اردو دفتری زبان بنائی جائے

پاکستان کے بننے کے بعد اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ اب اس بات کی اہمیت کا ادراک بھی کیا جانا چاہئے کہ انگریز دور کی باقیات کو ختم کرتے ہوئے دفتری سطح پہ انگریزی زبان کو ترک کرکے قومی زبان اردو کو دفتری زبان قرار دیا جائے۔

اردو کو ہرسطح پہ قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔ تمام ادارے اردو زبان میں خطوط سازی کو یقینی بنائیں۔ مقامی زبانوں کی بقاء اور تحفظ کیلئے انھیں تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ عربی کو بطور بین الاقوامی زبان اپنایا جائے اور اس  کوفروغ دیا جائے۔

پاکستان کی موجودہ رائج العام اور قومی زبان اردو، عہد سلاطین دہلی میں ہی معرض وجود میں آئی۔ ہند کی دفتری زبان فارسی  تھی لیکن اردو کی پیدائش اور فروغ کا مرکز ہند ہی ہے۔  اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب ہے لشکر۔ یہ زبان اسلامی لشکروں میں پیدا ہوئی اور وہیں رائج ہوئی۔ اسلامی لشکروں میں مختلف علاقوں کے مجاہدین موجود ہوتے تھے۔ ان مجاہدین کے آپس میں بات چیت کرنے کیلئے اردو زبان نے مختلف زبانوں میں سے جنم لیا۔ بعدازاں اسلامی لشکروں کے مختلف علاقوں میں جانے سے اس نے ترقی پائی۔ اور یہ ہند کی سب سے زیادہ بولی جانے والی مقامی زبان بن گئی۔

آج یہ زبان دنیا میں چوتھی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کا درجہ پا چکی ہے۔ اردو زبان میں زیادہ تر فارسی اور عربی کے الفاظ شامل ہیں۔ گولگنڈہ کے سلطان قلی قطب شاہ کو اردو زبان کا پہلا صاحب دیوان شاعر کہا جاتا ہے۔ یہ زبان ہندوستان کی مقامی زبانوں کے علاوہ ایسی مقبول ہوئی کہ ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ہند کے قریب کے اکثر جگہوں میں بولی جانے لگی۔ بعد ازاں انگریزوں کے دور حکومت میں بھی اس میں ترقی ہوتی رہی۔ انگریز کو بھی مقامی آبادی سے واسطہ پڑتا تھا اور اسی لئے انگریزوں نے بھی اردو کو  تمام مقامی زبانوں میں مشترکہ بولی جانے والی زبان گردانتے ہوئے، ترقی دی۔ ابھی بھی بھارت میں اردو ہی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، جسے اب وہ "ہندی” زبان بھی کہتے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا میں چوتھی سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ، برطانیہ میں چھٹی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے۔

چین میں اردو زبان کو بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ بہت سے ممالک  کی یونیورسٹیوں میں باقاعدہ اردو کے شعبہ جات قائم ہوچکے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ساتھ مل کر اردو زبان میں پروگرام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک پاکستان اور بھارت کے باشندوں کی کثیر تعداد موجود ہونے کی وجہ سے اردو میں بہت سے رسائل اور ذرائع ابلاغ چل رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھی اگر آپ عربی یا انگریزی نہیں بول سکتے تو اردو سے بھی کام چل جاتاہے۔ اس خطے میں دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی دو زبانیں اردو اور پنجابی ہیں۔

آج کل تو بہت سی انگریزی زبان آگئی ہیں۔ پہلے برطانوی انگریزی تھی، پھر ہماری قوم کو امریکن انگریزی زبان سیکھنے پہ لگا دیا گیا۔ اب تکنیکی انگریزی زبان، انتظامی انگریزی زبان، میڈیکل انگریزی زبان اور پتہ نہیں کس کس قسم کی انگریزی آ گئی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک سے تعلیم یافتہ افراد کو پاکستان کے سرکاری اداروں میں فورا نوکری دے دی جاتی ہے کیونکہ انھیں بہت سی انگریزی زبان آتی ہے۔ کیونکہ پاکستان کی دفتری زبان آج بھی انگریزی زبان  ہی چلی آرہی ہے۔ آپ کو کام کرنا آتا ہے یا نہیں انگریزی میں مضمون نویسی آنی چاہئے۔ آپ تحقیق کرسکتے ہیں یا نہیں، لیکن انگریزی آنی چاہئے۔ کیونکہ صلاحیتوں، قابلیتوں کی ضرورت نہیں بلکہ انگریزی مضمون نویسوں کی دفتروں میں ضرورت ہے۔ یعنی ہم نے آزاد خطہ حاصل کرلیا ہےلیکن سب حکومتی نظام، حکومتی مشینری یہاں تک کہ زبان میں اب بھی انگریز کی غلامی ہی کررہے ہیں۔ عدلیہ، فوج، بیوروکریسی، مقننہ یعنی پارلیمنٹ کی خط و کتابت، یہاں تک کہ وطن عزیز کا آئین  سب انگریزی زبان میں ہیں اور پاکستان کے اعلی سیاسی و غیرسیاسی عہدیداران بھی لباس میں انھی ممالک کی نقل کرتے نظر آتے ہیں اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے۔

کیا پاکستانی ہونا گالی ہے؟۔۔۔ جو ہم اپنے بچوں کو اپنی تہذیب نہیں سکھانا چاہتے تاکہ وہ اس گالی سے بچ سکیں۔ ہم کیا کررہے ہیں؟۔۔۔دنیا میں کتنے ممالک میں ان کی اپنی قومی زبانوں کے ساتھ ایسا حال کیا جاتا ہے؟۔۔۔ پاکستان میں ہماری دفتری زبان آج تک انگریزی کیوں چلی آرہی ہے اور انگریزی کس بناء پہ لازمی مضمون ہے؟۔۔۔ مجھے آج تک اس کا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ ہم کیوں انگریزی سے جان چھڑوا نہیں پارہے ہیں؟۔۔۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!