آزاد خیال جمہوریت


افلاطون اور ارسطو کے جمہوریہ اور سیاست کے تصور کو  اٹھارویں صدی کے آغاز میں "آزاد خیال جمہوریت” کے نام سے "وولٹائر، مونٹیسکو اور روسو” کے نظریات اور فلسفوں نے دوبارہ مزید ملاوٹ کے ساتھ متعارف کروایا۔ اس طرح Libral Democracy یعنی "آزاد خیال جمہوریت” متعارف ہوئی۔

اہل مغرب کی تحقیق تعصب سے بھری پڑی ہے اور ان کے تعصب کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ کسی بھی موضوع پہ بات کرتے ہیں تو وہ اسلام، اسلامی مفکرین و محققین اور سائنسدانوں کی وسیع تاریخ کا تذکرہ نہیں کرتے۔ مسلمان محقیقین سے استفادہ بھی کرتے ہیں تو اقرار نہیں کرتے۔ اسی لئے سیاسی نظریات کی تاریخ وہ چار سو سال قبل مسیح کے ارسطو اور افلاطون سے شروع کرتے ہیں اور پھر چھلانگ لگا کر یک لخت وولٹائر، مونتیسکو اور روسو پر پہنچ جاتے ہیں اور اس بات کا تذکرہ تک نہیں کرتے کہ اس کے دوران ایک طویل عرصہ اسلامی حکومت و سیاست کا بھی گذرا ہے، جس میں انداز سیاست اور قوانین سیاست کا ایک منفرد اور کامیاب  انداز کارفرما تھا، جس نے مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ غیرمسلموں کو بھی ہرشعبے میں امن، عدل و انصاف مہیا کیا۔ بہت کم غیرمسلم مورخین اس بات کااقرار کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تحقیق نے  ہی علوم و فنون اور آج کی جدیدیت سے دنیا کومتعارف کروایا۔ اگر صرف مورخانہ دیانت سے کام لیا جاتا تو اسلامی ادوار کا تذکرہ ضرور کیا جاتا۔

پوری دنیا کے پاس نظام حکومت چلانے کے  دو ہی طریقے ہیں یا وہ مسلمانوں کے طرز حکمرانی کو اپنا لیں، جو کہ غیرمسلم  اپنے متعصبانہ روئیے کی وجہ سے اپنانہیں سکتے اور دوسرا راستہ جو آج کل نافذ ہے یعنی جمہوریت۔

جمہوریت کی موجودہ نئی شکل، لبرل جمہوریت/”آزاد خیال جمہوریت” کو متعارف کروانے میں انقلاب فرانس اور امریکہ کی آزادی جیسے دو واقعات کا کردار کہا جاتا ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔ لیکن ایک وجہ خلافت کے تسلسل کا  رک جانا اور اس کے بعد بتدریج اسلامی ریاستوں کی عالمی سطح پہ گرفت کمزور ہوجانے کا بھی  عمل دخل ہے۔ اس کے  علاوہ اسلامی ممالک کے صاحبان اختیار و اقتدار نے میدان سیاست میں اسلامی  احکامات کو نظر انداز کرنا شروع کردیا۔  جس کی وجہ سے  بھی مغربی جمہوریت یا آزادخیال جمہوریت کے نظریات  کو پنپنے کیلئے میدان خالی ملتا چلا گیا۔

غیرمسلم ریاستوں میں امور ریاست کو آمرانہ طریقوں سے چلانے پہ بھی نطریہ جمہوریت کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ جبکہ امور ریاست میں کلیسا کی بےجا مداخلت بھی بڑھتی چلی گئی اور عیسائی بادشاہ کلیسا کی بے جا مداخلت سے اس قدر تنگ آگئے کہ انھیں مذہب اور سیاست کو الگ الگ کرکے امور ریاست میں مذہبی مداخلت ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا پڑی۔ جس پہ "قیصر کا حق قیصر کو دو اور کلیسا کا حق کلیسا کو دو”  کی آواز بلند ہوئی۔ جس کیلئے تشہیر یہ کی گئی کہ مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعدازاں جمہوریت کے نظرئیے کا دفاع کرتے کرتے بات یہاں تک پہنچا دی گئی کہ "مذہب ذاتی تشفی کا نام ہے”۔ اس نظرئیے کو اتنا فروغ دیا گیا کہ دنیا کی اکثر غیر مسلم اقوام نے اپنی زندگی سے مذہب کو نکالتے نکالتے، نکال ہی دیا اور عملی طور پر زندگی کے کسی پہلو میں مذہب کا کوئی دخل نہیں رہا، سوائے شادی یا مرنے پہ مذہبی رسومات کے۔ جس کیلئے مذہبی رہنما بلا لئے جاتے ہیں۔ اسی نظرئیے کے اثرات ہیں کہ مذہب، اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر، عوامی خواہشات کا لحاظ اس قدر کیا جاتا ہے کہ ہم جنس پرستی کی اجازت تک دے دی جاتی  ہے۔ جسم فروشی کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ الغرض کسی بھی غیراخلاقی کام کی اجازت مغربی جمہوریت کے ذریعے ممکن ہے۔

"ملوکیت ہو یا مغربی جمہوریت، دین اسلام سے دوری کا نتیجہ ظلم ہی ہے”

مغرب کے بعد اب اس نظرئیے کو مسلم ممالک میں فروغ دیا جارہا ہے۔ اس نظرئیے کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ علماء کا سیاست میں کیا کام ہے؟۔۔۔ علماء کو سیاست سے دور رکھنے کیلئے غلط روایات تک گھڑی جارہی ہیں۔ آج کل بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلمانوں کی سوچ کو اس نہج پہ پہنچا دیا جائے کہ اسلام کا تعلق صرف مسجد کی حد تک ہے۔ مسجد سے باہر ہر طرح کی آزادی ہے۔آپ جیسا مرضی لباس پہنیں۔ جیسے مرضی زندگی گزاریں۔ جیسے مرضی کسی سے لین دین کریں۔  گھر والوں کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کریں۔  آپ کی آزادی اور آپ کے حقوق زیادہ اہم ہیں۔ دوسرے آپ کے حقوق غصب کررہے ہیں۔ احتجاج کریں اور احتجاج کرنا آپ کا حق ہے۔ آپ جو کریں، بس مذہب کو زندگی سے لاتعلق کردیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!