علم و تحقیق اور مسلمان

صحابہ اکرام نے ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جہاں علمی تحقیقی کام کا آغاز ہوا جو کہ تابعین کے دور تک عروج پہ پہنچ گیا۔ تابعین کے دور میں منجنیق، جوکہ بہت دور تک پتھر پھینکنے کی صلاحیت رکھتی تھی اور ایسے تیر جو دشمن کے علاقے میں  گرتے ہی وہاں آگ لگا دیتے تھے ، مسلمانوں نے ایجادکئے اور مسلمانوں کے زیر استعمال تھے۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کے بنائے شاہکار آج بھی موجود ہیں۔ اسلامی درس گاہوں نے سائنس دان، معمار، انجینئر/مہندس، طبیب پیدا کئے کہ ان کی تحقیقات سے آج بھی پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ آج کے دور میں مسلمانوں کو حرف تنقید بناتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی۔ اگر تدریسی ادارے اور تجربہ گاہیں موجود نہیں تھیں تو یورپ، امریکہ، برطانیہ یا کسی دوسرے ملک کی کس درسگاہ سے یہ مسلمان فارغ التحصیل تھے؟۔۔۔ غیر مسلموں نے کب تحقیق کی یا کس عیسائی یا کسی یہودی کی بنائی ہوئی یونیورسٹی کے تحت یہ تحقیق ہوئی؟۔۔۔ یہ علمی وسعتیں کہاں سے آئیں؟۔۔۔ غیر مسلموں کو شعور کن اداروں نے دیا؟۔۔۔  تحقیق کیلئے سہولتیں مسلمان حکمرانوں اور مدرسین نے نہیں دیں تو کس نے دیں؟۔۔۔  کہ تمام علوم پہ تحقیق ہوئی اورکتابیں لکھی گئیں۔ یہ مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ مسلم ریاستوں یا حکمرانوں نے تدریسی اداروں کے قیام یا تحقیق کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے بلکہ صرف عمارتیں بنانے پہ اکتفا کیا اور یونیورسٹیاں نہیں بنائیں۔ اگر ایسے تعلیمی ادارے موجود نہیں تھے جو بہترین معمار ریاست کو دے سکیں تو اتنی بڑی عمارتیں کیسے بن گئیں؟ ۔۔۔ ایسی بڑی عمارتوں کا کن اداروں کے فارغ التحصیل تعلیم یافتہ  ماہرین سے نقشہ تیار کروایا گیااور  یہ معمار کن تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرکے آئے تھے؟۔۔۔  ایسے تعلیمی اور تربیتی ادارے ریاست ہند میں ہی  موجود تھے اور وہ ایسے آرکیٹکچر یا معمار  پیدا کررہے تھے کہ جن سے حصول علم کے بعد وہ ماہرین عالی شان عمارتوں کے خاکے اور نقشے تیار کرسکیں اور پھر ان کی تعمیرات کروائی جاسکیں۔ مسلم دور کی شاندار عمارات جس عظیم تخلیقی صلاحیت سے تعمیر کی گئی، وہ دو چیزوں کے بغیر ممکن نہ تھیں۔ پہلی فن تعمیر کی تفصیلی مہارت، جس میں جیومیٹری، فزکس، کیمسٹری اور ڈھانچے کے خدوخال وضع کرنے تک کے علوم شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کسی ملک کی مضبوط معاشی اور اقتصادی حالت، اس قدر مضبوط کے وہاں کے حکمران شاندار عمارات تعمیر کرنے کا خرچ برداشت کر سکیں۔

مسلمانوں کی کتنی ہی ایجادات ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات بیشتر مسلمانوں اور عربوں کی مرہون منت ہیں اور وہ اس وقت ایجاد ہوئی ہیں جبکہ متمدن دنیا میں کہیں یورپ و اہل یورپ کا ذکر تک نہ تھا۔ ان میں سے بعض کی تو جدید سائنس نقل بھی نہ کرسکی اور بعض کی نقل اتار کر ایجاد کاسہرا اپنے سر سجا لیا۔

