اسلامی ریاست کی مجلس تشریعی، وزراء

خلیفہ، امیر، سربراہ مملکت کے وزراء پہ مشتمل مجلس کو مجلس تشریعی / کابینہ کہتے ہیں۔ صوبے کے سربراہ کی مجلس تشریعی، صوبائی مجلس تشریعی کہلاتی ہے۔ مجلس تشریعی میں تمام وزراء و مشیران ہوتے ہیں۔ "وزیر” کے ذمہ کسی محکمے کی انتظامی سربراہی ہوتی ہے۔ وزراء و مشیران، امیر کے معاون خصوصی ہوتے ہیں۔ امیر اپنی امداد و اعانت کیلئے وزراء و مشیران کا تقرر کرسکتاہے۔

وزیرکو  اپنے محکمے یا علاقے میں احکامات جاری کرنے، تقرریاں کرنے، خزانے کے استعمال پہ اختیار، قانون نافذ کرنے والے عسکری ادارے کو طلب کرنے جیسے چار اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور وزیر کیلئے ضروری ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے امیر کے علم میں لائے اور توثیق کروائے اور بعد میں اس کے نتائج سے بھی مطلع کرے۔ وزیر کو اپنے شعبے سے متعلق علم و تجربے کے ساتھ ساتھ شرعی احکامات کا علم ہونا ضروری ہے کیونکہ اسے خزانے کے استعمال کے اختیار اور قانون نافذ کرنے والے عسکری اداروں کی طلبی کے اختیار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اختیارات شرعی احکامات کے علم اور تجربے کے متقاضی ہیں۔ اسی وجہ سے وزیر کے عہدے پہ کسی "ذمی” کو تعینات نہیں کیا جاسکتا۔

"مشیر” صرف مشاورت کیلئے تعینات کئے جاسکتے ہیں، وہ کسی محکمے کی سربراہی نہیں کرسکتے۔ ایک ہی شعبے میں بیک وقت وزیر اور مشیر مقرر کرنا فساد کی وجہ بن سکتا ہے اور اس وجہ سے ایوانان حکومت میں لڑائیاں، جھگڑے اور فسادات ہوسکتے ہیں۔

لفظ وزیر عربی میں بوجھ سے ماخوذ ہے۔ چونکہ وزیر، امیر کا نائب ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ وہ امیر سے کسی ایک شعبے کا بوجھ بانٹتا ہے۔ لازم ہے کہ یہ وزیر کم از کم سطح پہ بھی اپنے شعبے میں انتظامی امور سرانجام دینے کی  اہلیت اور علم کے حامل ہوں اور متقی ہوں۔ اس کیلئے ان وزراء کے تحقیقی مقالے، تحریریں اور اپنے شعبے میں جدت اور فصاحت کو مدنظر رکھ کر امیر ان کو منتخب کرے۔ان میں قابلیت و استعداد ہو کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں کی کسی بھی دوسرے شخص سے بہتر دیکھ بھال کرسکیں۔ اصل میں تو ان کی صلاحیتوں سے ریاست کو فائدہ ہو اور وہ امیر کی انتظامی امور میں مددگار ہوں۔ کسی بھی وزیر کو ناقص کارکردگی اور قابلیت یا صالحیت کی بناء پہ یا بہتر وزیر کی تعیناتی کیلئے امیر معزول بھی کرسکتا ہے۔

نسائی میں حدیث مبارک ہے۔

” ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی جب کسی امیر کی بھلائی چاہتے ہیں تو اس کو ایک سچا وزیر عطا فرما دیتے ہیں کہ وہ امیر کی بھول اس کو یاد دلاتا ہے اور اگر امیر کو بات یاد ہو تو اس کی امداد کرتا ہےاور  اگر اللہ تعالی کو کسی امیر کے متعلق اس کے علاوہ کچھ اور منظور ہوتا ہے تو اس کو برا وزیر عطا کرتے ہیں۔ جو بھول کے وقت یاد نہیں دلاتا اور یاد کے وقت مدد نہیں کرتا”

وزیر کے دو کام حدیث مبارکہ میں بیان ہوئے کہ  امیر جب بھول جائے تو اسے یاد دلاتا ہے اور دوسرا کام فرائض خلافت میں اعانت و امداد کرناہے۔ اس لئے سربراہ مملکت کو اپنے معاون کے انتخاب کا اختیار تو ہے لیکن وزیر کو کسی محکمے کی نگرانی کی ذمہ داری دے دینے سے امیر کی ذمہ داری ساقط نہیں ہوجاتی بلکہ امیر ہی ہر محکمے کا افسر اعلی اور ذمہ دار ہوتا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر محکمے کی نگرانی اور خبر گیری رکھے اور وزراء پہ بھی نظر رکھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔

