مغربی جمہوریت

دنیا میں مغربی جمہوریت کے ذریعے امن کا اور برابری کا درس دیا جاتا ہے۔ مذہبی آزادی، لسانی آزادی، قومی آزادی کا پرچار کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مغربی جمہوریت میں مذہبی آزادی کے نام پہ دوسرے مذاہب کو نہ صرف تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔ بلکہ قتل عام کیا جاتا ہے۔ مغربی جمہوریت کے ذریعہ سے کوئی صاحب خرد آدمی برسر اقتدار نہیں آسکتا بلکہ اس کے لئے پیسہ، چال بازی اور مفادات کا ایک بڑا سمندر عبور کرنا لازمی ہے۔

کفار کی تہذیب صرف مرضی ، من مانی ہے۔جبکہ آج کے مغربی جمہوریت کے علمبردار ریاستوں کے حکمرانوں کو اس بات کا علم ہے کہ اگر اسلام  کو فروغ ملا تو ہمارے بنائے ہوئے نظام زندہ نہ رہ سکیں گےاورعوام، اقوام عالم، وہ کسی بھی ملک کا شہری ہو، مغربی جمہوریت اور انسانوں  کے بنائے ہوئے دیگر مذاہب اورنظاموں سے بغاوت کردیں گے۔ جو مغربی جمہوریت کے نام پہ عراق، افغانستان، شام، مصر اور لیبیا کے ساتھ کیا گیا، کیا وہ ابھی ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا؟۔۔۔ مسلم خواتین کی افغانستان میں امریکن مرد فوجی تلاشی لیتے نظر آتے ہیں۔ عراق میں مساجد اور چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے نظر آتے ہیں۔ الغرض ایک ظلم کی لمبی داستان ہے جو کہ مغربی جمہوریت کے نام پہ لکھی گئی ہے اور پھر بھی کہا جاتا ہے کہ مغربی جمہوریت ہی انسانیت کی مسیحا ہے۔

  مغربی جمہوریت نے چند دہائیوں میں دنیا کو تباہی کے دھانے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ لیکن صدیوں سے آزمودہ  اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کا ہم نے کبھی نہیں سوچا۔ امریکی جمہوریت اور اقوام متحدہ، تیسری دنیا کے ممالک کو تجربہ گاہ بنا کر مختلف بیماریوں کو پھیلاتے ہیں اور پھر  ادویات کے ٹیسٹ کرتے ہیں۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن اقوام متحدہ اور جمہوری حکومتیں اس کے خلاف اقدامات کرنے کی بجائے، اس پہ آواز بلند کرنے کی روادار تک نہیں ہیں۔ پر امن ممالک میں حکمرانوں سے آزادی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور اس کے برعکس کشمیر، فلسطین، برما کے صوبہ اراکان  کے مسلمانوں پہ ظلم کی داستان لکھنے والوں کے ہاتھ مغربی جمہوریت نہیں روکتی۔

کیا ابھی بھی عراق،  افغانستان اور مصر کو امریکیوں نے اپنے من پسند حکمرانوں کے ذریعے غلامی میں نہیں دھکیلا ہوا؟

کیا فلسطین میں یہودیوں اور امریکیوں کی وجہ سے ظلم نہیں ہورہا اور ایک آزاد ریاست کو محدود نہیں کیا ہوا؟۔۔۔

کیا کشمیر میں ہندو ریاست بھارت وعدوں کے باوجود کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے گریزاں نہیں؟۔۔۔

کیا بدھ برما / روہنگیا کے صوبہ اراکان کے مسلمانوں سے ہر سطح کا ظلم روا نہیں رکھے ہوئے؟۔۔۔

