پاکستان کا آئین اور جمہوری قانون سازی

اسلام کی تیرہ سو سال کی طویل حکمرانی کی  تاریخ میں قرآن و سنت کے علاوہ کوئی دوسرا آئین کسی ریاست میں نہیں تھا۔ اسلامی قوانین کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے جاتے رہے۔ البتہ دستور تحریر کئے گئے۔ جن کی حیثیت ہمیشہ قرآن و سنت کے تابع ہوتی تھی۔

لیکن جمہوری نظام  میں آئین کو سب سے اوپر کا درجہ دیا گیا۔ جس کی رُو سے انہوں نے مسلم ممالک میں بھی سود، کاغذی کرنسی، مرکزی بینک، قومی قرضہ، مرد و عورت کا اختلاط وغیرہ سب نافذ کر دیا۔ اگر کوئی اس نظام کے خلاف آواز اُٹھائے تو اُسے آئین/ریاست کا پاس نہ کرنے پر غدار اور مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ کرہ ارض پہ جمہوریت کے سب سے نامور دو ممالک، برطانیہ اور اسرائیل میں تحریری آئین موجود  ہی نہیں۔ جبکہ موجودہ جمہوریت کو نافذ کرنے میں  اسی برطانیہ کا سب سے زیادہ کردار رہا ہے۔

پاکستان میں مقننہ یعنی "ایوان زیریں” اور "ایوان بالا”  میں بیٹھی اکثریت قانون سازی کا خاص علم ہی نہیں رکھتی۔ پاکستان میں مقننہ کا پہلا مقصد یہی ہے کہ 1973ء کے دستور کی جو شقیں خلاف قرآن و سنت ہیں، ان کو ختم کرکے تمام تر نظام حکومت کو قرآن و سنت کے مطابق چلانا یقینی بنایا جائے۔دوسری ذمہ داری مقننہ کی یہ ہے کہ حالات و واقعات کے مطابق نئی قانون سازی کی جائے۔  نئی قانون سازی کا یہ عالم ہے کہ  کسی قسم کا لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ قانون سازی اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں۔ جبکہ قانون سازی کا دائرہ کار آئین میں قرآن و سنت مقررہے۔  جبکہ پاکستان میں رائج آئین و قانون کے مطابق قرآن وسنت پر مبنی کوئی قانون تب بن سکے گا جب اسمبلی میں بیٹھے یہ ” مسلمان ” اراکین اللہ کے ان قوانین پر پہلے مختلف پہلوؤں سے تائید اور مخالفت میں بحث کریں گے۔ پھر اگر مناسب سمجھا گیا تو اس قانون کو وؤٹنگ کیلئے منظور کیا جائے گا۔  اسکے بعد یہ ممبران اس قانون کے حق اور مخالفت میں ووٹ دیں گے اور اگر اس قانون کو اسمبلی ممبران کی دو تہائی اکثریت کی تائید حاصل ہوئی تو یہ ملک کا قانون بن جائے گا ورنہ اللہ کے قانون کا یہ بل نغوذباللہ خارج کردیا جائے گا۔

پاکستان کے آئین کے مطابق کوئی قانون اسلام سے متصادم نہیں ہوسکتا۔پاکستان کے قیام کا مقصد بھی ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ لیکن حکومت سازی کیلئے "قانون ساز و حکومت ساز ایوان”  کے انتخاب کا طریقہ ہی غلط اختیار کرلیا گیا اور اس پہ عجب یہ کہ آج تمام مکاتب فکر و اہل دانش اسی طریقہ انتخاب کو اسلام کے مطابق تسلیم کر نے لگے ہیں۔ پھر حکومت سازی کے بعد قانون سازی اور امور ریاست بھی اسی ایوان نے چلانے ہیں۔

مقننہ میں موجود عوامی نمائندگان کو قرآن و سنت کے قوانین کا علم ہی نہیں اور نہ ہی کسی قانون سازی کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری ضروری ہے۔ آئین میں واضح ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ ہوگا اور اس قانون سازی کیلئے "اسلامی نظریاتی کونسل” ایک حکومتی ادارہ ہے، تاکہ تمام قوانین اسلام کے اصولوں کے مطابق ہی ہوں۔ لیکن کتنے ہی قانون قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور کتنے ہی قانون بعد ازاں بھی قرآن و سنت سے متصادم بنائے گئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشریحات کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ جبکہ اسمبلی سے قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل کی توثیق سے مشروط ہونا چاہئے۔ ایسی کوئی قانون سازی یا اقدام نہیں کی جاتی ۔ حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ درس حدیث کے دوران فرمایا۔