یورپ والوں نے جابر بن حیان کوگیبر، ابن رشد کو اویرو، ابن سینا کو ایوونا اورابن الہیشم کو الہیزن کہنا شروع کیا ،تاکہ ان کا مسلمان اور عرب ہونا ثابت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا سائنس کا طالب علم خالد بن یزید، زکریا، رازی، ابن سینا، الخوارزمی، ابو ریحان البیرونی، الفارابی، ابن مسکویہ، ابن رشد، کندی، ابو محمد خوحبدی، جابر بن حیان، موسیٰ بن شاکر، البتانی، ابن الہیشم، عمر خیال، المسعودی، ابو الوفاء اور الزھراوی جیسے عظیم سائنسدانوں کے حالات زندگی اور سائنسی کارناموں سے یکسر ناواقف ہے۔

مسلمان سائنسدانوں کی وہ ایجادات جنہوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ "کافی” اس بات سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ اصل میں مسلمانوں نے کافی 15ویں صدی میں یمن میں دریافت کی اور پھر یہ سلطنت عثمانیہ تک مشہور ہوگئی۔ "الجبرا”ایرانی مسلم سائنسدان اور ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی نے متعارف کروایا۔ انہوں نے اپنی زندگی عراق اور ایران میں گزاری۔”یونیورسٹیاں”پہلی "جامعۃ القرويين” دو مسلمان بہنوں نے مراکش کے شہر فاس میں تعمیر کی۔ ڈگری فراہم کرنے والی پہلی یونیورسٹی "جامعۃ الاظہر” مصر کے شہر قاہرہ میں تعمیر ہوئی۔ "کیمرہ”مسلم سائنسدان ابن الہیشم 11ویں صدی میں آپٹکس کی فیلڈ ایجاد کی اور یہ بھی بتایا کہ کیمرہ کیسے کام کرتا ہے۔ "جہاز” مسلم سائنسدان عباس ابن فرناس نے اسپین کے شہر کورڈوبامیں پرندوں کی اُڑان سے متاثر ہوکر ان کے پروں جیسی ایک چیز تخلیق کی۔ وہ ان پروں کو پہن کر چند لمحوں تک ہوا میں اڑے۔

ابن سینا کی کتاب القانون، بصری کی کتاب الحیوان اور ابوالقاسم کی جراحی، سترہوی صدی عیسوی تک یورپ میں نصابی کتب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں، ان کتابوں میں انسانی دماغ اور اعصاب کی تصاویر بنی تھیں۔ ابن سوری کی کتاب میں خشک جڑی بوٹیوں کی رنگین تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ یہ کتاب عربوں کی پہلی رنگین مصوری کتاب قرار دی گئی۔ کاغذ کی صنعت کو اوج کمال پر پہنچانے والے اہل شاطبہ ہیں۔ (شاطبہ بلاد اندلس میں سے ایک شہر ہے) چھپائی کی مشین اور مطابع کے پہلے موجد مسلمان سائنسدان ہیں۔ دوران خون کا جدید نظریہ ولیم ہاروے سے منسوب کیاجا تا ہے، حالانکہ اس سے بہت پہلے ابن النفیس نے نظریہ پیش کیا تھا۔ ابوالقاسم الزہراوی نے مثانہ کی پتھری نکالنے کیلئے جسم کا جو مقام آپریشن کے لیے تجویز کیا تھا آج تک اسی پر عمل ہو رہا ہے۔ محمد بن ذکریارازی دنیا کے پہلے طبیب جنہوں نےتپ دق (ٹی بی) کا علاج اورچیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا تھا۔ الجبرا کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی ایجاد علم مثلثات (ٹرگنومیٹری) ہے۔ حکم بن ہاشم (ابن المقنع) نے ایک مصنوعی چاند بنایا تھا جو ماہ نخشب کے نام سے مشہور تھا۔ یہ نخشب نامی کنویں سے طلوع ہوتا تھا اور تقریباً دو سومربع میل کا علاقہ منور کرتا تھا۔ اندلس (اسپین) کے ایک مسلم (سائنسدان) عباس (ابوالقاسم) بن فرناس نے تین چیزیں ایجاد کرکے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اول عینک کا شیشہ، دوم گھڑی ، سوم ایک مشین جو ہوا میں اڑ سکتی تھی۔ ابراہیم الفزازی، خلیفہ منصور کے عہد کا پہلا مسلمان سائنسدان انجینئر تھا۔ جس نے پہلا اصطرلاب تیار کیا تھا۔ ابن سینا کے استاد ابوالحسن نے پہلی دوربین ایجاد کی تھی۔ حسن الزاح نے راکٹ سازی کی طرف توجہ دی اور اس میں تارپیڈو کا اضافہ کیا۔ مسلمانوں کی دیگر صنعتی ایجادات میں بارود، قطب نما، زیتون کا تیل، عرق گلاب، خوشبوئیں، عطر سازی، ادویہ سازی، معدنی وسائل میں ترقی، پارچہ بافی، صابن سازی، شیشہ سازی اور آلات حرب شامل ہیں۔