غیر مسلموں حکمرانوں سے ہمیشہ دنیا کے امن کو خطرہ لاحق رہا۔مغربی جمہوریت کی تاریخ  میں زیادہ دور نہ جائیں، مغربی جمہوریت کا بڑا علمبرداراس وقت برطانیہ / انگلینڈ ہے۔ خلافت کو ختم کرنے والااور خلافت کو نقصان پہنچانے والا انگلستان / برطانیہ بھی شامل ہے۔ جہاں بادشاہی جمہوری نظام رائج ہے۔ یورپین ممالک اور برطانیہ نے ہی جاسوسوں کے ذریعے خلافت کے خلاف مسلمانوں سے بغاوت کروائی۔   برطانیہ نے عراق، افغانستان  اور دیگر ممالک میں اپنے ساتھی ملکوں، نیٹو کے ساتھ مل کرکونسے  ظلم نہ کئے۔ سب سے پہلے غرناطہ میں تباہی مچائی اور پھر انھوں نے امریکہ کا رخ کیا اور عیسائیوں نے امریکہ کے اصل باسی ریڈ انڈین کا قتل عام کیا اور ان کو غلام بنا لیا۔نہتے، جاپانیوں پہ ایٹم بم امریکہ نے گرایا۔ امریکہ  ایٹم بم کو جنگ میں استعمال کرنے والا پہلا اور واحد ملک ہے۔ افغانی سفیر کو پاکستان میں نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ذلیل و رسوا کیا گیا اور قیدوبند کی صعوبتیں سالوں انھیں برداشت کرنا پڑیں۔ جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، سفیر کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا  اور یہی امریکہ انسانی حقوق کا علمبردار بناہوا ہے۔ کیا برطانیہ نے ہی کشمیر اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں کے معاملے میں بے ایمانی کرکے قتل عام کا بازار نہیں سجایا؟۔۔۔ جس کی وجہ سے لاکھوں مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ کونسا ظلم امریکہ اور اس کے ساتھی علمبرداران مغربی جمہوریت نے مخلوق خدا پہ نہیں کیا۔کونسا بین الاقوامی قانون نیٹو فورسز اور ان مغربی جمہوریت کے علمبرداروں نے نہیں توڑا۔ افغانستان میں جنگی قیدیوں  کو کنٹینروں میں بند کرکے، بند کنٹینروں کو تپتی دھوپ میں رکھ دیا۔ مجاہدین دم گھٹنے سے شہید ہوگئے۔ اپنے فوجی پکڑے جائیں تو کہتے ہیں کہ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کیا جائے۔ لیکن دوسروں کے فوجیوں کے ساتھ وہ ظالمانہ سلوک کرتے ہیں کہ چنگیز خان / ہلاکو خان کی یاد تازہ ہوجائے۔کیا صدر صدام حسین کے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کیا گیا؟۔۔۔ وہ پیشاب کرنے بھی اکیلا نہیں جاسکتا تھا، جبکہ وہ پہلے ہی قید میں تھا۔ جبکہ اسلامی مجاہدین نے گرفتار ہونے والے غیرمسلم قیدیوں یا سپہ سالاروں، جنھوں نے گرفتاری کے بعد کوئی مزاحمت نہیں کی، پہ کوئی ظلم نہیں کیا، جو کہ عین اسلامی حکم ہے۔ کیا عافیہ صدیقی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک نہیں کیا گیا؟۔۔۔ وہ مجرم تھی یا نہیں؟۔۔۔ لیکن انسان ہے اور ایک عورت ہے۔ اگر اس پہ جرم ثابت ہوگیا تھا تو اسے  قید یا موت کی سزا دی جاسکتی تھی۔ انسانیت سوز ظلم کا شکار کرنے کا اختیار کونسا قانون دیتا ہے؟۔۔۔ پھانسی لگادو، سنگسار کردو، سرتن سے جدا کردو، لیکن جنسی تشدد کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی جو کہ خواتین پہ امریکہ اور اس کے حواریوں نے کیا۔ روح لرز جاتی ہے گوانتاناموبے کے قیدیوں کی داستان سن کر۔ چنگیز خان اور ہلاکو خان کے بعد آج کے دور میں یہ ظلم کی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن  کسی مسلمان ریاست میں ظلم کی ایک بھی ایسی داستان نہیں۔ لیکن انسان ساختہ نظاموں نے تاریخ کے صفحات پہ مظلوموں کے خون سے تحریریں لکھی ہیں، خواہ وہ مسلمان حکمران تھے یا غیر مسلم حکمران جس نے بھی اللہ کے دئیے ہوئے قانون سے منہ موڑ کر حکومت کو چلایا، ظلم ہی کیا۔