"نبی کریم ﷺ نے مسجد کے ایک امام کو قبلہ رخ تھوکنے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔
 ہمارے حکمران سارے دین کو پاؤں کے نیچے مسل رہے ہیں، وہ اہل کیسے ہوسکتے ہیں؟۔۔۔
  آج کے دانشور اسلامی نظام عدل کو وحشیانہ کہہ رہے ہیں، معاشی نظام سارا سودی ہے۔
 اللہ اور اللہ کے نبیﷺ کے دئیے ہوئے نظام کو چھوڑ کر ہم ابھی تک وہی انگریز کا دیاہوا غلامانہ نظام اپنائے ہوئے ہیں،
پھر بھی سارے کے سارے اہل ہیں۔
یہ کون سا قانون ہے؟۔۔۔”

  پھر محکمہ جات کے کام کرنے اور اختیارات کی حدود و قیود کا تعین کرنے کیلئے قانون سازی کرنا ہے، جس کا بھی موجودہ مجلس شوری میں موجود حضرات کو خاطر خواہ علم نہیں ہوتا۔  یعنی قانون سازی کیلئے عوامی نمائندگان کو منتخب کرنے  کا طریقہ کار ہی سرے سے غلط اور اس پہ یہ کہ نمائندگان کو قانون سازی کرنے کیلئے ضروری تعلیم و تجربہ اور قابلیت کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ہم تکنیکی قانون سازی کی بات کریں تو پارلیمنٹ میں موجود ٹیکنوکریٹس کے علاوہ، بننے والے تکنیکی قوانین پہ بحث کو کوئی سمجھنے کی تکلیف بھی شاید نہیں کرتا۔  آج کل تو ٹیکنوکریٹس کا بھی انتخاب سفارش پہ ہوتا ہے یا ووٹ خریدے جاتے ہیں۔ نہیں تو پارٹی فنڈ کے نام پہ بھرتی کر لئے جاتے ہیں۔

"سیاستدانوں کو "اللہ کی رضا یعنی اسلام نہیں
بلکہ "اسلام آبادیعنی حکومت” چاہئے”

قانون سازی نے آجکل ترقی کرلی ہے۔ پہلے پارلیمانی کمیٹی بیٹھتی ہے اور متعلقہ محکموں کے افسران اور ماہرین کو بلا کر رائے لی جاتی ہے اور ایک مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔ پھر وفاقی کابینہ/مجلس تشریعی کا اجلاس ہوتا ہے۔ متعلقہ سیکرٹری یا جس نے وہ بل بنایا ہوتا ہے یا جو معاملے کوبہتر سمجھتا ہے، اس کو بلایاجاتا ہے۔ بریفنگ ہوتی ہے۔  وزراء بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، جن میں سے اکثر کے متعلقہ وہ مسئلہ ہی نہیں ہوتااس لئے وہ اس کے حق میں رائے دے دیتے ہیں کہ کابینہ/مجلس تشریعی کے اجلاس تک قانون پہنچ گیا ہے، ٹھیک ہی ہوگا اور ایسے کابینہ/مجلس تشریعی اس کی منظوری دے دیتی ہے اور اسمبلی میں قانون سازی کیلئے بل پیش کردیا جاتا ہے۔اگر حکومتی جماعت کی مقننہ میں اکثریت ہو یا حزب اختلاف کو بھی قانون سازی میں شامل کرلیا ہو تو وہ بل بغیر کسی بحث کے منظور کرلیا جاتاہے۔ کیونکہ مقننہ میں موجود افراد کو اس قانون سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اگر آپ یہاں تک پہنچ ہی گئے ہیں تو ختم کریں اسمبلیوں کا دھندہ اور ان فضولیات اور اضافی اخراجات کی بساط لپیٹ ہی دیں۔

