اللہ کی تلاش

میرے پاس پچھلے دنوں ایک شخص آیا۔
(میں نے کہا ) "فرمائیے؟”
کہنے لگے، جی مجھے کام تو کوئی نہیں، میرا تو ایک ہی کام ہے، میں اللہ کو تلاش کر رہا ہوں۔
میں نے کہا، "تم نے تو مجھے پریشان کر دیا کیا اللہ کریم کہیں گم ہو گئے ہیں؟
اللہ تو تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہیں۔ اللہ تو تمہارے ذرے ذرے کو بنا مٹا رہے ہیں، اللہ کو تلاش کرنے کا کیا مطلب؟
ہاں … اپنی آنکھوں کی صفائی کراؤ، اپنی نظر کو ٹھیک کرو، آپ نے اپنا آپ گم کیا ہوا ہے، اللہ کریم تو ہر جگہ موجود ہے، اللہ کو تلاش کرنا کیا مقصد؟ تلاش تو اُسے کیا جاتا ہے جو کہیں چُھپا ہوا ہو، کہیں گم ہو، کہیں نظر نہ آ رہا ہو۔
اللہ کی شان تو ہر جگہ ہر وقت موجود ہے، اپنے دل پر تم نے غبار چَھپا لئے ہیں، اپنے دل کو آلودہ کر لیا ہے۔
اللہ اِن مادی آنکھوں سے اِس جہان میں نظر نہیں آتا، دل کی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ اور دل پر زنگ آ جاتا ہے۔
‘کَلّا بَل رَانَ عَلٰی قُلوبِھِم’،
انکے دلوں پر زنگ آ گئے ہیں، جو عظمتِ الٰہی سے نا آشنا ہیں، جو عظمتِ پیامبر (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نا آشنا ہیں۔ اللہ کریم فرماتے ہیں، انکے دلوں پر زنگ آ گئے ہیں۔ "
(کہنے لگے،) اب اس زنگ کا علاج کیا ہو؟

میں نے کہا، "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا ہے۔
‘لِکُلِّ شَی صقالَۃ ‘
ہر چیز کی پالش ہوتی ہے، جس سے وہ چمک جاتی ہے،
‘وَ صقالۃُ القُلُوبِ ذِکرُ اللہ’
اللہ کا ذکر دِلوں کی پالش ہے۔
اللہ اللہ شروع کرو، رات دن اللہ اللہ کرو، اللہ کا ذکر کرو۔ جب دل پالش ہو جائے گا، زنگ اُتر جائے گا، تو تم دیکھو گے کہ اللہ تمہاری ذات سے بھی تمہارے قریب تر ہے۔”

تو میرے بھائی، اپنے دلوں کا قبلہ درست کرنا ہے ہمیں، اپنے دِلوں کو صاف کرنا ہے ہمیں، عظمتِ باری سے آشنا ہونا ہے، اور اسکا راستہ ہے عظمتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ
شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
بانی تنظیم الاخوان پاکستان

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!