عمر خیام نے شمسی کیلنڈر مرتب کیا۔ سورج اور چاند کی گردش، سورج گرہن، علم المیقات (ٹائم کیپنگ) اور بہت سے سیاروں کے بارے میں غیر معمولی سائنسی معلومات بھی البیرونی جیسے نامور مسلم سائنسدان نے فراہم کیں اور انہیں تحریری شکل دی۔ عباس بن فرناس وہ عظیم سائنسدان ہے، جس نے دنیا کا سب سے پہلا ’’ہوائی جہاز‘‘ بناکر اڑایا۔ قبلہ کے تعین اور چاند اور سورج گرہن کو قبل از وقت دریافت کرنے، حتیٰ کہ چاند کی گردش کا مکمل حساب معلوم کرنے کا نظام بھی البطانی ابن یونس اور ازرقیل جیسے مسلم سائنسدانوں نے وضع کیا۔ حساب، الجبرا اور جیومیٹری کے میدان میں الخوارزمی نے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ ان کی کتاب (الجبر و المقابلہ) سولہویں صدی عیسوی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بنیادی نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔ الخوارزمی نے بہت ساری اہم تصانیف تھیں،جن میں ایک ’’السند ہند‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ کتاب الجبرو المقابلہ میں انہوں نے لوگوں کی روزمرہ ضروریات اور معاملات کے حل کے لیے تصنیف کیاجیسے میراث، وصیت، تقسیم، تجارت، خریدو فروخت، کرنسی کا تبادلہ، کرایہ، عملی طور پر زمین کا قیاس (ناپ)، دائرہ اور دائرہ کے قطر کا قیاس، بعض دیگر اجسام کا حساب جیسے ثلاثہ اور مخروط وغیرہ۔ وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے علمِ حساب اور علمِ جبر کو الگ الگ کیا اور جبر کو علمی اور منطقی انداز میں پیش کیا۔ طبعیات اور حرکیات ابن سینا، الکندی، نصیرالدین طوسی اور ملا صدرہ کی طبعیات کی خدمات ابتدائی طور پر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ابن الہیثم طبعیات کے دامن کو علم سے بھردیا۔ وہ طبعیات ، ریاضی ، ہندسیات ،فلکیات اور علم الادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔

جراحت کے میدان میں آج بھی استعمال ہونے والے بیشتر آلات کو اسلامی ریاست میں مسلمان محقق طبیبوں نے علاج معالجے کی ضرورت پڑنے پہ تحقیق کرکے ایجاد کیا۔ اسلامی ریاست ہی فوجی،علمی،فکری،اقتصادی، تحقیقی، تہذیبی ہر لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ریاست تھی اور اس کی وجہ اسلام یعنی تعلیمات محمد رسول اللہ ﷺ تھیں۔ اسلامی سلطنتیں ہی سب سے ترقی یافتہ اور تحقیق و جدت اور ترقی متعارف کروانے والی ریاستیں تھیں۔ تمام تر ایجادات و تحقیق کی بنیاد آج بھی مسلمان ہی ہیں۔

سقوط بغداد سے ایک بہت بڑا علم کا خزانہ غیرمسلموں نےدریا برد کردیا۔ جہاں منگولوں کے حملوں سے بغدادمیں علم و تحقیق کو نقصان پہنچا، وہیں سقوط غرناطہ سے علم و تحقیق کو نقصان پہنچا۔   ویسے ہی برصغیر، خطہ ہند پہ انگریز کے تسلط کے بعد، ہمارا تعلیمی و تحقیقی سرمایہ گم کردیا گیا۔

