آمریت سے جمہوریت تک

تاریخ ہمیں یہ ماننے پہ مجبور کرتی ہے کہ  اسلام سے باہر آمریت ہی رہی۔ جہاں جہاں اسلام کی روشنی نہ پہنچ سکی وہاں بھی آمریت نے ہی ڈیرے ڈالے رکھے تھے۔ ظلم و جبر کا دور دورہ رہا۔ آمربادشاہ کی زبان سے نکلا ہوا لفظ ہی قانون کا درجہ رکھتا تھا۔ آمریت نام ہی من مانی کا ہے۔ اس لئے آمریت کی تاریخ ظلم و جبر سے بھری ہوئی ملتی ہے۔آمریت کو بادشاہت سے ملا کر مسلمان حکمرانوں کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔جبکہ آمریت غیرمسلم ریاستوں میں غالب رہی، مسلمان بادشاہوں کے طرز حکمرانی سے آمریت کا کوئی تعلق نہیں۔

ماضی قریب میں ہی ملوکیت یا آمریت کے بعد سوشلزم،  جمہوریت، آمریت اور نہ معلوم کتنے "ازم "اور "یت” نظری اور علمی طور پر غیرمسلم فلاسفر دنیا کے سامنے لے کر آئے۔ ان میں سے ایک بھی آج تک کامیاب نہیں ہوسکا۔ سب نے ظلم و جور کی داستانیں رقم کیں۔ ان میں سے کچھ نظریات کی عمر تو چند سال ہی رہی۔ مغربی جمہوریت یا آزاد خیال جمہوریت جسے آج کل صرف "جمہوریت” ہی کہتے ہیں، وہ نظریہ ہے جسے جدید دور کی غیرمسلم ریاستوں نے فروغ دیا۔ اس نظام کی کامیابی کی وجہ صرف تشہیر ہے۔ جمہوری ریاستوں کے قیام کے نام پہ ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ کئی ممالک کو عدم استحکام کا شکارکردیا گیا ہے۔ اس طرح کے ہر نظام میں انسانی پسند و ناپسند نے انسانوں کو مسائل سے دوچار ہی کئے رکھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!