اسلامی مالیاتی نظام کا آغاز

اسلامی مالیاتی نظامِ کا آغاز دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں ہو چکا ہے۔

 2010ء میں ملائیشیاء کے صوبے کیلانتن نے طلائی دینار اورنقرئی درہم کو قانونی حیثیت دے دیں اور سرکاری ملازمین کی رضاکارانہ طور پر پچیس فیصد (25%) تنخواہیں دینار اور درہم میں دینا شروع کی ہیں۔ اس کے بعد 2012ء میں ملائیشیاء کے صوبے پیرک (Perak) نے بھی سونے کے دینار اور چاندی کے درہم کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ ان کی تقلید میں  انڈونیشیاء،فلپائن، سنگاپور، عراق وغیرہ میں طلائی دینار اورنقرئی درہم کا آغاز ہوا ہے۔  2014ء میں کابل، افغانستان میں پہلا دینار اور درہم بھی جاری کیا گیا ہے۔

ڈالر کے عدم استحکام کی وجہ سے امریکہ کی ریاست "یوٹاہ”(Utah) نے 2007ء میں سونے کے سکے ّ جاری کئے ہیں۔ امریکہ کی تقریباً دس ریاستیں اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ وہ سونے اور چاندی کو قانونی زر کی حیثیت دے دیں۔ کاغذی کرنسی کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ، جنوبی افریقہ، کینیڈا، چین،آسٹریا وغیرہ بھی سونے اور چاندی کے سکے ّ جاری کرنے پہ غور کررہےہیں۔

اگر آج بھی کاغذی کرنسی کی جگہ سونے چاندی کو تجارت کیلئے استعمال کیا جائے تو برصغیر، چین اور تیل پیدا کرنے والے ممالک دنیا کےامیر ترین ممالک بن جائیں۔عالمی حالات اور معاشی استحکام اب تقاضا کرتے ہیں کہ سونے یا چاندی کے سکوں کے عوض ہی بین الاقوامی تجارت ممکن بنائی جائے اور مستقبل قریب میں یہ ممکن ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس سے سرمایہ دارانہ نظام کی اجارہ داری ختم ہوگی اور عالمی معاشی استحکام بھی آئے گا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!