اسلامی حکومت کی ابتداء

اسلامی نظام حکومت کی تاریخ جو کہ صدیوں پہ محیط ہے، اس کا احاطہ ایک باب تو کیا ایک کتاب بھی نہیں کرسکتی۔ لیکن صرف اسلامی حکومت کے ثمرات، اثرات اور نتائج پہ ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

جو الفاظ بھی نبی کریم ﷺکی زبان مبارک سے ادا ہوئے وہ الفاظ مبارک، اللہ کا کلام یعنی قرآن مجید ہے  یا  حدیث کہلاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺکے دور میں وحی اور احادیث مبارکہ کے ذریعے رہتی دنیا کی بقاء کیلئے، نظام حکومت کے متعلق روئے زمین کے انسانوں کی فلاح و بہبود کی بنیاد عطاکردی گئی ۔ اس دور کی عظمت کی مثال پوری کائنات کی کسی تاریخ میں نہ مل سکے گی۔ قیصر و کسری کے محلات تو نبی کریم ﷺکی ولادت پہ ہی لرز اٹھے تھے۔ لیکن فلاح انسانیت تب ممکن ہوئی، جب صحابہ اکرام، بعثت سرور عالمﷺ کے بعد تعلیمات نبوت کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو ڈھالتے ہوئے روئے زمین پہ پھیل گئے ۔ ان کی سلطنت میں ہونے والے ظلم کو ختم کیا اور روئے زمین  کو فلاح انسانیت کا درس بھی دیا۔

اسلامی نظام حکومت کی بنیاد ، مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺنے رکھی۔ ریاست مدینہ میں  سب سے پہلے معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے اخوت ، بھائی چارے کی فضا قائم کی۔ تاکہ کوئی بھی محرومی کا شکار نہ ہو۔ انصاری صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین  نے بھی ایثار کی انتہا کردی کہ جس کے پاس جتنا مال تھا وہ اپنے مہاجر بھائی سے آدھا بانٹ لیا ۔ زمین میں آدھا حصہ دار ملا لیا۔اس سے معیشت کی مضبوطی کا درس ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺنے  ایک ایسا اعلی  نظام عطا کیا، جو کہ کسی غریب کو متاثر نہیں کرتا۔ گویا اسلامی نظام حکومت کی ابتدا معاشی نظام کے نفاذ سے ہوئی۔

مدینہ منورہ میں یہود کی آبادی کثیر تعداد میں موجود تھی۔ جب نبی کریمﷺنے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تو  نبی کریمﷺ نے ان کے ساتھ میثاق مدینہ کیا ۔ تاکہ امن کی فضا قائم رہ سکے۔ میثاق مدینہ کی وجہ سے ،مدینہ منورہ کی آبادی ایک نظام ریاست اور دستور کے تحت آ گئی۔ یہ بھی واضح ہو گیا کہ اس طرح نظام عدل کی بنیاد بھی رکھ دی گئی۔ وسائل کی کمی کے پیش نظر باقاعدہ تنخواہ دار فوج مقرر نہیں کی جاسکتی تھی لیکن تمام صحابہ اکرام کیلئے عسکری خدمات دینا ضروری ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺنے دن  رات ریاست مدینہ کی سرحدوں کی باقاعدہ حفاظت سے دفاعی و عسکری نظام  کا آغاز فرمایا۔

تعلیمی شعبہ اسلام میں اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ نبی کریم ﷺنے مسجد نبوی میں  اصحاب صفہ باقاعدہ وہاں پہ مقیم تھے۔غزوہ بدر کے دوران جب مکہ کے قیدی آئے تو ان کو بھی تعلیم دینے کی شرط پہ ہی آزاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ خطبہ مبارک تعلیم و تدریس سے ہی تعلق رکھتا تھا۔

نبی کریم ﷺنے بادشاہوں کو خطوط ارسال کرکےاور صلح حدیبیہ کے ذریعے ، خارجہ پالیسی بھی امت کو سمجھائی۔ غیرمسلم ریاستوں کو دعوت و تبلیغ سے ایک رہنمائی یہ بھی ملتی ہے کہ ان ریاستوں کو پہلی دعوت اسلام قبول کرکے مکمل طور پر دائرہ اسلام میں آنے کی دعوت دی جاتی تھی۔ چونکہ مذہب اختیار کرنے میں قرآن مجید کے حکم کے مطابق کوئی جبر نہیں اس لئےاسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں انھیں امور ریاست اسلام کے مطابق چلانے کی دعوت دی جاتی تھی۔ جس کا مقصد حقوق العباد کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف اور "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کا نفاذ تھا۔ یعنی توازن کے ساتھ امور ریاست چلانا کم سے کم درجہ تھا۔ امور ریاست اگر اللہ کے حکم کے مطابق نہیں چلائے جاتے تو اس ریاست یا خطے سے ظلم نہیں ختم ہوگا۔

ہمیں ہر جگہ/ہر لمحہ/ہر معاملے میں نبی کریم ﷺکی رہنمائی حاصل ہے۔جیسے جیسے اسلامی ریاست کے نظام ہائے کی تشکیل نبی کریمﷺ فرما رہے تھے ، ویسے ویسے ہی ریاست کی حدود وسیع ہوتی جارہی تھیں اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں آرہے تھے۔ جو لوگ ایک دوسرے کو  معمولی بات پہ قتل کردیتے تھے ۔وہ اب کسی بھی دوسرے پہ ظلم نہیں کررہے تھے۔ یہاں تک کہ جمعۃ الوداع میں وحی کے ذریعے اللہ تعالی نے نوید سنادی کہ

"آج تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کرلیا گیا اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردیں” یعنی جو نعمتیں روئے زمین پہ اللہ تعالی نے عطا کرنی تھیں وہ نبی کریم ﷺ کے اعلی و ارفع ترین دور میں مکمل کردیں، خواہ وہ احکامات کی صورت میں تھیں یا امن کی صورت میں یا فلاح کی صورت میں یا دنیاوی نعمتوں کے لحاظ سے تھیں۔ تمام ترظاہری و پوشیدہ  نعمتیں اللہ تعالی نے عطا کردیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!