جمہوریت، سید ابوالاعلی مودودی، بانی جماعت اسلامی کی نظر میں

ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں، حقیقی مسلمان فرض کرلینا اور یہ اُمید رکھنا کہ ان کے اجتماع سےجو کام بھی ہوگا۔ اسلامی اصولوں ہی پر ہوگا پہلی اور بنیادی غلطی ہے۔ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں اور نہ ہی ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آ رہا ہے۔ اس لیے یہ مسلمان ہیں نہ انہوں نے حق کو حق جان کر قبول کیا اور نہ باطل کو باطل جان کر ترک کیا ہے۔ اُن کی اکثریت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ اُمید رکھتا ہے کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی تو اس کی خوش فہمی قابل داد ہے۔ (تحریک آزادی ہند اور مسلمان حصہ دوم ص ۱۴۰)

جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھ کو بلو کر مکھن نکالا جاتا ہے اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔ اسی طرح سوسائٹی اگر بگڑی ہوئی ہو تو اس کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وہی لوگ برسراقتدار آئیں گے جو اس سوسائٹی کی خواہشاتِ نفس سے سند مقبولیت حاصل کرسکیں گے۔ (تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص۱۴۲)

ایک مسلمان کی حیثیت سے جب میں دُنیا پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے اس امر پر اظہار مسرت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ترکی پر ترک، ایران پر ایرانی اور افغانستان پرافغان حکمران ہیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں حُکمُ النَّاسِ عَلی النَّاسِ لِلنَّاسِ (Government of the people by the people for the people) کےنظریے کا قائل نہیں ہوں کہ مجھے اس پر مسرت ہومیں اس کے برعکس حُکمُ ﷲِعَلی النَّاسِ بِالحَق (Rule of Allah on man with Justice) کا نظریہ رکھتا ہوں۔ اس اعتبار سے میرے نزدیک انگلستان پر انگریزوں کی حاکمیت اور فرانس پر اہل فرانس کی حاکمیت جس قدر غلط ہےاسی قدر ترکی اور دوسرے ملکوں پر ان کے اپنے باشندوں کی حاکمیت بھی غلط ہے بلکہ اسے زیادہ غلط اس لئے کہ جو قومیں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں ان کا اﷲ کے بجائے انسانوں کی حاکمیت اختیارکرنا اور بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ غیر مسلم اگر ضَالِّین کے حکم میں ہیں تو یہ اس طرز عمل کی بنا پر مَغضُوبِ عَلَیھِم کی تعریف میں آتے ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت میں میرے لیے اس مسئلہ میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ہندوستان میں جہاں مسلم کثیرالتعداد ہیں وہاں ان کی حکومت قائم ہو جائے میرے نزدیک جو سوال سب سے اقدم ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے اس پاکستان میں نظام حکومت کی اساس اﷲ کی حاکمیت پررکھی جائے گی یا مغربی نظریہ جمہوریت کے مطابق عوام کی حاکمیت پر؟۔۔۔ اگر پہلی صورت ہے تو یقینا یہ پاکستان ہوگا ورنہ بصورت دیگر یہ ویسا ہی ”ناپاکستان” ہوگا جیسا ملک کا وہ حصہ جہاں آپ کی اسکیم کے مطابق غیر مسلم حکومت کریں گے۔ بلکہ اﷲ کی نگاہ میں یہ اس سے زیادہ ناپاک، اس سے زیادہ مبغوض و ملعون ہوگا کیونکہ یہاں اپنے آپکو مسلمان کہنے والے وہ کام کریں گے جو غیر مسلم کرتے ہیں۔ اگر میں اس بات پر خوش ہوں کہ یہاں رام داس کی بجائے عبداﷲ خدائی کے منصب پر بیٹھے گا تو یہ اسلام نہیں ہے۔ موجودہ نظام کے خلاف ہماری لڑائی ہی اس بنیاد پر ہے کہ یہ نظام "حاکمیت جمہور” پر قائم ہوا ہے اور جمہور جس پارلیمنٹ یا اسمبلی کو منتخب کریں، یہ اس کو قانون بنانے کا غیر مشروط حق دیتا ہے جس کیلئے کوئی بالاتر سند اس کو تسلیم نہیں ہے۔ بخلاف اس کے ہمارے عقیدہ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ حاکمیت، جمہور کی نہیں بلکہ خدا کی ہو اور آخری سند خدا کی کتاب کو مانا جائے اور قانون سازی جو کچھ کتاب الٰہی کے ماتحت ہو نہ کہ اس سے بےنیاز۔ سہہ روزہ "کوثر” 28 اکتوبر صفحہ بحوالہ تحریک آزادی ہند اور مسلمان۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!