جمہوریت، قاری محمد طیب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

"فطری حکومت”میں لکھتے ہیں۔ "یہ(جمہوریت) رب تعالٰی کی صفت ‘ملکیت’ میں بھی شرک ہےاور صفتِ علممیں بھی شرک ہے”۔ کثرت رائے اور قوت رائے طرزجمہوری میں کثرت رائے کو وزن دیاجاتا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حکومت میں اصل وزن”ویژن” اور قوت رائے”کا ہوتا ہے۔

فطری حکومت میں فرماتے ہیں۔”اسےکثرت رائے کو فیصلہ کا بنیادی اصول قرار دے دیئے جانے کی جڑ کٹ جاتی ہے، یعنی امیر منتخب شوری کی آراء  میں رائے شماری کرکے اکثریت و اقلیت کا پابند نہ ہو گا بلکہ قوت دلیل کا پابند ہو گا. پس قوت دلیل اساسی چیز ہو گی نہ کہ کثرت رائے کہ زیاده افراد کا کسی ایک جانب آجانا اسلام میں حق و باطل کے فیصلے کے لیے کوئی بنیادی حیثیت نہیں رکهتا۔ اس لیےفی نفسہ اکثریت کو اسلام قانون ( قرآن حکیم ) نے بھی کوئی وقعت نہ دیتے ہوئے حد درجہ غیراہم ٹھہرایا ہے اور دین و ملک اور دیانت و سیاست کے تمام ہی دائروں میں نفس اکثریت کی بے وقعتی اور بے اعتباری کهلے لفظوں میں ظاہر کی ہے۔ پس قرآن نے دنیا کی اکثریت سے ایمان کی نفی، عقل کی نفی، علم کی نفی، محبت حق کی نفی، تحقیق حق کی نفی، تیقظ و بیداری اور فہم سلیم کی نفی، وفاء عہد کی نفی کی، ہدایت کی نفی کی، ثواب آخرت اور جنتی ہونے کی نفی کی، جہاد میں اکثریت کے گهمنڈ پر فتخ و نصرت کی نفی کی۔ استعمالی اشیاء میں اکثریت معیار حق تو کیا ہوتی مرکز باطل ہے، کیونکہ  بلحاظ واقعہ دنیا کی اکثریت حماقت، جہالت، کراہت حق، اٹکل کی پیروی ، غفلت، بد عہدی، ضلالت، عذاب اخروی، جہنم رسیدگی، شکست خوردگی وغیره کا شکار ہے، اس لیے محض عد دی اکثریت، اسلام و اصول پر کیا قابل واقعت قرار پا سکتی تھی کہ اسے حقوق کیلیے فیصلہ کن اصول تسلیم کر لیا جاتا اور امیر کو اس کا پابند کر دیا جاتا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!