نظام حکومت کے اثرات

آج سے چودہ سو سال پہلے عرب ایک پسماندہ علاقہ تھا۔ لیکن عرب اللہ کے آفاقی نظام کو اپنے اوپر نافذ کرنے کی وجہ سے پوری دنیا پہ حکمرانی کرنے لگے۔ جدید علوم سے نہ صرف خود آشنا ہوئے بلکہ پوری دنیا میں علم و تحقیق کا آغاز کیا اورپوری دنیا کو جدید علوم سے فائدہ دیا۔ جب مسلمان  افواج پیرس میں داخل ہورہی تھیں تو وہاں کے باشندے، تابوت چوری کرکے، ان میں اپنا سامان ڈال کر گلیوں میں کیچڑ میں سے جاتے تھے۔ مغربی تاریخ میں آج بھی وہ اپنے آباﺅ اجداد کو "وحشی مغرب wild west” مخاطب کرتے ہیں۔ آج جو بھی ترقی اور بہتری ہمیں نظر آ رہی ہے اس میں اسلام اور اسلامی تعلیمات سے استفادہ ہی کیا گیا ہے۔ اسلام نے پوری دنیا کو ترقی اور جدیدیت کی راہ پہ گامزن کیا اور دنیا میں رہنے کا ڈھنگ  دیا۔

خلافت والی مرکزیت کے ختم ہونے سے امت مسلمہ مختلف ممالک کی صورت میں بکھر گئی ۔ اس وقت مسلمان ممالک میں مختلف نظام حکومت کام کررہے ہیں لیکن کسی بھی اسلامی ملک میں مکمل اسلامی نظام حکومت کا نفاذ نہیں۔ جدید دنیا کے نظاموں کو  اسلامی  ممالک نے رائج کر رکھا ہے۔

اس وقت نو اسلامی ممالک میں بادشاہت کا نظام چل رہا ہے۔ جبکہ گیارہ ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت چل رہا  ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے اور اٹھائیس اسلامی ممالک میں صدارتی نظام کے ذریعے امور ریاست چلائے جارہے ہیں۔ مکمل اسلامی نظام حکومت کسی بھی اسلامی ریاست میں نافذ نظر نہیں آتا۔

 دنیا کے94 چورانوے ممالک میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے۔ جن میں امریکہ، افغانستان، وینزویلا جیسے ممالک شامل ہیں۔

دینا کے 52 باون ممالک میں بادشاہی نظام چل رہا ہے۔ جن میں جاپان، کینیڈا اور برطانیہ، کویت اور متحدہ عرب امارات، چین اور  شمالی کوریا جیسے مما لک شامل ہیں۔

دنیا کے 47 سنتالیس ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت کارفرما ہے۔ انھی ممالک کی فہرست  میں بھارت اورپاکستان بھی شامل ہیں۔

دیکھا جائے تو زیادہ تر ممالک میں بادشاہت یا صدارتی نظام حکومت یعنی "یک سربراہی نظام حکومت” ہی چل رہا ہے۔ اس نظام میں تمام ریاستی اختیارات ایک سربراہ کے پاس ہوتے ہیں لیکن پارلیمانی نظام میں لیمیٹڈ کمپنی کی مانند اختیارات کو بہت سے عہدوں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور حتمی اختیار کسی ایک کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ عدم استحکام رہتا ہے۔ مزید یہ کہ مغربی جمہوریت کے طریقہ انتخاب عوامی ہونے کی وجہ سے صحیح قیادت ان ممالک میں میسر نہیں ہوتی اور یہ ممالک مسائل سے نکل ہی نہیں پاتے۔   ان ممالک میں سیاسی افراتفری بھی عروج پہ رہتی ہے۔ موجودہ دور میں "یک سربراہی نظام حکومت” یعنی صدارتی یا بادشاہی نظام حکومت  میں کچھ بہتری نظر آتی ہے جبکہ پارلیمانی نظام حکومت ناکام نظر آتا ہے۔

جاپان میں ابھی بھی بادشاہی نظام ہے۔ جاپان نے امریکہ سے شکست کھائی اور پوری قوم نے امریکہ کی بالادستی قبول کرلی ۔ صرف ایک تعلیمی نظام اپنے ہاتھ میں رکھا۔ اس کی پالیسی انھوں نے خود بنائی اور ملک میں موجود بادشاہت کو قائم رکھا۔ تعلیمی اور تکنیکی نظام کے ذریعے انقلاب لے آئے۔

۱۹۸۲،سنگاپور میں لوک پال بل کا نفاذ کیا گیا اور ایک سو بیالیس راشی سیاستدان اور افسروں کو ایک ہی دن میں گرفتار کرلیا گیا اور اب دنیا کے دس امیر ترین ممالک میں سنگاپور کا شمار ہوتا ہے۔

قوموں کی ترقی میں ریاستی نظام حکومت،  نظریہ اور حکمران  بہت بنیادی  اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنا نظام حکومت اورطریقہ انتخاب اسلام کے عطا کردہ بنیادی اصولوں کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن و سنت کو نافذ کرنے کے پابند ہیں۔ دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے تحت بھی ہم قرآن و سنت کی بنیاد پہ اس ملک کو چلانے کے وعدے کو ایفا کرنے کے پابند ہیں۔ ہمارے پاس خالق کائنات کا دیا ہوا نظام موجود ہے۔ وہ بادشاہت کہلائے یا صدارتی ہماری بقاء اور ترقی اسی نظام میں ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!