اسلامی بینکنگ کا آغاز

بیسویں صدی میں ستر کی دہائی کے اوائل میں سب سے پہلا اسلامی بنک دبئی میں قائم ہوا۔ جنرل مشرف کے دور کی ابتداء میں ہی تنظیم الاخوان پاکستان کی سربراہی میں، منارہ ضلع چکوال میں نفاذ اسلام کیلئے سخت سردی اور رمضان المبارک میں، ونہار کے کوہساروں پہ ایک ماہ تک قائم رہنے والی انتہائی پرامن احتجاجی خیمہ بستی، جس دوران کوئی ایک راستہ تک بند نہ کیا گیا، کی وجہ سے حکومت چاروناچار یہ مانی کہ ملک کے نظام حکومت کواسلامی کیا جائے لیکن یہ کام بتدریج کیا جاسکتا ہے۔ امیر تنظیم الاخوان پاکستان، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نےنفاذ اسلام  کی ابتداء کرنے کیلئےیہ بھی  قبول کرلیا۔ حکومت اور تنظیم الاخوان پاکستان کے مابین یہ پایا کہ  معاشی نظام کو اسلامی کرنے سے نفاذ اسلام کی  ابتدا کی جائے اور ہر سطح پہ سود سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ جس کیلئے ایک اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار کمیٹی تشکیل دی گئی۔ لیکن یہ کمیٹی صرف اسلامی بینکنگ نظام کو ہی تشکیل دینے اور نافذ کرنے میں کامیاب ہوسکی۔ جس کے بعد دنیا میں اسلامی بینکنگ پہ تحقیق کا آغاز ہوا۔ اسلامی نظام حکومت کے نفاذ پہ تمام اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی انداز میں آواز اٹھتی رہتی ہے ۔ لیکن سیاست و معیشت پہ بیک وقت موثر آواز اٹھانے اور پہلی دفعہ معیشت کو اسلامی کرنے کی اہمیت کا احساس دلانے کا سہرا"امیر تنظیم الاخوان پاکستان، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ” کی مخلصانہ اور دلیرانہ کوششوں کا ہی نتیجہ تھا۔ لیکن اس معاملے کو بینکنگ سسٹم میں متوازی اسلامی بینکنگ کے نظام کی ابتداء سے آگے مکمل اسلامی معاشی  نظام کے  نفاذ تک نہ پہنچایاگیا۔جس میں صاحب اختیار/ بیورو کریسی اور صاحب اقتدار یعنی حکومت دونوں کی  بدنیتی واضح نظر آتی ہے۔

پھر کئی اسلامی بنک وجود میں آئے، جن میں فیصل اسلامی بنک، دبئی اسلامی بنک اور میزان اسلامی بنک انتہائی شہرت کے حامل ہیں۔

مروجہ اسلامی بینکاری نظام میں علماء اکرام کا کردار رسمی و ثانوی حیثیت کا نہیں بلکہ اسلامی بینکوں کے کلیدی اور فیصلہ کن عہدوں پرفائز ہیں۔ علماء اکرام اسلامی بینکوں میں قائم شرعیہ بورڈ کے ممبران بینکوں کے اندورنی معاملات میں زبردست فیصلہ کن پوزیشن پر موجود ہیں اور آزادنہ طور پر یہ اپنے فرائض انجام دینے کا بھرپور ماحول انہیں میسر ہے۔ ان کے ایک دستخط اور ایک ای میل پر لاکھوں کروڑوں کی ٹرانزکشن رک جاتی ہے۔ ایک اسلامی بینک میں شرعیہ بورڈ، شرعیہ کمپلائنس ڈیپارنمنٹ، شرعیہ آڈٹ  اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ  وہ اہم ترین شعبے ہیں جہاں بھی علماء موجود ہیں۔ علماء اس پورے نظام کو دیکھ رہے ہیں۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اس نظام کو چلانے اور اسے بہتر بنانے میں بہت سے حضرات مکمل اخلاص اور محنت سے لگے ہوئے ہیں۔  لیکن حکومتی پالیسیاں، قانون سازیوں کی وجہ سے سودی نظام ابھی بھی پھل پھول رہا ہے اور  اسلامی بینکنگ نظام کو سودی نظام کی طرز پہ ہی چلایا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی میں ذاتی طور پر اس کا حامی ہوں کہ بجائے روایتی بینکنگ کے ہم اسلامی بینکنگ کو ہی رواج دیں کیونکہ اس کو تشکیل یاترتیب دینے والے تمام تر علماء و مفتیان ہیں۔ اس کے دو فائدے ہوں گے۔ ایک یہ کہ  ہم بینکنگ کی خامیاں دور  کرکے عین اسلام کے مطابق تو کرسکتے ہیں لیکن سودی بینکنگ  جو مرضی کر لیں، حرام ہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملکی سطح پہ قوانین کو عین اسلامی کرکے روایتی سودی بینکنگ مکمل طور پہ ہمیشہ کیلئے ختم کردی جاتی اور اس نظام کو اسلامی بینکاری نظام کا ہی نام نہ دیا جائے، جس سے یہ مخصوص ہو جائے کہ ہم کچھ الگ کررہے ہیں بلکہ ہم اللہ کے احکامات کے مطابق ہر سطح پہ کام کرنے کو یقینی بنائیں۔ ہر سطح پہ صرف وہ نظام رواں رکھے جائیں جو اسلامی حدود و قیود کے مطابق ہوں۔ یہ نظام اسی طرح چلتا رہا تو آگے جاکر بہت سی مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔

