آئین اور دستور پاکستان

زندگی کے ہر پہلو کیلئے قانون سازی کیلئے اللہ نے قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کاحکم دیا ہے۔

” اطیعو اللہ و اطیعو الرسول”
اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرو۔

اس میں تخصیص نہیں کہ کچھ میں اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرلو اور کچھ میں نہیں بلکہ ہرحال، ہرجگہ، ہرکام کرتے ہوئے سوچا جائے کہ اللہ اور رسول ﷺ نے کس طرح سے یہ کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

"دستور میں لکھا جائے کہ ملک کا آئین "قرآن و سنت” ہے اور
قرآن و سنت  کے مطابق ہی دستور سازی اور ریاستی نظم و نسق چلایا جاسکے گا”

پاکستان کے دستور میں سب سے پہلے یہی جملہ درج ہو اور آئین یعنی قرآن و سنت سے اختلاف بغاوت قرار دیا جائے اور اس کی سزا "موت” مقرر کی جائے۔  دستورپاکستان کو قرآن و سنت سے طاقت بخشی جائے۔ دستور میں ضابطوں کی تبدیلی ممکن ہو لیکن اسلامی احکامات اور نظریہ پاکستان پہ کوئی سمجھوتہ ممکن نہ ہو۔  قرارداد مقاصد میں متعین رہنما اصولوں کے مطابق ایک دستور مرتب کرلیا جائے۔ جس میں اسلام کے مطابق حکومت سازی کا طریقہ کار ہواور مجلس شوری اور صوبائی مجلس منتظمہ اور مقامی کونسل اور تمام حکومتی شعبوں کا کام کرنے کا طریقہ کار وضع ہو۔ جس کو بوقت ضرورت مزید بہتر بھی کیا جاتا رہے، جس کا اختیار صرف وفاقی مجلس شوری کے پاس ہو۔ صوبوں کو اس طرح کا اختیار نہ ہو، جیسا کہ آج کل صوبے آئین میں ترمیم تو نہیں کرتےلیکن کوئی صوبائی ٹیکس لگا دیا یا کوئی نیا صوبائی محکمہ بنا دیا یا کوئی قانون منظور کرلیا۔  البتہ  صوبہ سے دستور سازی یا قانون سازی کیلئے تجاویز وفاق کو بھیجی جا سکتی ہیں۔ تاکہ اس ضابطے کے فائدہ مند ہونے کی صورت میں ملک کے باقی صوبوں کو بھی فائدہ ہوسکے یا وفاقی مجلس شوری جز وقتی کوئی ضابطہ نافذ کرنے کی سفارش سربراہ مملکت کو کر دے ۔ یہ نہ ہوسکے کہ متبادل کے طور پر ذاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے ایک نیا ادارہ صوبے میں کھڑا کرلیا جاتا ہے۔

سربراہ مملکت کا مقصد آئین و قانون کا نفاذ ہے۔ جیسے فوج کی ذمہ داری ریاست کی سرحدوں کی حفاظت ہے، عدلیہ کی ذمہ داری انصاف کو ممکن بنانا ہے، مجلس شوری کی ذمہ داری دستور سازی کی ہے۔ دستور کی ضرورت اس لئے ہے کہ کون سے  محکمہ جات ہوں گے اور کس طرح کام کریں  گے اور ان کے کام کرنے کی حدود و قیود کیا ہوں گی۔ مجلس شوری تمام ریاست کو  قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق چلانے کی قانون سازی کرے۔ ایسے ہی سربراہ مملکت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اپنی کابینہ بنائے جو کہ انتظامی امور میں سربراہ مملکت کی ممد و معاون ہو، فوج کا بہترین سپہ سالار تعینات کرے اور فوج کے معاملات کو دیکھے ۔ قضا کے معاملات کو یقینی بنانا اور ہر ایک کیلئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے قاضی القضاء اور قاضی حضرات کی تقرری کرے۔ ملک میں انتظامی امور کا بوجھ زیادہ ہونے کی صورت میں وزراء پہ وزیر اعظم کی تعیناتی، سربراہ مملکت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر خارجہ کی تعیناتی کرنا، جو کہ بیرونی معاملات میں سربراہ مملکت کے نائب کے طور پہ ذمہ داریاں ادا کرے۔  سربراہ مملکت کو مضبوط اور مستحکم ہونا چاہئے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے کہ جو شخص خاندان کا سربراہ ہے،اسے خاندان پہ اقتدار حاصل ہے، اس پہ فرض ہے کہ وہ اپنے خاندان میں جو برائی دیکھے، اسے اپنی اقتدار سے روکے۔ جسے کسی ادارے پہ اقتدار حاصل ہے، وہ اپنے محکمے میں ہونے والی بدعنوانیوں کو حاکمانہ انداز سے روکے۔ اس میں سب سے اعلی اقتدار، سربراہ مملکت کا ہے، جس کو کلی اختیار بھی حاصل ہے، اس لئے اس کا کام وعظ و نصیحت تک محدود نہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی حکومت کے تمام وسائل استعمال کرکے اس برائی کو طاقت اور نگرانی کے ساتھ روکے۔

