اسلامی ریاستوں میں عدل و انصاف

فتح مکہ کے بعدمحمد رسول اللہ ﷺ ان لوگوں سے جو ساری عمرآپﷺ کے خلاف نبرد آزما رہے اور آپﷺ کو ایذا دینے کا سبب بنے، ان سےفرماتےہیں۔

"جاؤ آج تم سب آزاد ہو"

اس سے بڑھ کر دنیاکی تاریخ میں عدل اور شفقت کی مثال ملنا نا ممکن ہے۔ ایک غیرمسلم عمرؓ بن الخطاب کے پاس آکر شکایت کرتا ہے کہ "آپ کے گورنرعمرؓو بن العاص کے بیٹے نے مجھے تھپڑ مارا”  حضرت عمرؓفاروق اس کے  لئے گورنر کے بیٹے سے قصاص لیتے ہیں۔ ایک  غیرمسلم ایک ڈھال کیلئے امیر المومنین حضرت علیؓ المرتضی کے خلاف عدالت میں جھوٹا دعوی کرتا ہے اور مقدمہ جیت جاتا ہے۔ مسلمانوں کا عدل دیکھ کر ذمی  مسلمان ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر فاروق کے پاس بصرہ سے ایک وفد آیا تو ان سے پوچھا کہ وہاں مسلمان، غیرمسلم شہریوں کو کوئی تکلیف تو نہیں دیتے؟۔۔۔ وفد کے لوگوں نے بتایا کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے کہ مسلمان غیرمسلموں کو ان کے حقوق دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ فاروق کے زمانے میں سیدنا حضرت علیؓ المرتضی مدینہ منورہ کے قاضی تھے اور یہ کہہ کر اپنا استعفی پیش کرتے ہیں کہ

"اب لوگوں کے مابین کوئی مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوتا تو قاضی کی ضرورت نہیں"

 اسلام غیرمسلموں کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے اسلامی ریاست پہ حقوق ہیں۔ اسلامی ریاست غیرمسلموں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مرتبہ ایک حاکم نے کچھ لوگوں کو دھمکا کر زبردستی مسلمان بنالیا۔ لیکن جب قاضی کے سامنے زبردستی مسلمان کرنے کے گواہ و ثبوت پیش کیے گئے۔ قاضی نے بھی فیصلہ دے دیا کہ انہیں اپنے مذہب پہ واپس جانے اور عمل کرنے کا اختیار ہے۔ یہ معاشرے میں توازن پیدا کرنے اور برداشت کا مادہ ابھارنے کا درس ہے۔ لیکن جو مسلمان ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کیلئے اسلام پہ عمل کرنے کا آزادانہ ماحول مہیا کرے اور ان کو اسلام پہ عمل کروانے کیلئے تعلیم و ترغیب کا اہتمام کیا جائے اور نماز، زکوۃ اور دیگر احکامات اسلام پہ عمل کروایا جائے۔ البتہ توہین مذہب، توہین پروردگار، توہین رسالت و تکمیل نبوت  کے معاملے میں قصوروار پہ مقدمہ چلا کر اس کو فی الفور سزا دے کر عمل درآمد کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اسلام  عدل و انصاف کو بہت اہمیت دیتا ہے۔اسلامی ریاستوں کےقاضی حضرات  انتہائی با صلاحیت اور ذہین ہوتے تھے۔ وہ مقدمات کو جلد از جلد نمٹاتے اور انصاف مہیا کرسکتے تھے۔ غیر مسلم تاریخ دانوں نے بھی اسلامی تاریخ کا نمایاں پہلویہی  بیان کیا ہے کہ  مسلمان حکمران ہمیشہ عادل حکمران کے طور پہ یاد رکھا جانا پسند کرتے تھے اور اس کیلئے رعایا کو مختلف انداز میں حکمرانوں تک رسائی بھی حاصل ہوتی تھی۔قاضی  مقرر کئے ہوتے تھے۔ قاضی کے پاس اتنے اختیارات ہوتے تھے کہ وہ خلیفہ یا سربراہ مملکت کو بھی عدالت  میں طلب کر سکتاتھا۔ اسلامی ریاستوں میں بیشمار واقعات ہیں جن میں امیر المومنین یا سربراہ مملکت تک کو قاضی نے طلب کرلیا اور قاضی کے سامنے خلیفہ وقت بھی بے بس دکھائی دئیے۔ یہ ہے اسلام کا نظام عدل و انصاف۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب، حکومت، انصاف، ہرشعبہ  تعلیمات اسلامیہ کے عین مطابق رہا۔ اسلام نے انتہائی واضح اور روشن رستے عطا کئے ہیں۔اسلام نے ہرسطح پہ حدود و قیود مقرر کی ہیں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوسکے۔ بادشاہ کو بھی قانون کے تابع کیا ہے۔ مسلمان حکمران خواہ وہ بادشاہ ہو یا امیر یا صدر اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے اختیارات کے استعمال کی حدود مقرر کی ہیں۔  سربراہ مملکت یا امیر المومنین ہونے کے باوجود اگر کسی امیر  سے بھی کوئی جرم ہوا تو ان کا بھی عدالتی مواخذہ ہوا۔

