ارتکاز دولت

معاشیات میں ماہرین ایک واقعے کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔  ایک ہوٹل میں ایک سیاح آیا۔ اس نے ایک ہزار مینجر کو اس شرط پہ دیا کہ وہ کمرہ دیکھے گا  اور اگر اسے کمرہ پسند آ گیا تو ٹھیک ورنہ وہ اپنی رقم واپس لے کر چلا جائے گا۔ اب قصائی گوشت کے پیسے لینے آتا ہے، مینجر اس کو وہ ایک ہزار دے دیتا ہے۔ گوشت والے نے جا کر کریانہ والے کو ہزار روپیہ اپنے قرض کی ادائیگی میں دے دیا۔ کریانہ والے نے وہی ایک ہزار ڈاکٹر کو دوائی کی قیمت ادا کردی ۔ وہ ڈاکٹر اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس نے وہی  ایک ہزار اپنے کمرے کا بل ہوٹل میں بجھوا دیا۔ اتنے میں وہ سیاح واپس آ جاتا ہے اور اسے کمرہ پسند نہیں آتا۔ وہ اپنا ایک ہزار واپس لیتا ہے اور اپنی راہ لیتا ہے۔ بظاہر اس سارے چکرمیں کسی نے ایک روپیہ بھی نہیں کمایا لیکن پیسہ حرکت میں رہنے سے کتنے لوگوں کے مسائل حل ہوئے۔

2007ء سے شروع ہونے والے مالی بحران نے امریکہ اور یورپ کو ہلا کر رکھ دیا اور ان ممالک کی معیشتوں کے بالکل بیٹھ جانے کا خطرہ بدستور بڑھ رہا ہے اور ڈر ہے کہ اسقاط زر یا ارتکاز دولت اور مہنگائی کی وجہ سے کاغذی کرنسی سے اعتبار ہی نہ اٹھ جائے اور دنیا میں بہت بڑا معاشی بحران ہی نہ پیدا ہوجائے۔ امریکی خزانہ  کا سیکرٹری غیر معمولی طور پر فورڈ نوکس  گیا اور سونا دیکھتے ہی اطمینان کا سانس لے کر بولا کہ "دیکھو یہ یہاں موجود ہے”۔ ستمبر 2008ء کے وسط میں امریکہ کے 13 بڑے مالیاتی اداروں میں سے 12ادارے ڈوبنے کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔

بحران سے نبٹنے کیلئے بینک آف جاپان، فیڈرل ریزرو بینک امریکہ، یورپی مرکزی بینک ، بینک آف برطانیہ اور پیپلز بینک آف چائنا نے کاغذی کرنسی بڑی مقدار میں چھاپ کر قرض دینا اور دوسرے ملکوں سے مال خریدنا شروع کیا تا کہ زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور معیشت رواں ہو۔ اس حکمت عملی کو "مقداری تسہیل"کا نام دیا گیا۔ زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں اضافہ نے مالیاتی منڈیوں کیلئے shock absorber کا کام کیا۔ لیکن حقیقی منڈیوں کو سخت نقصان پہنچا۔

"نوٹ چھاپ کر سرمایہ معیشت کو مہیا کرنے کی بجائے مالیاتی منڈیوں کو مہیا کرنا بالکل ایسا ہی ہے
 جیسے گاڑی چلانے کیلئے
پٹرول ٹینکی کی بجائے ریڈی ایٹر میں ڈالا جائے”

مقداری تسہیل کی ابتداء 2001ء میں جاپان، 2008ء میں متحدہ امریکہ اور 2015ء میں یورپی مرکزی بینک میں ہوئی۔ امریکہ میں پہلی مقداری تسہیل نومبر 2008ء سے مئی 2010ء تک جاری رہی۔ دوسری مقداری تسہیل نومبر 2010ء سے جون 2011ء تک جاری رہی۔ تیسری مقداری تسہیل 13 ستمبر 2012ء سے 29 اکتوبر 2014 تک جاری رہی۔ دسمبر 2008ء سے دسمبر 2013ء تک کے پانچ سالوں میں دنیا بھر میں کاغذی کرنسی میں ہونے والا اضافہ 35 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ ساری رقم عوام تک نہیں پہنچی بلکہ مالیاتی و سرمایہ دارانہ نظام کو سہارا دینے کیلئے استعمال ہوئی۔ مرکزی بینکوں کا تخلیق کردہ یہ سرمایہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں تیزی لا رہا ہے۔ مقداری تسہیل صرف اس وقت کام کرتی ہے جب صرف ایک ملک ہی یہ کام کررہا ہو اور کوئی عالمی کاغذی کرنسی مقرر نہ ہو۔