امور سیاست ہر ایک کے کرنے کا کام نہیں ہے اور ہر ایک امور سیاست سے لاتعلق بھی نہیں رہ سکتا۔ جیسے تجارت و معیشت ایک شعبہ ہے ۔ صرف کاروبار کرنا ہی دین نہیں اور نہ ہی سب کاروبار یا تجارت کرتے ہیں، کچھ لوگ ملازمت کے شعبہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ جیسے روزگار کے ذرائع سے کوئی لاتعلق نہیں رہ سکتا، جیسے تبلیغ کرنا بھی دین کا ایک شعبہ ہے لیکن یہ علماء و مشائخ کا منصب ہے۔ لیکن ان تمام امور سے عام مسلمان بھی اپنی استعداد  اور عمل کے مطابق خدمات دینے اور عمل کرنے کا ذمہ دار ہے۔ جیسے جہاد ہر مسلمان پہ فرض ہے لیکن عسکری تربیت یافتہ لوگوں کی ذمہ داری ہے، انھیں ضرورت پڑے تو تمام مسلمان مرد  وعورت ان کی جہاد میں مدد کریں گے ورنہ معاشرے میں رہ کر "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” پہ کاربند ہونا بھی جہاد ہے۔ جیسے اسلام نے تجارت کے بہت واضح احکامات دئیے لیکن تجارت ہی اسلام کا مقصود نہیں ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات زندگی کے ہر انفرادی اور اجتماعی شعبے سے متعلق ہیں، جس میں سیاست بھی داخل ہے۔ لیکن سیاست کو اصل مقصود قرار دے کر باقی احکام کو اس کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ شعبہ سیاست کی اپنی ایک اہمیت ضرور ہے۔ ایسے ہی امور سیاست میں ہر ایک کا کود جانا لازمی نہیں لیکن ان سے لاتعلق بھی نہیں رہا جا سکتا۔  ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ جب حکومت کے انتخاب کیلئے رائے لی جائے تو ایمانداری سے رائے دے اور حکومت کے احکامات سے واقف رہے اور معروف یعنی ہر جائز حکم پہ عمل کرے۔ ہر مسلمان پہ واجب ہے کہ وہ شرعی طریقے سے برسر اقتدار آنے والے حکمران کی بیعت کرے اور اس کی بات سنے اور  معروف میں اطاعت کرے۔ہر مسلمان حق بات کرے اور ایمانداری سے ہر معاملے میں رائے دے۔ اسی طریقے سے قرآن و سنت کے قانون کی ہر سطح پہ پاسداری امور سیاست کو طاقت بخشتی ہے۔

"جیسے ہر ایک مسلمان اپنے عمل سے بھی تبلیغ کرتا ہے، جہاد کرتا ہے،
 لیکن یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کی تبلیغ و تدریس کے عمل کو نبھائیں،
عسکری تربیت یافتہ مسلمان ہی عسکری طورپہ جہاد کرے، امور قضا کا ماہر ہی قضا کے فیصلے کرے،
ایسے ہی امور سیاست سے واقف ماہرین ہی انتخاب امیر کے اہل ہیں”