مغربی جمہوریت نے جس ملک کے نظام حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی ، اس ملک کے تمام شعبوں کو غیرمتوازن کردیا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے  کہ ڈنمارک میں باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی عمل سولہ سال ہے، لیکن شادی کی عمر چوبیس سال ہے۔ یعنی چوبیس سال کی عمر سے پہلے شادی کرنا ایک جرم ہے لیکن بغیر شادی کے سوہ سال کی عمر میں ہی جنسی تعلقات قائم کرنا قانونا جائز ہے۔ ڈنمارک کی طرح برطانیہ بیلجیئم، نیدرلینڈ، سپین اور روس میں سولہ سال جبکہ آسٹریا، جرمنی، ہنگری، اٹلی اور پرتگال میں باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی کم سے کم عمر چودہ سال ہے۔ فرانس میں باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات کی عمر پندرہ سال  ہے لیکن قانون ساز ادارہ اس کو تیرہ سال کی عمر تک لانے کا قانون منظور کرنے پہ غور کر رہا ہے۔ جبکہ یہ غیرمسلم ممالک اس بات پہ متفق ہیں کہ مقررہ عمر سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ باہمی رضامندی کی صورت میں بھی جنسی عمل کرنے کی صورت میں زنا بالجبر کے قانون کا اطلاق ہوگا۔ جبکہ پاکستان جہاں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ہم اسلامی ملک ہیں،  اسی مغربی جمہوریت کی وجہ سے شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال  ہے اور اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کی شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ اسلام کے قوانین کے مطابق بالغ ہوجانے والے بچوں کی شادی ہوجانی چاہئے اور آج کے دور میں پوری دنیا میں  آب و ہوا ، خوراک اور ماحول کے اثرات کے مطابق نو سے بارہ سال کی عمر میں بچے بالغ ہوجاتے ہیں۔ اسلام نے ہر مرد کو چار شادیوں تک بلا روک ٹوک اجازت دی ہے جبکہ پاکستان میں ہی دوسری شادی کرنے کے لئے پہلی بیوی سے اجازت ضروری قرار دے دی گئی ہے۔  جو کہ غیر شرعی قانونی پابندی ہے۔

غیرمسلم اقوام کے نظریہ جمہوریت نے زندگی کے ہر شعبہ اور طبقہ کو غیرمتوازن کردیا ہے۔ جمہوریت نے دنیا کا امن تباہ و برباد کردیا ہے۔ مغربی جمہوریت نے دنیا کوتیسری عالمی جنگ کے دھانے پہ دھکیل دیا ہے۔

 مغربی جمہوریت اپنی ابتداء سے لیکر انتہا تک ایک خوبصورت دلدل ہے، جس کی بالائی سطح پہ بہت ہی خوبصورت گھاس اگی ہوئی ہے،  جس  ملک نے بھی مغربی جمہوریت کو اپنایا وہ اس دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا ہے۔

"کوئی ایک جمہوری حکمران بتا دیں جس نے عدل کیا ہو؟۔۔۔”
"مغربی جمہوریت کی ابتداء اور اخیر  انسانوں کو کبھی امن، خوشحالی اور انصاف نہیں ملا”
"انسانوں کے تخلیق کردہ  نظاموں نےدنیا کو تباہی کے دہانے پہ پہنچا دیا "

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!