ہندوستان کا تعلیمی معیار

ہندوستان کے تعلیمی اداروں کا یہ کمال تھا کہ انھی تعلیمی اداروں سے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم انقلاب آفریں ہستیاں پڑھیں اور انھی اداروں سے ایسے معمار نکلے جنھوں نے تاج محل اور بے شمار قلعوں کی منصوبہ بندی کی اور تیار کروائے۔ یہ اسلامی ریاست کا نظام تعلیم ہی تھا جو سب کیلئے یکساں تھا۔ جہاں سے بیک وقت عالم، صوفی، معیشت دان، طبیب، فلسفی، حکمران اور انجینئر نکلتے تھے۔ شیخ احمد سرہندی رح ہوں یا جہانگیر ہو، یہ سب مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک ہی تعلیمی نظام میں پروان چڑھے، اسی لئے ان سب کی سوچ انسانی مفاد کی تھی۔ مزید یہ کہ خطہ ہند میں مدارس کی جائیدادیں انگریزوں نے بحق سرکار ضبط کرلیں۔ قیمتی کتب کا خزانہ غیرمسلموں نے اپنے ممالک میں منتقل کرلیا۔ تعلیمی اداروں پہ قبضہ کرنے کے علاوہ اساتذہ کو شہید کردیا گیا۔

ہندوستان میں انگریز کے آنے سے پہلے تعلیمی معیار پہ غیرمسلم مورخین بھی اس بات پہ متفق ہیں کہ تعلیم کا عروج اورنگزیب عالمگیر  کے زمانے میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ایک سیاح الیگزینڈر ہملٹن ہندوستان آیا،  اس نے لکھا کہ صرف ٹھٹھہ شہر میں علوم و فنون سیکھانے کے 400 کالج ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر نے ہی پہلی دفعہ تمام مذاہب کے مقدس مذہبی مقامات کے ساتھ جائیدادیں وقف کیں۔ وہاں کام کرنے والوں کیلئے وظیفے مقرر کئے۔ اس دور کے 3 معروف ہندو مورخین میں سے سجان رائے کھتری نے "خلاصہ التواریخ”، بھیم سین نے "نسخہ دلکشا” اور ایشور داس نے "فتوحات عالمگیری” لکھی۔ یہ تینوں مصنفین متفق تھے کہ اورنگزیبب عالمگیر نے پہلی دفعہ ہندوستان میں طب کی تعلیم پر ایک مکمل نصاب بنوایا اور طب اکبر، مفرح القلوب، تعریف الامراض، مجربات اکبری اور طب نبوی جیسی کتابیں ترتیب دے کر کالجوں میں لگوائیں، تاکہ اعلیٰ سطح پر صحت کی تعلیم دی جا سکے۔ عالمگیر نے ہی نصابی کتب طب فیروزشاہی مرتب کرائی۔یہ تمام کتب آج کے دور کے جدید میڈیکل سائنس کے نصاب کے ہم پلہ ہیں۔ اس کے دور میں صرف دہلی میں سو سے زیادہ ہسپتال تھے۔کئی سو سال پہلے فیروز شاہ نے دہلی میں ہسپتال قائم کیا، جسے دارالشفاء کہا جاتا تھا۔

تمام ریاست میں تدریس کا نظام موجود تھا۔ہر محلے میں مدرسے تھے۔ قصبوں میں اساتذہ کے دالان شاگردوں سے بھرے رہا کرتے تھے۔  ریاضی، طبیعیات، علمِ طب، فلکیات، کیمیا، فنون سب کی تعلیم دی جاتی تھی۔ تدریسی اداروں کے پاس وسیع زمینیں موجود ہوتی تھیں، جن سے ان کو آمدنی ہوتی تھی۔ معمار / انجینئرز، حکماء/طبیب، قاضی، عسکری ماہر و دیگر افراد انھی تدریسی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے تھے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ہند میں کوئی تدریسی نظام موجود نہ تھا یا تدریسی ادارے موجود نہ تھے۔ بلکہ انگریزوں کی خفیہ معلومات کے مطابق ہند کی آبادی کا تعلیمی تناسب 85 فیصد سے زیادہ تھا۔ ہند کی دفتری زبان فارسی تھی جسے انھوں نے انگریزی سے بدل دیا۔ جبکہ  اسلامی ریاستیں مفتوحہ علاقوں کی زبان ویسے ہی بحال رکھتی تھیں۔

