ملوکیت

جہاں جہاں اسلام نہ پہنچا، ان خطوں یا ممالک کی تاریخ پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں پہ نہ تہذیب تھی نہ ہی امن تھا اور نہ ہی وہاں پہ کوئی نظام حکومت تھا۔ بادشاہ کا حکم حرف آخر ہوتا تھا۔ بادشاہ ہی قانون ساز ہوتا تھا۔ بادشاہ کسی سے مشورہ کرے یا نہ کرے یہ بادشاہ کی مرضی پہ منتہج ہوتا تھا۔ بادشاہ عوام پہ ظلم کرتے تھے اور بد تہذیبی، نا انصافی، بد امنی اور معاشی بدحالی میں انتہا پہ تھے۔ اسےہی "آمریت یا ملوکیت ” کہتے ہیں۔ ہمارے آج کے دور کی بد بختی ہے کہ تمام  مسلمان بادشاہوں کو ملوکی حکمران یا آمر حکمران قرار دیا جارہا ہے۔ جو کہ صرف تاریخ کو متوازن طریقے سے نہ پڑھنے کی وجہ اور اسلام مخالف طاقتوں کی مرتب شدہ تاریخ پہ اعتبار کرنے کی وجہ سے یا اسلامی نظام حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکرکم علمی کی وجہ سے ہے۔

بد تہذیبی کا یہ عالم تھا کہ یورپ میں نہانے اور صفائی ستھرائی کا کوئی رواج نہ تھا، یہی وجہ تھی کہ یورپی لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی۔ دوسری طرف یورپی لوگوں کی طرح خود روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے۔ مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی کھڑے کھڑے شاہی محل کی دیوار پہ پیشاب کردیا کرتا تھا۔ چھوٹے اور بڑے پیشاب کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا۔ ایسی گندی مخلوق میں نے نہیں دیکھی۔ روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے سفیر نے کہا کہ فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی "ملکہ ایزابیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی۔ اس نے یورپ کو فتح کرکے جب نہانے پہ پابندی لگائی، اس وقت شہر میں تین سو گرم پانی کے حمام تھے۔ اس نے تمام حماموں کو گرا دیا۔

اسپین کے بادشاہ "فلیپ دوئم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی۔ اس کی بیٹی ایزابیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی۔ محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے اور اسی سبب سے وہ مر گئی۔  فرانس کے بادشاہ کی ایک لونڈی تھی۔جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لئے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔ یہ ان کی عوام نہیں بلکہ بادشاہوں کے حالات تھے، عوام کا کیا برا حال ہوگا۔ یہ واقعات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کررہے تھے اور مترجم، سیاح، معمار اپنے اپنے شعبوں میں شاہکار کررہے تھے، ان کے بادشاہ اور کلیسا نہانے کو گناہ قرار دے کر لوگوں کو قتل کرتے تھے۔ اندلس پہ سات سو سال مسلمانوں نے حکومت کی اور غرناطہ کے آخری تاجدار ابوعبداللہ اور عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ کے درماین ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے میں یہ بات طے تھی کہ مسلمان اپنی عبادت کے لئے آزاد ہوں گے ور مسلمانوں کی عبادت گاہیں برقرار رکھی جائیں گی۔ مسلمانوں کے ساتھ عبادات اور تعلیم میں کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جوں ہی فرڈیننڈ کی افواج غرناطہ میں داخل ہوئیں ساری مساجد کلیسائوں میں تبدیل کردی گئیں۔ سارے کتب خانے غرناطہ اور قرطبہ کے چوراہوں پر کتابوں کے ڈھیر کی چکل میں جلا دئیے گئے۔ مسلمانوں کے خلافف ناانصافی اور تشدد کی کاروائیوں کا آغاز کیا گیاکہ کسی بھی مسلمان پہ الزام لگا کر کہ اس نے عیسائی مذہب کے خلاف بات کی ہے، مسلمانوں کو بے پناہ اذیتیں دی گئیں۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی اور الجزائر اور مراکش میں جا کر مسلمانوں نے پناہ لی۔ سقوط غرناطہ کے دوران مسلمانوں کے ساتھ جوہوا وہ ایک دل دہلا دینے والی تاریخ ہے۔ مغربی جمہوریت کے علمبردار کیسے مسلمانوں پہ ظلم ڈھارہے تھے۔ لیکن انھی مغربی جمہوریت کے علمبرداروں نے اس کے فورا بعد ریڈ انڈین جو اصل میں امریکہ کے باسی  ہیں، کے ساتھ جو ظلم کیا وہ تاریخ کو لرزا دینے کے لئے کافی تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!