اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندہ علماء  مجلس شوری میں موجود ہوں۔ دستور سازی اور قانون سازی قرآن و سنت کی مقررہ کردہ حدود و قیود میں کرنا فقہاء  کی ذمہ داری ہے۔

مجلس شوری میں علماء اکرام قانون سازی کیلئے ممد و معاون ہوں، جن کی پشت پناہی اسلامی نظریاتی کونسل کررہی ہو۔ جیسے قانونی معاملات پہ بار کونسل کے نمائندگان کے ذریعےب سفارشات آ رہی ہوں گی۔ انجینرنگ کونسل کےنمائندوں کے ذریعے انجینئرنگ کے مختلف شعبوں کیلئے سفارشات آرہی ہوں گی۔ ایسے ہی مختلف شعبہ جات اور مسائل کے اجاگر ہونے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے تشریحات بھی مجلس شوری کو باہم پہنچ رہی ہوں۔ ان تمام سفارشات اور تشریحات کو ایک چھت کے نیچے مجلس شوری میں حتمی شکل دی جاسکے گی۔ جیسے میڈیکل کے شعبے میں جدید تکنیک اور ادویات کا ڈاکٹرز ہی بہتر بتا سکتے ہیں، لیکن اس معاملے میں اسلام نے کیا حدود و قیود مقرر کی ہیں، کی رہنمائی علماء ہی کرسکتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!