خلیفہ ہارون الرشید  خود دربار لگائے ہوئے تھے اور قضا کی اپیلوں کو سن رہےتھےکہ ایک شخص داخل ہوا اوراس نے کہا کہ امیر المومنین نے میرے باغ پہ قبضہ کرلیا ہے۔دربار کی کاروائی کو رکوا کرقاضی القضاء نے ہارون الرشید سے اس معاملے کی پوچھ گچھ شروع کردی ۔ جبکہ ہارون الرشید اس دن خود مقدمات کے فیصلے صادر فرما رہے تھے۔ لیکن خلیفہ ہارون الرشید نے ہرسوال کا جواب دیا۔حتی کہ قاضی القضاء نے موقع پہ ہی تمام تحقیق کرکے امیر المومنین کو اس الزام سے بری قرار دے دیا۔ جبکہ امیر المومنین یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ آج میں خود قضا کی اپیلیں سن رہا ہوں اور قاضی القضاء مجھ سے میرے ہی دربار میں تحقیق نہیں کرسکتے۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ فوری انصاف کو یقینی بنایا گیا لیکن قاضی القضاء امام یوسف تمام عمر افسوس کرتے رہے کہ میں نے خلیفہ کو مدعی کے ساتھ کیوں نہ کھڑا کیا۔ جبکہ انصاف کے رستے میں ذرا برابر بھی کوئی حائل نہ ہوا۔ انصاف کی کس قدر فکر خلفاء اور قاضی حضرات کو تھی، اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ایک مسیحی عورت ، سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہتی ہے کہ  "میرا شوہر تمہاری قید میں ہے اب مجھے خرچہ تم دو”۔ سلطان اس جنگی قیدی کو آزاد کرکے دونوں کو گھر تک پہنچنے کا خرچہ دے کر رخصت کرتےہیں۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اور فوجی کمانڈرز فدیہ میں ملنے والی رقم کو دشمن کے قیدی سپاہیوں پہ یہ کہہ کر خرچ کرتے ہیں کہ یہی فقراء ہیں۔ کیا کوئی مغربی جمہوریت یا کوئی بھی دوسرا نظام حکومت یا کوئی آج کی ریاست  ایسی مثال دے سکتی ہے؟۔۔۔ مسلم ریاستوں میں ہر لحاظ سے انصاف کو یقینی بنایا گیا۔ غیرمسلم تاریخ دان بھی  یہ لکھتے ہیں  کہ مسلمان حکمران  اپنے آپ کو "انصاف پسند بادشاہ” کہلوانا پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تاریخ میں تمام اسلامی سلطنتوں میں شاید ہی کوئی حکمران ایسا ہو جس نے انصاف کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا ہو۔

قاضی خیر بن نعیم رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے خلیفہ وقت عبدالملک بن مروان نے اپنے چچا زاد بھائی کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا اور جب قاضی کے سامنے پیش ہوئے تو خلیفہ نے قاضی کے ساتھ فرش پہ بیٹھنا چاہا۔ لیکن قاضی نے انہیں یہ کہہ کر اٹھا دیا کہ اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ جاکر بیٹھو۔ ایسے ہی خلیفہ ابوجعفر منصور کے خلاف ان کی بیوی نے قاضی غوث بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کے پاس مقدمہ دائر کیا اور اپنی طرف سے مقدمہ کی پیروی کیلئے ایک وکیل پیش کیا۔ قاضی نے خلیفہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کے وکیل کے برابر فرش پہ بیٹھیں۔ پھر مقدمہ کی شنوائی کے بعد خلیفہ کے خلاف فیصلہ دیا۔

