نظریہ جمہوریت کی ابتداء

حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے تقریبا چار سو سال قبل افلاطون اور ارسطو کی کتابیں بالترتیب "جمہوریہ” اور "سیاست” میں عوام کی رائے سے حکمرانی کا تصور دیا گیا۔ یہ جمہوریت دراصل شہری ریاستوں کی حد تک تھا۔ اس وقت قبیلوں اور شہروں کی شکل میں ہی انسانی آبادیاں تھیں اور ایک مخصوص علاقے سے باہر نہ جاسکتے تھے۔ آج کی طرح وسیع ممالک یا خطوں کا تصور نہیں تھا یا دوردراز علاقوں تک سفر کا بھی تصور نہیں تھا۔ کہیں پہاڑ حائل تھے تو کہیں دریا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ، اسی جمہوریت کے نظرئیے کے زور پکڑنے پہ بادشاہ کبھی کبھار کسی معاملے میں رائے لینا چاہتا تو میدان میں عوام کو اکٹھا کرلیا جاتا اور عوام سے رائے لے لی جاتی۔ جس رائے پہ عوامی رحجان کی نشاندہی ہوتی، اس پہ عمل درآمد کرلیا جاتا۔ ہر معاملے میں بھی عوامی رائے نہیں لی جاتی تھی، نہ ہی حکومت سازی میں عوامی رائے یا عوامی نمائندگان کا کوئی تصور ملتا ہے۔ لیکن یہ نظریہ بھی وقت کے ساتھ مفقود ہوتا گیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ جن لوگوں کو سیاست کے حساس معاملات کی نزاکت کا علم ہی نہیں، ان سے رائے لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!