"جب تمہارے بادشاہ اور امیر اچھے ہوں، تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے کام باہمی مشورے سے ہوا کریں تو تمہاری زندگی موت سے بہتر ہے اور اگر تمہارے بادشاہ اور امیر برے ہوں، مالدار بخیل ہوں اور تم عورتوں کی رائے کے تابع ہو تو پھر جینے سے مرنا بہتر ہے”۔ ترمذی

نظام سیاست، پوری ریاست کے نظام حیات کو متاثر کرتا ہے۔یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے اچھے سربراہ مملکت اور وزراء و امرائے سلطنت کی حکمرانی میں زندگی کو موت سے بہتر قرار دیا ہے۔ایک مسلمان کیلئے دنیا دارالامتحان ہے اور کون ہے جو امتحان میں رہنا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ  نے ایسے لمحات کو برزخ کے لمحات سے بہتر قرار دیا ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اگلے جہاں میں یہاں کی نسبت زیادہ مزے کی زندگی گزارے گا۔ کافر یا گنہگار کیلئے برزخ میں جانا مشکل ہوتا ہے۔

امیر المومنین حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں فتوحات ہوئیں۔ حضرت عمر فاروق کے دور میں فتوحات ہوئیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک تو علاقے فتح ہوتے ہی رہے لیکن اب ہم اپنے مفتوحہ علاقوں سے بھی اپنی عملداری ختم کررہے ہیں۔ تو انھوں نے جواب دیا ۔

"حضرت عثمان ؓ تک تمام خلفاء کے مشیر ہم تھے اور میرے مشیر تم لوگ ہو”

جامعہ دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مفتی سبحان محمود رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ درس بخاری میں فرمایا۔

"روافض جہاں پہنچ جاتے ہیں، وہاں فتنے پیدا ہوجاتے ہیں اور ان کا سب سے پہلا کام حکومت میں غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے یہ اپنے ناپاک عزائم پورے کرتے ہیں”

حکومت کے پاس چونکہ قوت نافذہ ہوتی ہے اور کوئی بھی فتنہ جو کہ حکومتی سطح پہ اٹھے، اس کے اثرات نچلی سطح تک خود بخود حکومتی مشینری کے ذریعے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے بالخصوص وزراء و مشیران کی تعیناتی بہت ہی زیادہ احتیاط کی طالب ہے۔ علم سیاسیات اسلامی میں فقہاء نے تاکید کی  ہے کہ امیر کو وزراء و مشیران بھی امیر کی خصوصیات کے حامل تعینات کرنے چاہیئں۔ خلیفہ مامون الرشید نے وزراء کے تقرر کے متعلق لکھا تھا۔

"میں اپنی حکومت کے امور ایک ایسے شخص کے سپرد کرنا چاہتا ہوں، جس میں تمام خوبیاں موجود ہوں، وہ عفیف اور وضعدار ہو، مہذب و تجربہ کار ہو، اسرار حکومت کا امین ہو، مشکل سے مشکل کاموں میں مستعدد ہو، جس کے سکوت سے حلم اور گفتگو سے علم نمایاں ہو، آنکھ کے اشارے سے وہ بات سمجھ جائےاور ایک لمحے کی مدت ہی اس کیلئے کافی ہو، اس میں امراء سا رعب و دبدبہ ہو، حکماء کی سی دور اندیشی ہو، علماء کی سی تواضع اور فقہاء کی سی سمجھ ہو، اگر اس پر احسان کیا جائے تو وہ ممنون ہو، اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو صبر کرے، وہ آج کے فائدہ کو کل کے نقصان کی وجہ سے ضائع نہ کردے، وہ اپنی چرب زبانی ااور فصاحت سے قلوب کو موہ لے”۔

رعایا، وزراء  اور مشیران پر امیر  کا حق ہوتا ہے کہ وہ اس کی امور ریاست و حکومت میں معاونت کریں۔ وہ حکمران کے معاون بھی ہوتے ہیں اور علم سیاسیات اسلامی میں فقہاء نے تاکید کی  ہے کہ امیر کو وزراء و مشیران بھی امیر جیسی خصوصیات کے حامل تعینات کرنے چاہیئں۔ ایک شاعر نے اعلی حکمران کی تعریف لکھی ہے کہ

