جمہوریت، ڈاکٹر اسرار احمد کی نظر میں

سورة الْاَنْعَام آیت ۱۱٦(وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَمَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جدید جمہوری نظام کےفلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقولِ اقبالؔ

جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں‘ تولا نہیں کرتے۔

اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دورِ صحا بہؓ میں صحابہ کرام ؓ کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور landmakrs کے طور پرمان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے  بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق (absolute authority) اوراقتدارِ اعلیٰ(sovereignty) اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ کلی اختیار اور اقتدارِ اعلیٰ تو بہرحال اللہ کے پاس رہے گا‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جا سکتے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!