افراط زر کے بعد مقداری تسہیل نے رہی سہی کسر نکال دی اور مالیاتی نظام کا توازن بالکل ہی بگڑ کر رہ گیا۔ کیونکہ مقداری تسہیل سے ملنے والا سہارا عارضی ہوتا ہے اور اس کی قیمت زبردست افراط زر،مہنگائی  کی شکل میں چکانی پڑتی ہے۔

ارتکاز دولت کو ختم کرنے کیلئے اور معیشت کو رواں رکھنے کیلئے جون 2014سے یورپیئن مرکزی بینک نے شرح سود منفی کر رکھی ہے۔ ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ میں بھی شرح سود منفی ہو چکی ہے۔ سوئیڈن نے 12 فروری 2015 کو شرح سود منفی کر دی اور 18 مارچ 2015 کو شرح سود منفی 0.1 سے گرا کر منفی 0.25 فیصد کر دی۔ 29 جنوری، 2016ء کو جاپان کے مرکزی بینک نے بھی شرح سود گرا کر منفی 0.1 فیصد کر دی۔ حالانکہ صرف آٹھ دن پہلے پارلیمنٹ میں بیان دیا گیا تھا کہ ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔  اس طرح دنیا کی 20 فیصد جی ڈی پی اب ایسے مرکزی بینکوں کے کنٹرول میں ہے جہاں شرح سود منفی ہو چکی ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح پیسہ بازاروں میں گردش کرنے لگے۔

تاج محل آج کے حساب سے 50ارب کی خطیر رقم سے بنا۔ ظاہر ہے ایسے منصوبے بنانے کا سوچنا اور ان منصوبوں کیلئے رقم وہی ریاست مہیا کرسکتی ہے جو مالی لحاظ سے مستحکم ہو۔ مغلیہ حکمران  کسی قسم کا اندرونی یا بیرونی قرض نہیں لیتےتھے اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی تھی۔ دنیا کی کل پیداوار  یعنی جی ڈی پی کاچھبیس فیصد یعنی چوتھائی حصہ سے بھی زیادہ خطہ ہند کا ہوتا تھا اور  اس عروج کے دور میں ایسے شاہکار کا بنانا مغل حکمرانوں  کو زیب دیتا تھا۔جبکہ برطانوی راج میں،  دنیا بھر میں غاصبانہ قبضہ کرکے، کالونیز بنانے کے بعد بھی برطانیہ کی سالانہ پیداوار دنیا کی پیداوار  کا اکیس فیصد یعنی مغلیہ حکومت سے کم تھی۔ جو کہ سودی معاشی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام  کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسلام ارتکاز دولت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اسلام نے دولت کو معاشی نظام میں حرکت دینے کیلئے ایک مکمل معاشی نظام عطا کیا ہے۔ جو ہندوستان میں نافذ تھا۔ جس کی وجہ سے عوام خوشحال اور حکومت کا خزانہ بھی بھرا ہوا تھا۔ جب ایسے بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں تو ایسے بڑے تعمیراتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے بہت سی افرادی قوت استعمال میں لائی جاتی ہے۔ معیشت کی بڑھوتری کیلئے بعض اوقات یہ ضروری ہوتا ہے۔ مغلیہ دور میں اٹھارہ سے بیس ہزار مزدورں کو کام دیا جاتا تھا، جس سے حکومت کے خزانہ سے پیسہ دوبارہ معیشت میں آیا۔

جب امریکہ میں معاشی بدحالی کا دور آیا تو امریکی صدر "ہوور” نے بڑے منصوبے شروع کیے تاکہ نچلے سطح کے لوگوں کو کام ملے، ان کو آمدن ہو۔ ظاہر ہے ان کی آمدن ہوگی تو وہ خرچ کریں گے اور اس طرح معیشت کا پہیہ چلے گا، یہ طریقہ بہت کامیاب ہوا جس کی وجہ سےاگلے صدر روزیولٹ نے بھی اسی طرح کے منصوبے شروع کیے۔ ایسے ہی مثالیں سویت دور کی بھی ملتی ہیں۔ آج کل جب پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام بری طرح ناکام ہوچکا ہے تو بینک انتہائی کم شرح سود پہ قرض دے کر معیشت کے پہیے کو رواں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!