ایڈورڈ کریسی نے تاریخ روم میں ترکوں کو تہذیب و تمدن اور علمی ایجادات و اختراعات کے لحاظ سے پندرھویں اور سولہویں صدری کے تمام یورپ میں سب سے برتر قوم تسلیم کیا ہے اور  انسائکلوپیڈیا کی قسم کی کتابیں لکھنے کا ترکوں سے ہی رواج شروع ہواتھا۔ رسد رسانی اور فوجی شفاخانوں کا باقاعدہ انتظام ترکوں ہی سے یورپ نے سیکھا۔ قلعہ کی تعمیرات کا فن بھی ترکوں سے ہی یورپ میں گیا۔ فوجی باجا تمام یورپ نے ترکوں سے حاصل کیا۔ چیچک کے ٹیکے کا موجد ایک ترک تھا۔ یہ وہی ترکی ہے جو خلافت عثمانیہ کا مرکز تھا۔

1258ء میں فرانس کی پہلی یونیورسٹی”ساربن” میں "میڈیکل سائنس” کی تدریس شروع کی گئی اور 400 سال تک میڈیکل سائنس عربی زبان میں پڑھائی جاتی رہی ۔ جب لندن اور پیرس کی آبادیا ں تیس چالیس ہزار تھیں، اس وقت اسلامی ریاستوں کے بڑے شہروں کی آبادیاں ایک ملین یعنی دس لاکھ کے قریب یا اس سے زیادہ  ہوا کرتی تھیں۔عیسائی ریاستوں میں مسلمانوں کی ایجادات کا تذکرہ کرنے پہ سخت سزادی جاتی تھی۔

جیسا کہ آج کل ہر شعبہ کو ہم انگریزی زبان میں تلاش کرتے ہیں۔ دنیا میں عربی ہی جدید علوم کے حصول کا واحد ذریعہ تھی۔ اس سلسلے میں تحقیقی  و تجزیاتی خزانوں سے مرتب کتاب "اسلام جدید تہذیب کا سرچشمہ، ناشر ادارہ نقشبندیہ اویسیہ”  ایک مفید مجموعہ ہے۔ مسلمان ریاستوں نے درس گاہوں کے علاوہ، کتب خانے اور ان سے ملحق دارالترجمہ بنا رکھے تھے۔ جہاں پہ دوسری زبانوں پہ تحقیق اور کتب کے ترجمے کا کام کیا جاتا تھا۔ ترجمہ بھی تحقیق کا ہی ایک شعبہ ہے۔ یہ ایک بہت محنت طلب اور صبر آزما کام تھا۔لیکن مسلمانوں میں دلچسپی اور لگن کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی کتاب ملتی تھی تو اس کو خریدنے کوئی نہ کوئی مسلمان وہاں ضرور پہنچ جاتا۔ یہ جنون اس حد تک گیا کہ نایاب کتابوں کو سونے کے بہاؤ مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کیا جانے لگا۔سرکاری سرپرستی کا یہ عالم تھا کہ مامون الرشید کے دور میں ایک مترجم کی تنخواہ تیس ہزار دینار تک تھی۔ بیت الحکمت قائم کیا گیا۔ جو نہ صرف ایک یونیورسٹی / جامعہ تھی بلکہ دارالترجمہ ، کتب خانہ ، لیبارٹری اور بے شمار سہولتوں سے آراستہ تھی۔تمام تر تعلیمی اداروں میں قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ ، جدید علوم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی ۔ یہاں سے ہی قاضی، مترجم، معالج، عسکری ماہر ، معلم، طبیب، معمار /انجینیر،محقق وغیرہ تعلیم حاصل کرکے کارہائے نمایاں سرانجام دیتے تھے۔اس تعلیمی نظام کا ایک کمال یہ بھی تھا کہ جو بھی طالبعلم مدارس سے فارغ التحصیل ہوتا تھا وہ کم از کم سطح پہ کسی نہ کسی فن سے ضرور واقف ہوتا تھا اور اپنے کنبے کا پیٹ پالنے کیلئے کسی کا سہارا نہیں لیتا تھا۔ کاشتکاری کرلیتا، علم طب سے لوگوں کا علاج کرسکتا تھا۔ لیکن کوئی چندہ، زکوۃ یا صدقات یا حکومتی وظیفہ پہ نہیں گزارا کرتا تھا۔ یہ تعلیمی ادارے،  آمدن کے لحاظ سے خودمختار ہوتے تھے۔ان کے پاس وسیع زمین ہوتی تھی ، جس کی آمدن سے یہ اپنے اخراجات پورے کرتے تھے۔

