اسلامی ریاست کی مجلس شوری

آج کل ذہنوں میں ابھرنے والا سوال بھی یہی ہے کہ اسلامی نظام حکومت میں۔۔۔

سربراہ مملکت کو تجویز کون کرے گا؟۔۔۔

 سربراہ مملکت کا انتخاب کون کرے گا؟۔۔۔

 اسلامی نظام حکومت میں دستور سازی کون کرے گا؟۔۔۔

اسلام کے احکامات کے مطابق مجلس شوری حکومت کی "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” میں پشت پناہی کرتا ہے۔ مجلس شوری کے اراکین  کا تذکرہ تاریخ اسلامی میں "امرائے سلطنت” کے نام سے بھی آتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

"و امرھم شوری بینھم”
” اور ان کا معاملہ باہم مشورے سے طے ہوتا ہے " ۔سورۃ الشوری

ایک اور مقام پہ قرآن مجید رہنمائی فرماتا  ہے۔

"و شاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ"
معاملات میں مشاورت کرلیا کریں جب عزم کرلیں تو اعتماد اللہ ہی پر رکھیں۔

انبیاء و رسل کسی سے مشورے کے پابند نہیں ہوتے، وہ فیصلہ لینے میں بااختیار ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کے آخری رسولﷺ مشاورت فرماتے تھے۔ تاکہ امت مسلمہ اس پر کاربند رہے۔ مشاورت میں صحابہ اکرام کو مشورہ دینے کی اجازت ہوتی تھی۔ قرآن مجید، سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

"فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون”
"اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل علم سے دریافت کرو”

 بخاری میں حدیث مبارکہ ہے۔

"بے شک اللہ تعالی علم کو نہیں اٹھاتے بلکہ جاننے والوں کو اٹھاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی عالم باقی نہیں رہ جاتا  تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں۔ پس وہ بغیر علم  کے ان کو فتوی دیتے ہیں۔ اس طرح خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور ان کو بھی گمراہ کرتے ہیں”

عہد خلفاء راشدین کے واقعات میں ہے کہ

"ایک مرتبہ حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو تحریری طور پر ہدایت کی کہ
اللہ کے  رسول ﷺ قانون مشاورت پر عامل تھے، تم بھی لازما اس پر عمل کرنا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت عمرفاروق کے تعامل سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ خواتین سے بھی مختلف معاملات میں رائے لیتے تھے”
۔ تفسیر مظہری جلد دوم ص ۱۶۱

سیاست و حکومت میں امور سلطنت چلانے کیلئے ماہرین کی ایک جماعت کی ضرورت ہے۔ عوامی نمائندگان کے بس کا روگ نہیں کہ وہ امور سلطنت میں مشورہ دے سکیں۔ جیسے معاشی معاملات معیشت دان نے ہی چلانے ہیں۔ وزارت قانون کے معاملات ماہر قانون نے ہی دیکھنے ہیں۔ مذہبی امور کی نگہبانی اور اسلامی احکامات کی حدود و قیود کی نشاندہی کسی ماہر عالم دین نے ہی کرنی ہے۔ عسکری معاملات کیلئے عسکری ماہر کی رائے ہی معتبر ہوگی اور یہ بات تجربے سے ثابت شدہ ہے کہ عوامی رائے یا عوامی نمائندگان کے ذریعے ماہرین کی حکومت کو تشکیل دینا ناممکن ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!