جمہوریت، مفتی تقی عثمانی کی نظر میں

"اسلام کا نظام سیاسی ڈیمو کریسی اور ڈکٹیٹر شپ سے جدا ہے۔ گویا جمہوریت الگ ہے اور اسلامی نظام الگ ہے اس کا اُس سے کوئی تعلق نہیں”۔ فتح الملہم ، ص 284 ج 3

مغربی جمہوریت جس کی بنیاد "عوام کی حکمرانی” کے تصور پر ہے، اسلام کے قطعی خلاف ہے ، کیونکہ اسلام کی بنیاد "الله کی حاکمیت اعلی” کے عقیدے پر ہے۔ جسے قرآن کریم نے "إن الحكم إلا للہ” کے مختصر جملے میں ارشاد فرمایا ہے۔ لہذا مغربی جمہوریت کو اپنے تمام تصورات کے ساتھ برحق سمجھنا عصر حاضر کی بدترین گمراہیوں میں سے ہے اور ایسے لوگوں کو شرعی طور پر گمراه کہا جائے گا اور اگر کوئی شخص اس تفصیل کے ساتھ مغربی جمہوریت کو برحق سمجھے کہ پارلیمنٹ اگر کوئی قانون قرآن کریم کے کسی صریح حکم کے خلاف نافذ کر دے تو (معاذ الله) پارلیمنٹ کا قانون ہی برحق ہو گا تو ایسا اعتقاد کفر ہے، لیکن اگر کوئی شخص پارلیمنٹ کےفیصلوں کو قرآن وسنت کے تابع قرار دے تو اس کو کفر یا گمراہی نہیں کہہ سکتے، مگراس کا مطلب یہ ہوگا کہ وه مغربی جمہوریت کو جوں کا توں قبول نہیں کرتا۔ فتاوی عثمانی جلد سوم، باب الامارة و السیاسۃ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!