عربی زبان بین الاقوامی زبان تھی  کیونکہ تمام تحقیق عربی زبان میں ہی ملتی تھیں۔ اندلس، موجودہ سپین کو روئے زمین کی جامعہ /یونیورسٹی کہا جاتا تھا۔مسلمانوں کی علم و تحقیق کے جنون کو اس طرح مانپا جاسکتا ہے کہ ماضی میں کوئی شعبہ ایسا نہ ہے جس شعبے میں عربی زبان میں کتاب نہ ملتی تھی ۔ فارسی زبان میں بھی بہت تحقیق و ترجمہ کا کام ہوا اور مطالعہ و تحقیق کیلئے صدیوں تک عربی اور  فارسی زبان کی دنیا محتاج رہی ہے۔ بلکہ آج بھی ریاضی میں اعداد کے لکھنے کی ترتیب عربی کے علم الاعداد سے ہی رائج ہے۔

اگر دنیائے اسلام کے چند مسلمان محققین اور سائنسدانوں کے نام یہاں نہ دئیے جائیں تو شاید انصاف نہ ہوگا۔ محمد بن ابراھیم فرازی، یعقوب بن طارق، نوبخت اور فضل بن نوبخت، جرجیس بن جنریل، عبدالمالک اصمعی، حنین بن اسحاق، جیش بن حس عاصم، جبریل بن بخت یشوع، یوحنا بن ماسویہ، سلمویہ بن نبان، عباس بن سعید جوہری، یحیی بن منصور، ابوطیب سند بن علی، خالد بن عبدالمالک مروروزی، علی بن عیسی اسظرلابی، حجاج بن یوسف بن مطر، ابوسعید جرجانی، حبش حاسب، عمر بن فرحان، عطارد الکاتب، بنوموسی بن شاکر، حسن بن موسی، احمد کثیر فرغانی، محمد بن موسی خوارزمی، یعقوب کندی، علی بن ربن، ثابت بن قرہ حرانی، محمد بن جابر البتانی، احمد مصری، فضل نیریزی، حامد واسطی ، عدلی قائنی، محمد بن زکریا الرازی، ابوکامل شجاع، محمد حجازی، عبداللہ ترکی، احمد بلخی، علی عمرانی، سنان بن ثابت، موفق ہرسی، عبدالعزیز القبیسی، اسحاق اسرائیلی، احمد جذار، احمد نصر فارابی، محمد یوسف خوارزمی، ابوجعفر خازن، عبدالرحمن صوفی،ابوالوفا بوزجانی، ابوحامد خجندی، علی بن عباس مجوسی، احمد بن محمد صغانی، عریب قرطبی، ابولقاسم مسلمہ مجریطی، سلیمان جلجل، ابوالقاسم اصباغ، الزرقالی، ابوالقاسم زہراوی، ابن یونس، احمد بن محمد بن یحیی بلادی، مساویہ مردانی،  ابوالقاسم عمار موصلی، علی بن رضوان مصری، ابن الہیشم، احمد سجستانی ، حسین ناتلی، ابو سہل مسیحی،  بوعلی سینا، منصور بن علی ، البیرونی، ابوبکر محمد بن حسن الحاسب کرخی، عمر خیام، مظفر اسفرازی، ابوالعباس لوکری، عبدالرحمن خازن، ابوالبرکات بغدادی، علی بن عیسی، نصیرالدین طوسی، جابر بن حیان  جیسے چند مگر نامورمحقق شامل ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے مسلمان سائنسدان یا محقق ہیں، لیکن ان مسلمانوں نے بہت شہرت پائی اور بہت اہم تحقیقات کرکے، بہت سے علوم متعارف کروائےاور فلاح انسانیت کیلئے طب بالخصوص علم الاجسام، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ وغیرہ میں کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ ان علوم سے آج تک اقوام عالم فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!