و ملک و امرکم للہ درکم
رجب الذراع بامر الحرب مضطلعا

لامترفا ان رخاء العیش ساعدہ
و لا اذاعض مکروھ بہ خشعا

ماذال یحلب درالدحرا شطرہ
یکون متبعا یوما و متبعا

حتی استمر علی شزرمریمرتہ
مستحکم الرای لا فخما و لا ضہعا

ترجمہ : اللہ ہی کو تمہاری خوبیاں سزاوار ہیں کہ ایسے شخص کو اپنا حاکم بناؤ جو سخی اور جنگجو ہو، اگر وہ خوشحال ہو تو مغرور نہ ہو اور اگر تنگدستی نے اسے آگھیرا ہو تو وہ اس سےگھبرا نہ جاتا ہو، وہ زمانے کے رنگ کے مطابق کام کرتا ہو، کبھی وہ خود دوسرے کی اتباع کرلے اور کبھی لوگ اس کی اتباع کریں اور جب وہ کسی مشکل کام کے کرنے کا ارادہ کرلے تو وہ ایسی مضبوط رائے کا آدمی ہو کہ نہ اس کیلئے وہ ثابت ہو اور نہ کمزور۔

"امیر کے پاس اختیار ہے کہ متعلقہ شعبے کے ماہرین میں سے کسی کو اپنا وزیر منتخب کرکے محکمہ کی سربراہی دے۔ اسلامی نظام حکومت میں ہمیں سیاسی و غیرسیاسی انتظامیہ کا تصور نہیں ملتا۔ ایک ادارے کی سربراہی بیک وقت دو افراد کے پاس نہیں ہوسکتی”

امر بالمعروف کے پہلے ذمہ دار اور نہی عن المنکر کے تحت امیر کو ہر ناجائز کام سے روک سکنے کافرض بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ جب امرائے سلطنت یا مشیران یا رعایا کمزور پڑتی ہیں یا اپنے فرائض سے غفلت برتتی ہیں  توحکمران بھی رعایا کے معاملے میں دلیر ہوجاتے ہیں۔لیکن جب رعایا بھی  پابند قرآن و سنت ہوں تو حکمران بھی بہک نہیں سکتے۔

سربراہ مملکت کے وزراء اپنے شعبوں میں ماہر ہوں۔ جیسے ریاست میں قاضی حضرات کی دیکھ بھال کیلئے قاضی القضاء / چیف جسٹس کی تعیناتی کی جاتی ہے۔ جیسے دفاعی و عسکری معاملات دیکھنے کیلئے فوج کے سربراہان کی تعیناتی کی جاتی ہے۔ ایسے ہی اندرون ملک انتظامی امور کی نگرانی  کیلئے وزراء کے ساتھ وزیر اعظم کی تعیناتی  کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم جو کہ دراصل اندرونی  انتظامی امور میں سربراہ مملکت کا نائب ہوتا ہے۔ وزیر اعظم بھی مجلس خاص سے متعلقہ عہدہ ہے اور سربراہ مملکت اگر چاہے تو وہ وزیراعظم کو مجلس تشریعی یا کابینہ مکمل کرنے کا اختیار دے دیں یا اپنی مرضی سے وزراء تعینات کردیں اور کسی کو بھی وزیراعظم کا اختیار دے دیں یا وزیراعظم تعینات نہ کریں۔ یہ استحقاق امیر کا ہے اور شرعی مسئلہ نہیں ہے۔  ہمیں قرون اولی میں وزیر اعظم کی تعیناتی کی کوئی مثال نہیں ملتی، البتہ بعد میں  کچھ اسلامی ریاستوں میں وزیراعظم کی تعیناتی کی مثالیں ملتی ہیں لیکن اس کے نتائج اچھے نہ رہے۔ اس لئے قبل از وقت ولی عہد کی تعیناتی یا تمام امور ریاست چلانے کیلئے وزیراعظم کی تعیناتی نہیں ہونی چاہئے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ میں امیر کے بعد اتنے اختیارات جمع ہوجاتے ہیں کہ سازشوں، بغاوتوں کا خطرہ در آتا ہے۔ اس کی نسبت دو دو یا تین تین محکمہ جات یا امور کی ذمہ داری ایک وزیر کو دے دی جائے۔ تمام اختیارات کا منبع "امیر” کو ہی ہونا چاہئے۔ سربراہ مملکت میں اتنی اہلیت و قابلیت ہونی چاہئے کہ وہ امور ریاست چلا سکے ورنہ اتفاق رائے سے امور ریاست کسی کو سونپ کر مستعفی ہو جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!