ول ڈیورانٹ مغربی دنیا کا مشہور ترین مورخ اور فلاسفر ہے. وہ اپنی کتاب story of civilization میں مغل ہندوستان کے بارے میں لکھتا ہے کہ "ہر گاؤں میں کم از کم ایک استاد ہوتا تھا، جسے حکومت تنخواہ دیتی تھی۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے صرف بنگال میں 80 ہزار سکول تھے۔ ہر 400 افراد پر ایک سکول ہوتا تھا۔ ان سکولوں میں 6 مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ گرائمر، آرٹس اینڈ کرافٹس، طب، فلسفہ، منطق اور متعلقہ مذہبی تعلیمات”۔ اس نے اپنی ایک اور کتاب A Case For India میں لکھا کہ "مغلوں کے زمانے میں صرف مدراس کے علاقے میں ایک لاکھ 25 ہزار ایسے ادارے تھے، جہاں طبی علم پڑھایا جاتا اور طبی سہولیات میسر تھیں”۔

میجر ایم ڈی باسو نے برطانوی راج اور اس سے قبل کے ہندوستان پر بہت سی کتب لکھیں. وہ میکس مولر کے حوالے سے لکھتا ہے "بنگال میں انگریزوں کے آنے سے قبل وہاں 80 ہزار مدرسے )تعلیمی ادارے( تھے”۔ میجر باسو نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ "ہندوستان کے عام آدمی کی تعلیم یعنی فلسفہ، منطق اور سائنس کا علم انگلستان کے رئیسوں حتیٰ کہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی زیادہ ہوتا تھا”۔ جیمز گرانٹ کی رپورٹ یاد رکھے جانے کے قابل ہے. اس نے لکھا ” تعلیمی اداروں کے نام جائیدادیں وقف کرنے کا رواج دنیا بھر میں سب سے پہلے مسلمانوں نے شروع کیا. 1857ء میں جب انگریز ہندوستان پر مکمل قابض ہوئے تو اس وقت صرف روحیل کھنڈ کے چھوٹے سے ضلع میں، 5000 اساتذہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتے تھے”۔ مذکورہ تمام علاقے دہلی یا آگرہ جیسے بڑے شہروں سے دور مضافات میں واقع تھے۔

مغلیہ دور کی شرح خواندگی کے مطابق، لاہور کے انارکلی مقبرہ میں موجود ہر ضلع کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ہر ضلع میں شرح خواندگی 80% سے زیادہ تھی۔  جو اپنے وقت میں بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تھی۔ انگریز جب یہ ملک چھوڑ کر گیا تو صرف 10% تھی۔

انگریزوں نے بنگال 1757ء میں فتح کیا اور اگلے 34 برسوں میں سارے مدارس کھنڈر بنا دیئے گئے۔ہندوستان کے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کیلئے لارڈ کارنیوالس نے 1781ء میں دنیاوی اور دینی تعلیم کو الگ کرنے کی سازش کے تحت پہلا دینی سکول کھولا۔ اس سے پہلے دینی اور دنیاوی تعلیم کی کوئی تقسیم نہ تھی، ایک ہی مدرسہ میں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، فلسفہ، ریاضی، سائنس  سب پڑھایا جاتا تھا۔ انگریزوں کے قبضہ کرنے سے قبل ہندوستان میں دینی و دنیاوی تعلیم کے الگ الگ ادارے موجود نہ تھے۔ خلافت کے زیر نگیں ریاستوں میں بھی دینی و دنیاوی تعلیم الگ الگ نہ تھی۔ ہر اسلامی ریاست میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ تھا اور ہر کسی کو ہر سطح کی تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!