اسلامی حکومتوں کے زوال کے اسباب

تاریخ سے معلوم ہوتا  ہے کہ اسلامی حکومت جہاں بھی قائم ہوئی، اس کی عمل داری ختم ہونےمیں صدیاں لگیں۔ خلفاء راشدین میں سے تین خلفاء کی شہادت ہو یا سقوط بغداد یا سقوط غرناطہ یا  سقوط دہلی  یا  خلافت عثمانیہ کا زبردستی خاتمہ، تیرہ سوسالوں میں اسلامی نظام  حکومت سے کوئی بھی بیزار نہ ہوا۔ نہ ہی کوئی تحریک اسلامی نظام حکومت کے خلاف چلی۔ غیر مسلم ریاستوں کے حکمران ہی اسلامی نظام حکومت اور بالخصوص خلافت کی مرکزیت کو کمزور کرنے کیلئے برسرپیکار رہے۔

اسلامی حکومتوں کے زوال کے اسباب، مختلف ادوار میں مختلف رہے۔ اگر کوئی آواز اٹھی تو نااہل، ناعاقبت اندیش حکمرانوں کے خلاف اٹھی یا پھر مسلم حکمرانوں یا عوام الناس  کی غفلتیں، کوتاہیاں، من مانیاں ،  غداروں کی غداریاں اسلامی حکومتوں کو نقصان پہنچاتی رہیں۔ نظام ریاست کو چلانے والے ارباب اختیار کے روئیے یا نااہلیاں یا کمزوریاں حکومتوں کو کمزور کرتی رہیں۔ کبھی مسلمانوں کی سہل پسندی وجہ بنی اور کبھی آپس میں بد اعتمادی اور نااتفاقی وجہ بنی اور کبھی چند منافقوں کو ذاتی مفادات نے غداری پہ اکسایا اور کبھی  عیسائیوں ، ہندوؤں، یہودیوں  یاغداروں  کی سازشیں اسلامی حکومتوں کے خاتمے کا سبب بنیں۔ غیرمسلموں نے مسلم ایوانان اقتدار میں غدار پیدا کئے گئے، جنہوں نے غیرمسلموں کو خفیہ مدد پہنچائی اور مسلم حکومتوں کو ختم کرنے اور اسلامی نظام حکومت کی عملداری ختم کرنے میں منفی کردار ادا کیا۔ ایوانان اقتدار میں اندرونی خلفشار کا سبب، سربراہ کے چناؤ کا شرعی طریقہ اختیار نہ کرنابھی  رہا۔ امرائے سلطنت کا کمزور ہوجانا بھی اس کی ایک وجہ رہی۔

حکومتیں ختم ہوئیں یا کمزور ہوئیں لیکن اسلامی نظام حکومت کے اثرات میں کبھی تبدیلی نہ آئی، وہ اثرات ویسے ہی رہے اور رہیں گے۔ جیسا کہ اسلام کی تعلیمات پہ عمل کرنے سے مرتب ہوتے ہیں۔ جب جب ریاستی احکامات میں اسلامی احکامات اور تاریخ سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیا گیا یا حکمرانوں اور رعایا نے اسلامی تعلیمات کے نفاذ میں غفلت یا  سہل پسندی سے کام لیا، اس کے نتیجے میں ریاست  کمزورہوئی۔ کیونکہ اسلام میں احکامات الہیہ سے غفلت اور من مانی کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ہم نے اسلام کی تعلیمات  پہ عمل نہیں کیا تو رسوا اور ذلیل ہوئے اور آنے والی نسلوں نے اس کی قیمت چکائی۔

” اسلامی نظام حکومت ایک مکمل  اور باکمال نظام حکومت ہے،
لیکن مسلمان قرآن و سنت سے دور ہو ئے اور زوال پزیر ہوگئے”

اسلامی نظام حکومت میں کوئی خامیاں نہیں آئیں کہ یہ ناکام ہوگیا۔ اسلامی ریاست ہمیشہ اس وقت ناکام ہوئی جب وہ اپنا استحقاق کھو دیتی تھی۔ یا جب صاحب اختیار و صاحب اقتدار نظام حکومت کو متوازن نہیں رکھ پاتے تھے یا عیاشیوں میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ لیکن اسلامی ریاستوں کے معاملے میں ناانصافی کا عنصر نہیں پایا جاتا۔ نہ ہی انھوں نے رعایا پہ کوئی ظلم کیا جاتا تھا۔ بہت سے مواقع پہ مجلس شوری یا مفتی اعظم نے غیرشرعی محاصل نافذ کرنے کے حکم کو منسوخ کردیا۔ اگر کسی اسلامی ریاست میں امیر نے خلاف شرع کام کئے تو بعد ازاں اس نے توبہ کی۔

لیکن اسلامی نظام حکومت کے علاوہ کوئی ایک ایسا نظام حکومت نہیں، جس میں روئے زمین  پہ عدل ہوا۔ جس نظام کے نفاذ کی کوشش سے لیکر اسی نظام  کے نفاذ اور اسی نظام کے نفاذ کے بعد بھی ظلم کی داستانیں نہ لکھی گئی ہوں۔ لیکن اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش یا نفاذ کے دوران   بھی تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کو روکنے کیلئے ہی مسلمان کوشش کرنے کیلئے مجبور ہوئے۔

"اسلام کے علاوہ کوئی بھی نظام ایسا نہیں جو پوری دنیا کیلئے ہو اور کامیاب ہو۔ ہر نظام ناکام رہا اور ہر نظام کا تجربہ تلخ رہا”

اللہ تعالی، قرآن مجید میں  حکم دے رہے ہیں کہ

"اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ”

یعنی اسلام کو بطور مذہب اختیار کرنے کا اختیار ہے کہ کوئی مسلمان ہو یا نہیں۔ لیکن جب مسلمان پیدا ہوگیا یا مسلمان ہوگیا تو وہ جیسے چاہے اپنی مرضی سے زندگی نہیں گزار سکتا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ اسلام پہ عمل کرلیا اور باقی ترک کردیا۔ اس لئے جب ہم اپنی مرضی کے موافق اسلام کو اپنائیں گے اور اسلام کے احکام کو ترک کریں گے تو زوال پزیر ہی ہوں گے، کیونکہ حکم الہی جو کہ انعام الہی ہے، سے بے اعتنائی کرنے کی سزا ملے گی۔ تاریخ یہی سمجھاتی ہے کہ اسلام سے غفلت برتنے پہ مسلمان ذلیل و رسوا ہوئے۔

” ہر نظام کو آمرانہ کہا گیا، سوائے اسلامی نظام حکومت کے
ہر نظام کے خلاف تحریکیں اٹھیں، سوائے اسلامی نظام حکومت کے
 ہر نظام کو برا بھلا کہا گیا، سوائے اسلامی نظام حکومت کے
ہر نظام سے بغاوت کی گئی ، سوائے اسلامی نظام حکومت کے
لیکن اسلامی حکومتوں کے زوال کی وجہ مسلمانوں کا اللہ تعالی کے احکامات پہ عمل  نہ کرناہی رہا”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!