ایسے ہی تاریخ میں ہے کہ قاضی شریح بن حارث اپنی بیٹے کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ بیٹے نے کہا: ابا جان! میرا کچھ لوگوں سے جھگڑا ہے، میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں حق پر ہوں تو مقدمہ آپ کی عدالت میں پیش کروں اور آپ انصاف کے تقاضے مدِنظر رکھتے ہوئے میرے حق میں فیصلہ کر دیں اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا مؤقف کمزور ہے اور میں غلطی پر ہوں تو پھر میں سرے سے یہ مقدمہ پیش ہی نہیں کروں گا بلکہ ابھی ان لوگوں کے پاس جا کر کسی طریقے سے صلح کر لیتا ہوں۔ والد نے دریافت کیا، بتاؤ !کیا جھگڑا ہے؟۔۔۔ بیٹے نے تفصیل بتائی۔ قاضی شریح فرمانے لگے تم پہلی فرصت میں مقدمہ میری عدالت میں پیش کرو۔ اگلے دن مقدمہ پیش ہوا، فریقین حاضر ہوئے، دونوں نے دلائل دئیے اور بعد ازاں قاضی شریح نے اپنے بیٹے کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ عدالت سے فارغ ہو کر باپ بیٹا گھر آئے تو بیٹے نے کہا،ابا جان !آپ نے تو میرے مخالفین کے حق میں فیصلہ کردیا، یہ کیا بات ہوئی؟۔۔۔ باپ نے کہا: ہاں میرے بیٹے !میں نے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ کیا ہے کہ یہ لوگ حق پر تھے۔ بیٹا کہنے لگا، ابا جان مجھے فیصلے پر اعتراض نہیں۔ ملال یہ ہے کہ میں نے آپ سے مشورہ کیا تھا اور آپ ہی کے ارشاد پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ آپ مجھے مقدمہ دائر کرنے کیلئے نہ فرماتے تو میں ان سے صلح کر لیتا اور آج سرِ عام سب کے سامنے جو میری ذلت اور رسوائی ہوئی ہے اُس کی نوبت نہ آتی۔ آپ نے اُسی وقت کیوں نہ فرما دیا کہ میں جا کر ان سے صلح کر لوں ۔ آپ نے مجھے بھری عدالت میں ذلیل کردیا۔ قاضی شریح نے فرمایا: "بیٹے ! اللہ کی قسم !تم مجھے دنیا جہاں سے زیادہ عزیز ہو مگر اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ عزیز تر اور محبوب ہے "۔ لیکن میرے لیے ہر گز جائز نہیں کہ میں اپنے رب کو ناراض کروں۔ اگر میں تمھیں بتا دیتا کہ حق تمھارے مخالفین کے ساتھ ہے تو تم ان سے صلح کرلیتے،اس صورت میں ان کا حق مارا جاتا۔ مجھے ان کی حق تلفی گوارہ نہیں ہوئی۔ اسی لیے میں نے "حق بحقدارِ رسید کا اہتمام کردیا”۔ یہ معمولی سا واقعہ نہیں ہے کہ عدل و انصاف کیلئے قاضی کس حد تک چلے جاتے تھے۔

 جب صاحب اختیار اور صاحب اقتدار ادنی سے معاملے میں بھی عدل و انصاف اور احتیاط  کا دامن ترک نہ کریں تو ریاستیں پنپتی ہیں اور یہی اسلامی ریاستوں میں ہوتا تھا کہ ہر صاحب اختیار و اقتدار کے دل میں اللہ کا خوف جاگزیں ہوتا تھا اور وہ کسی سے بھی رعایت نہ برتتے تھے۔ اسلام نے ایک نظام حکومت دیا ہے جو کہ عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں کی انصاف پسندی ، اسلام کے اصولوں اور تعلیم و تربیت  کی عکاس ہے ۔چند واقعات نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ  واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ ہوتا ہے انصاف، جس کی ایک مثال بھی  غیرمسلم اقوام یا مغربی جمہوریت یا آمریت یا تاریخ کے کسی بھی گوشے میں ملنا ممکن ہی نہیں کیونکہ وہ انسانوں کو  محکوم بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ

"غیر مسلموں کو بھی تحفظ، امن اور عدل ملا ہے تو وہ اسلام نے عطا کیا ہے”