پہلے پہل چند لوگوں نے اس نظام میں حصہ لینا اس لئے گوارا کیا کہ  جب تک اسلامی نظام نافذ نہیں ہوتا،  تب تک بوجہ مجبوری اس نظام کو اپناتے ہیں تاکہ طاغوتی طاقتوں کو میدان خالی نہ ملے اور ہمارا اثر و رسوخ بلکل بھی ختم نا ہو جائے اور دشمن ہم پر غلبہ نا پا لے ۔ پھر یہ موقف آیا کہ اسلام کا نفاذ جمہوریت سے ہی ممکن ہے۔ پھر اگلی نسل نے کہہ دیا کہ اسلام نے ہمیں کوئی ایک طریقہ نہیں بتایا بلکہ اس میدان کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ جیسے مرضی کرو۔

اب ایسی جماعتیں، سیاستدان، علماء اکرام، سکالرز تک  کھل کر سامنے آگئی ہیں جو کہتے ہیں کہ سربراہ مملکت کے انتخاب کا کوئی شرعی طریقہ متعین ہی نہیں  ہے۔ بس جو بھی جس طریقے سے بھی برسراقتدار آجائے۔  اب نہ خلافت نے واپس آنا ہے اور نہ ہی اسلامی نظام حکومت ریاست پہ نافذ ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ قابل عمل ہے۔ اسی میں رہ کر کرنا ہے جو کرنا ہے۔بات یہ ہے کہ مجبوری میں سہی لیکن جب سنت سے ہٹ کر الگ راستہ اپنایا جائے تو کچھ عرصے بعد اس کے ایسے ہی نتائج نکلتے ہیں۔

” جو حرام کی لذت کے عادی ہو جاتے ہیں،
ان سے حلال کی لذت چھین لی جاتی ہے”

اب تو حالت یہ ہے کہ امت مسلمہ کے پڑھے لکھے قائدین کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات یا خلفاء راشدین کے طرز حکومت سے ناواقفیت کی وجہ سے موجودہ نظام حکومت کو اسلام سے متصادم ہی نہیں سمجھتے۔ مغربی جمہوریت سے تو بہت بڑے بڑے مدبر اور صاحب الرائے  لوگ بھی مرعوب نظر آتے ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ علم سیاسیات اسلامی کے متعلق تعلیم و تبلیغ کی کمی ہے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل کا عمل کیا ہے؟۔۔۔ اسلامی نظام حکومت کیا ہے؟۔۔۔  مقننہ کے ہاں قانون سازی میں اسلام کی اہمیت نہیں کیونکہ اسمبلیوں میں گنتی کے چند علماء اکرام ہی عوام کے ووٹوں کی مہربانی سے پہنچ پاتے ہیں اور وہ بھی اس مشینری کا حصہ بننے کے بعد صرف موجودہ رواجی سیاست ہی کر سکتے ہیں۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ

"جب ایک عالم لغزش کرتا ہے۔۔۔ ایک عالم لغزش میں پڑ جاتاہے”

موجودہ سیاسی نظام میں صبح و شام جمہوریت جمہوریت کا ورد کرتے ہوئے سیاستدان نظر آتے ہیں۔ جھوٹ، مکر، فساد کی سیاست کا رواج ہے۔ اور اس بات کا ادراک دنیا بھر کےسیاستدانوں کو بھی ہے کہ مغربی جمہوریت کا نظریہ اب زیادہ عرصہ ریاستی امور نہیں چلا سکے گا۔ اس لئے ہر سیاستدان یہی منت کرتا نظر آتا ہے۔ "جمہوری ادارے مضبوط ہورہے ہیں، جمہوریت پنپ رہی ہے، جمہوریت کو مضبوط ہونے کیلئے وقت دیں۔ پھر جمہوریت آپ کو دے گی”۔ اس سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ جتنا وقت گزر سکتا ہے گزار لیں۔

یہ ہے مغربی جمہوریت اور مغربی جمہوریت کا پھندا جو کہ دو قومی نظرئیہ کا گلہ گھونٹنا چاہتا ہے۔ اسی مغربی جمہوریت کے بارے میں علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں فرمایا تھا۔

ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت
مغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہِ افلاک

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!