ہندوستانی فوج

دنیا میں زیادہ تر ریاستوں کی بہت کم تعداد میں باقاعدہ تنخواہ دار فوج ہوتی تھی۔ ضرورت پڑنے پر افراد اکٹھے کرلئے جاتے تھے۔ جنگ میں فتح کے بعد انعام و اکرام سے نوازا جاتا تھا۔ جہاد کے دوران ان کو مال غنیمت سے حصہ مل جاتا تھا۔ البتہ دنیا بھر میں صرف بادشاہ یا صوبوں کے والئ حضرات  کی حفاظت کیلئے تنخواہ دار، تربیت یافتہ اور مستقل حفاظتی دستے ہوتے تھے۔

ہندوستان کے مغل حکمرانوں نے باقاعدہ تنخواہ دار، منظم  ریاستی فوج ترتیب دی۔ تربیت،تمام بنیادی سہولتوں، تنخواہوں کا بندوبست کیاگیا۔ گھوڑا ذاتی ہونے کی صورت میں زیادہ تنخواہ ملتی تھی۔ گاؤں، علاقے، یہاں تک کہ صوبوں کی عملداری بھی انعام و اکرام میں دی  جاتی تھی۔ باقاعدہ تنخواہ دارفوج کو  مال غنیمت اور لاوارث زمینوں  اور جائیدادوں میں سے کوئی حصہ نہ دیا جاتا تھا۔ پیدل فوجی، شعبہ تیر انداز، توپ خانہ  اور ان کے امیروں کے علاوہ فوج کے عہدے درج ذیل طرز پہ ہوتے تھے۔

دس گھوڑے                   ایک سرخیل
دس سرخیل                    ایک فوجی
دس فوجی                      ایک امیر
دس امیر                       ایک ملک
دس ملک                       ایک خان

مغل بادشاہوں کے مشیروں کے مطابق ایک بادشاہ کے پاس دس خان یعنی دس لاکھ فوج ہونی چاہئے۔ دس لاکھ فوج کا خرچ ایک بڑی ریاست ہی برداشت کرسکتی ہے، جس کی عوام خوشحال ہو اور حکومت کو اتنی آمدن ہو کہ وہ دس لاکھ فوج کی تنخواہیں ادا کرسکے۔ فوج کا سربراہ بھی بادشاہ خود ہی ہوتا تھا یا پھر مہم جوئی کے دوران جس کو بھی  بادشاہ فوج میں ماہر گردانتے ہوئے، تعینات کردے۔ ملک / خان / خان خانان، جیسے القابات، جنگ/مہمات کے دوران  اعلی خدمات پہ اعزاز کے طورپر بھی دئیے جاتے تھے۔ بادشاہ باقاعدگی سے جنگی مشقوں کا معائنہ کرتے تھے اور انھی مشقوں میں مہارت کی بنیاد پہ فوج میں ترقیاں کی جاتی تھیں۔

فوج کا یہ قانون تھا کہ بطور سپاہی بھرتی کے بعد ہی اعلی صلاحیت کے افراد فوج کے سربراہ تک بن سکتے تھے۔ٹیپوسلطان کے والد  فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے اور ترقی کرکے فوج کے سربراہ اور بعد ازاں ریاست میسور کے حکمران بنے۔

منگولوں نے دہلی پہ کل چھ حملے کئے اور ہر دفعہ ہندوستانی فوج سے بہت بری شکست کھائی۔ جب پہلا حملہ دہلی، سلطنت ہندوستان پہ کیا تو منگولوں نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔  علاؤالدین خلجی نے  فوج کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر جنگ لڑی اور منگولوں کو میدان میں شکست دی۔ پانچویں حملے میں آٹھ ہزار منگولوں کے سر ایک مینار کی تعمیر میں استعمال کئے گئے۔ خلجی نے منگولوں کی کمر توڑ دی اور انہوں نے ہند کی بجائے اپنا رخ دوسری جانب موڑ لیا۔ منگولوں نے دنیا کی تمام حکومتوں کو شکست دی لیکن ہندوستانی فوج نے منگولوں کو چھ دفعہ شکست دی۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!