پاکستان میں اسلام کا عطا کردہ شورائی  نظام حکومت قائم کیا جائے اور اسلام کے تعلیم کردہ اصول جمہوریت کے مطابق ریاستی امور سرانجام دئیے جائیں۔ اسلام وہ اعلی ترین اور متوازن قوانین مہیا کرتا ہے، جس سے ہر ایک کو مساوی حقوق مہیا کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔ سربراہ مملکت کو صدر یا سلطان کہا جائے، اس سے اسلام منع نہیں کرتا۔  داخلی معاملات میں معاونت کیلئے سربراہ مملکت، وزیر اعظم اور وزراء کو تعینات کرسکتا ہے۔

دستور ساز ایوان ہی اسلامی احکامات کے مطابق دستور سازی کر سکتا ہے، لیکن دستور ساز ادارہ یعنی مجلس شوری کو شرعی طریقے سے تشکیل دیا جائے۔ پاکستان میں آج تک مقننہ کو شریعت کے اصولوں کے مطابق منتخب نہیں کیا گیا۔ کمیشن، کمیٹیاں اسلام کے نفاذ میں ناکام رہے ۔ صاحب اختیار و اقتدار لوگ واضح طور پر یہ تو نہیں کہتے کہ ہم ملکی قوانین کو اسلام کے مطابق نہیں بنانا چاہتے لیکن ان کی کوشش ہمیشہ یہی رہی۔ جب ایک دفعہ دستور بن جاتا ہے تو اس میں ترمیم کرنا یا مکمل  اسلام کا نفاذ اتنا مشکل کردیا گیا ہے کہ آج تک اسلامی نظام حکومت کے نفاذ  کو سر انجام نہیں دیا جاسکا۔

مندرجہ بالا تاریخی جائزہ واضح کردیتا ہے کہ مصورِ پاکستان علامہ اقبال اورقائد اعظم و دیگر بانیان پاکستان اور شہداء پاکستان سے لے کر تنظیم الاخوان پاکستان کی خیمہ بستی تک تمام "اہل دین و دانش اور عوام”  کا اتفاق رہا ہے کہ اسلامی ریاست میں صرف اسلامی طرزِ حکومت و سیاست ہی کارآمد ا ور کامیاب ہوسکتا ہے اور مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت چونکہ اسلامی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی اس لئے اس کی نقالی مفید نہیں بلکہ مضر ہے۔ آج بھی نفاذ اسلام کی صدا بلند ہوتی ہے تو اس تنظیم یا جماعت کومختلف مصائب میں الجھا دیا جاتا ہے یا پھر ان کی آواز ذرائع ابلاغ نشر ہی نہیں کرتے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق شورائی نظام حکومت قائم کرنا انتہائی ضروری ہے اور وہی اسلام کی برکتوں کے حصول کا نکتہ آغاز ثابت ہوگا۔

مغربی جمہوریت کے جائزے سے ہمیں  ثابت ہوچکا ہے کہ یہ نظام حکومت ہمیں کچھ نفع نہیں دے سکتا۔ اسلامی نظام حکومت میں اصل طاقت قانون کو حاصل ہے۔ حکومت اور عوام بھی قانون اسلامی سے ہی طاقت حاصل کرتی ہے۔ اگر قانون انسانوں کا مرتب کردہ ہوگا تو اس میں کسی ایک فرد یا گروہ کے مفادات کی تکمیل یا رحجان  ہوسکتا ہے۔ لیکن اسلام کے عطا کردہ قوانین متوازن اور مساوی حقوق کی ادائیگی کی ہمیشہ راہ دکھاتے  ہیں۔

"اسلامی حکومت کا کا م ایسی اخلاقی اور قانونی فضا پیدا کرنا اور اس کو برقرار رکھنا ہے۔ جو ذمائم اخلاق کیلئے کسی صورت میں راس نہ آسکے”۔اسلام کا سیاسی نظام

قانون اور حکومت کا تعلق بالکل فطری ہے۔ ہر نظام انتخاب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی حکومت وجود میں آئے جو قانون کا نفاذ بھی کرے۔ اگر بےبس حکومت ہوگی تو قانون کا نفاذ بھی نہیں ہوسکے گا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!