اسلامی حکومت کے ذرائع آمدن کا امتیاز

اسلامی معاشی نظام اور غیراسلامی معاشی نظام میں ایک بہت واضح سا فرق ہے کہ

"غیراسلامی معاشی نظام میں آمدن پہ ٹیکس لیا جاتا ہے، خواہ آپ کو بچت ہو یا نہ ہو، اسلامی معاشی نظام میں اس فرد سے ہی زکوۃ لی جاتی ہے جو صاحب نصاب ہو یعنی اس کو آمدن ہی نہ ہو بلکہ
 اخراجات کرنے کے بعد اس نے بچت بھی کی ہو۔ بچت پہ زکوۃ وصول کی جاتی ہے”

صرف انسانوں سے کوئی نہیں ڈرتا لیکن خالق کائنات، رب العالمین کی ناراضگی اور غصے کا خوف ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ جب اسلامی حکومت اللہ کی حاکمیت کو قائم کرتی ہے توکوئی بھی اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں جاتا۔ اسلامی حکومت میں جرم کے ارتکاب پہ حکومت کی طرف سے سزا کا ہی ڈر نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی ناراضگی کا خوف بھی  ہر شہری میں ہوتا ہے۔ اس طرح ایک فلاحی ریاست کا قیام عمل میں آتا ہے۔ غیر اسلامی معاشی نظام میں صرف حکومت کے وضع کردہ قوانین  کا ڈر ہوتا ہے اور اس ڈر کا حال یہ ہے کہ لوگ ایمانداری سے ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔ کتنے حکومتی اہلکار ایمانداری سے ٹیکس وصول کرتے ہیں؟۔۔۔ کتنا حکومت ایمانداری سے اس کو عوام کی فلاح و بہبود پہ خرچ کرتی ہے؟۔۔۔

اللہ تعالی صرف ایمان والوں کے مالوں کو قبول فرماتے ہیں۔ حرام کمائی میں سے اللہ پاک کےلئے مال کو پیش کرنے کا ارادہ کرنا ہرگز جائز نہیں ہے جیسا کہ رشوت کا مال، سود کا مال، چوری ،ڈاکے یا غصب کا مال وغیرہ۔ اللہ کی راہ میں حرام مال میں سے خرچ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی کا حق مارا ہے تو وہ اس کو لوٹا دیا جائے۔ اگر یاد نہ ہو کہ کس کس کا مال ہے تو وہ مال بغیر ثواب کی نیت کے بیت المال میں جمع کروا دیا جائے یا کسی مستحق کو دے دئیے جائیں۔

اسلام میں حکومت کے ذرائع آمدن کی حدود و قیود مقرر ہیں۔ جن میں کچھ قابل تغیر اور کچھ ناقابل تغیر ذرائع آمدن بھی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!