سراجیو اسکول آف اکنامکس اینڈ بزنس میں پڑھنے کیلئے یورپ ہی نہیں ایشیا بلکہ خلیجی ممالک سے طلبہ کی بہت بڑی تعداد جاتی ہے۔ برطانوی اساتذہ بھی یہاں تعلیم دیتے ہیں۔ ان سالوں میں اس یونیورسٹی میں داخلے کیلئے سب سے زیادہ درخواستیں پاکستانی طلبہ نے بھیجیں۔ موجودہ دور میں  انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، پاکستان، قطر، کویت،ملائشیا اسلامی طرز پہ بینکاری کو فروغ دینے میں سرفہرست ہیں۔ اسلامی  احکامات پہ ترتیب دئیے گئے نظام کی جامعیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانوی وزیر اعظم اعلان کرتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کا مرکز ہمارا ملک ہوگا۔ برطانیہ میں موجود اسلامی بینکوں کی تعداد دس ہے۔ برطانیہ کو پتہ ہے کہ موجودہ معاشی نظام ریت کی ایک دیوار ہے جو  معاشی بحران کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتا اور جبکہ دوسری وجہ  یہ بھی ہے  کہ  اسلامی معاشی نظام نافذ نہ کیا تو خلیج کے ارب پتی  اور دوسرے مسلمان اپنی دولت نکال کے لے جائیں گے۔ اس وقت برطانیہ کی ہر مشہور یونیورسٹی اسلامی معاشی نظام کو پڑھا رہی ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینک جدہ نے رواں سال جب ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تو مفتی محمد تقی عثمانی کے ساتھ برطانوی پروفیسر روڈنی ولسن کو بھی نامزد کیا۔ اسلامی ترقیاتی بینک کی نظرمیں مفتی محمدتقی عثمانی کی تصنیف و تالیف کی طرح روڈنی ولسن کی تحریریں بھی انتہائی عمدہ اور شاندار ثابت ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ روڈنی ولسن برطانیہ سے دبئی، پیرس، جاپان، کویت ، قطر اور آئر لینڈ سمیت بے شمارممالک میں اسلامی بینکاری کے پروفیسر ہیں۔ آپ افریقی بینک میں بھی اسلامی بینکاری کے مشاورتی بورڈ کا حصہ رہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک اس لیے ایوارڈ دے رہا ہے۔ کیونکہ اسلامی معاشی نظام کو جدید مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے میں انہوں نے ان تھک محنت کی ہے۔ انہوں نے اسلامی معاشی نظام کو جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تحقیق کی، مشاورت فراہم کی اور بے شمار طلبہ کو تربیت دی۔ یورپ میں ایک تصور عام تھا کہ اسلامی بینکاری جدید معاشی نظام کے قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتا۔ روڈنی ولسن نے اس تصور کو نہ صرف غلط ثابت کیا، بلکہ بے شمار مضامین، تحقیقی مقالے اور چند کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ یورپ بھر میں اسلامی بینکاری کے خلاف پرزور مہم کے باوجود اگر وہاں دن بہ دن اسلامی بینکوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔حیرت ہے کہ مغرب اس لیے اسلامی معاشی نظام پر محنت کررہا ہے کہیں اس کے بینک خالی نہ ہوجائیں مگر اسلامی ممالک  ابھی تک سودی بینکنگ کے نظام کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

2009ء میں اسلامی فائننس کے تحت مجموعی اثاثوں کی مالیت 900 ارب ڈالر تھی۔ اس میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2020ء تک یہ مالت 5000 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اسلامی بینکنگ، بیسل III کے قواعد (Basel III rules) کے تحت کی جاتی ہے۔ جو بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ بناتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!