 کہا جاتا ہے کہ آج کل حکمران حکومت کو مغل بادشاہوں کی طرح چلارہے ہیں۔ جبکہ مغل بادشاہ تو عادل مشہورتھے۔ وہ بھی قانون و ضوابط کے پابند ہوتے تھے۔ کہا جانا چاہئے کہ آج کل کے حکمران حکومت کو کافر بادشاہوں کی طرح چلا رہے ہیں۔ ظلم، برائی  کو برا بھلا کہو لیکن اپنی خامیوں  اوراپنے بے ترتیب نظام حکومت کو ٹھیک کرو۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ موجودہ حکمران ، حکومت کو آمر حکمرانوں یا غیرمسلم بادشاہوں کی طرح مرضی من مانی کی طرح چلانا چاہتے ہیں۔ جیسے داڑھی کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ داڑھی رکھنا سنت ہے اور کچھ فقہاء نے تو واجب بھی قرار دیا ہے۔ خوبصورت داڑھی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے، جیسے سر کے بال کٹوانا، ناخن تراشنا وغیرہ ۔ یہودیوں یا سکھوں کو کوئی نہیں کہے گا کہ داڑھی رکھی ہوئی اور ظلم کررہے ہو۔ یا کسی کو یہ نہیں کہا کہ ناخن کاٹے ہوئے ہیں اور بدتمیزی کررہے ہو۔ نہ کوئی یہ کہے گا کہ بال کٹوائے ہیں اور زبان درازی کررہے ہو۔ لیکن اگر کسی مسلمان سے کوئی بداخلاقی ہو جائے تو داڑھی کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام سے بیزار کرنے کےلئے کیا جارہا ہے۔

تاریخ میں مجھے کوئی ایسا مذہب، ایسا نظام، ایسا عدل، ایسا محبت کا پیغام بتا دیں کہ لوگوں نے اپنی تہذیب، زبان، عادات و اطوار کو فراموش کردیا ہو اور فاتحین کی زبان اپنا لی، تہذیب اپنا لی، عادات و اطوار بدل لئے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب فاتح انصاف کرے اور برابری کی سطح پہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے اور محبت سے پیش آیا جائے۔

"مصر، لیبیا جیسے ان سب ممالک نے فاتح صحابہ/تابعین کی آمد کو ایسا قبول کیا کہ ان کی زبان، تہذیب سب تاریخ میں کھو گئی۔
بہت سے عربی بولنے والے ممالک، چودہ صدیاں پہلے عرب نہیں تھے اور نہ ہی وہاں عربی بولی جاتی تھی،
لیکن اب ان کی زبان عربی ہے اور وہ اپنے آپ کو عربی کہتے ہیں”

اسلامی ریاستوں میں کسی بچے کی سسکیاں سنائی نہیں دیتیں۔ کسی عورت کی چیخ و پکار سنائی نہیں دیتی۔ کسی بوڑھے کے آنسو دکھائی نہیں دیتے، کسی کے گھر کی دہلیز کا تقدس پامال ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نظر نہیں آتی۔ کسی کافر کو زبردستی  مسلمان نہیں کیا گیا لیکن کفر کے دور میں کافر، مسلمان سب کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی ریاستوں میں اسلامی نظام حکومت، شورائی نظام حکومت کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ اسلامی ممالک کو اسلام کے اصولوں کے مطابق حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل کرنا ضروری ہوچکا ہے۔تمام اسلامی ریاستوں کے سربراہ  اپنی وحدت یعنی خلافت کو قائم کریں اور اسے مضبوط کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب مسلمان متحد ہوجائیں تو ان کے پاس قرآن و سنت کی صورت میں ایک ایسا نظام ہے کہ یہ تمام انسانی نظاموں کو مسترد کردینے پہ مجبور کردیتا ہے اور پوری دنیا کی فلاح کی بات کرتا ہے۔ مسلمانوں کے پاس راستہ ہے۔ صرف قرآن و سنت کا راستہ۔

اسلامی ریاستوں کی صدیوں پہ محیط عظیم الشان تاریخ کو چند صفحات کے ایک باب یا ایک کتاب میں قید کرنا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع اور کارہائے نمایاں کے واقعات سے بھری تاریخ ہے۔ اس پہ لاتعداد کتابیں لکھی گئی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ المختصر اتنا ہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ دنیا میں عدل و  انصاف، معیشت، تعلیم و تحقیق اور ترقی کا راستہ اسلامی ریاستوں نے ہی روشن کیا، جس کی وجہ اسلامی نظام حکومت کے تحت چلنے والی  ریاستیں ہی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!