جمہوریت، مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

"عقائدِ اسلام” میں لکھتے ہیں، کسی حکومت کے اسلامی ہونے کے لئے حاکم کا ذاتی طور پر مسلمان ہونا کافی نہیں، جب تک خود حکومت کا مذہب من حیث الحکومت نہ ہو. جیسے آج کل قومی اور عوامی اور نیشنل حکومت کا چرچا ہے، سو ایسی حکومت اسلامی نہیں کہلا سکتی. جو حکومت اللہ کی حاکمیت اور قانونِ شریعت کی برتری اور بالادستی کو نہ مانتی ہو بلکہ یہ کہتی ہو کہ حکومت عوام کی ہے اور مزدوروں کی ہے اور ملک کا قانون وہ ہے جو عوام اور مزدور بنا لیں۔ سو ایسی حکومت بلاشبہ حکومتِ کافرہ ہے۔  اِنِالْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰہ ِ (سورة یوسف، ۴۰) ۭوَمَنْلَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہ ُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ (سورة المائدة ، ۴۴) اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْم ٍيُّوْقِنُوْنَ (سورة المائدة، ۵۰) پس جو فرد یا جماعت قانونِ شریعت کے اتباع کو لازم نہ سمجھے اس کے کفرمیں کیا شبہ ہے. ایمان نام ہے ماننے کا اور کفر نام ہے نہ ماننے کا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!