جمہوریت کے بنیادی تصورات

بظاہر جمہوریت میں عوام کی رائے کو حکومت کے انتخاب کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کے تحت ہر رائے دہندہ کی رائے برابری کا  درجہ رکھتی ہے۔ جس کے تحت جمہوریت میں اعلی قاضی اور ان کی عدالت کے اہلکار کی رائے برابر ہے۔ سپہ سالار اعظم اور ایک سپاہی کی رائےبرابر ہے۔ ایک عالم دین اور ایک عام مسلمان یا غیرمسلم کی رائے بھی برابر ہے۔ مزید اس معاملے کی گہرائی میں جاتے ہیں۔ اب  زید اور بکر جو کہ طب میں ماہر ڈاکٹرز ہیں ، ان کی تحقیق کینسر کے مرض  کے معاملہ میں مختلف ہے ۔ کوئی بیوقوف ہی یہ بات کہے گا کہ اب عوام الناس ، اپنی رائے سے بتائیں کہ کون ٹھیک کہتا ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص ، اس حق میں نہ ہوگاکہ عوام یا عوامی نمائندوں سے رائے لی جائے کہ کون سے ماہر ڈاکٹر کی رائے زیادہ بہتر ہے۔ بلکہ کسی زیادہ تجربہ کار ڈاکٹر سے پوچھا جائے گا یا اسی شعبے کے مزید ماہرین سے رائے لی جائے گی۔ کسی موقع پہ  دو انجینیر ، آپس میں کسی ڈیزائن پہ بحث کریں کہ اس ڈیزائن کو  کیسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ معاملہ اگر ان کے درمیان طے نہ ہو پا ئے تو مزید ماہر انجینیر حضرات کو بلایا جائے گا ۔ جو ان کی بحث کو سننے کے بعد اپنی رائے سے  اس معاملے کو حل کریں گے ۔ لیکن اگر عوام سے پوچھا جائے کہ دونوں کے ڈیزائن میں کس کا ڈیزائن اچھا ہے تو کیا یہ رائے لینے کا طریقہ کوئی عقلمندانہ ہوگا؟۔۔۔ محاذ جنگ پہ اگر دو  فوجی افسر  مختلف رائے رکھتے ہوں تو فیصلوں کیلئے ان سے زیادہ ماہر آفیسر موجود ہوتے ہیں جو کہ یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ کیا کرنا بہتر ہے۔ کسی مقدمے میں پہلے ایک قاضی فیصلہ جاری کرتا ہے، پھر عدالت عالیہ میں اس کی اپیل ہوسکتی ہے اور اگر مدعی یا ملزم اختلاف کرتے ہیں تو اعلی عدالتوں میں بالآخر دو یا دو سے زیادہ قاضی حضرات اس تمام معاملے کا جائزہ لیتے ہیں کوئی پہلو  مخفی تو نہیں رہ گیا۔ لیکن کسی سطح پہ بھی عوام سے ان فیصلوں کے بارے میں رائے نہیں لی جاتی بلکہ ماہر افراد ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر فوج و عدلیہ و بیوروکریسی کے افسران ، صاحبان اختیار  یہ بات سمجھ جائیں تو یقینا وہ مغربی جمہوریت پہ لعنت ڈالیں۔ دنیا میں انسان کسی بھی جگہ یا علاقے میں بستے ہوں انھیں کسی بھی معاملے میں مشورہ یا رائے درکار ہو تو وہ کسی ایسے شخص کی تلاش کرنے نکلتے ہیں جو اس معاملے کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور کوشش ہوتی ہے کہ اس کام کا ماہر مل جائے۔ اگر جمہوری طریقے سے رائے طلب کرنا ہی بہترین طرز زندگی ہوتا اور اکثریت کی رائے ہی برحق اور صحیح ہوتی تو انسان یقیناً ایسے ہی فیصلے کرتا۔ فیکٹری کا مالک تمام مزدوروں کو جمع کرتا اور فیکٹری کی توسیع کیلئے ووٹ مانگتا اور ان کی رائے پر عمل کرتا۔ پل بنانے کیلئے ایک انجینئر، مستری اور عام آدمی کی رائے برابر ہوتی۔ لیکن آج بھی کسی کام میں ناکامی کے بعد ایک فقرہ سننے ضرور ملتا ہے کہ کسی جاننے والے سے مشورہ کر لیا ہوتا۔ اگر کسی جگہ پہ طب پہ کوئی بحث ہونی ہویا سیمینار ہو تو کیا ہم یہاں سے بہترین ڈاکٹر کی جگہ،عوامی رائے کے تحت کسی بھی شخص کو بھیج دیں گے؟۔۔۔ ہرگز نہیں بلکہ یقینا ہم اپنے بہترین ڈاکٹر کو ہی بھیجیں گے۔ اس ڈاکٹر کا انتخاب بھی ہم چاہیں گے کہ ڈاکٹر حضرات ہی کریں، کیونکہ وہ اس شعبے کے ماہر آدمی کے بارے میں صحیح انتخاب کرسکتے ہیں۔ ایسے ہی انجینئرز کے اجتماعات پہ ہم چاہیں گے کہ متعلقہ شعبے کے ماہر ترین انجینئر جائیں ۔ مدرسہ کا انتظام بھی کسی  تجربہ کار عالم کے پاس ہی ہوگا اور علماء کے اجتماع میں جید علماء کو ہی نمائندگی دی جائے گی۔ صنعت کاروں کے اجتماع یا سیمینار میں پوری قوم میں سے بہترین صنعت کار ہی جائے گا۔ کاشتکاروں کے  سیمینار میں زرعی ماہر کو ہی بھیجیں گے۔ لیکن جمہوریت میں ہم پورے ملک کے نمائندہ کے طور پر ایک عوامی نمائندہ کو بھیج دیتے ہیں۔ تجارت پہ بات کرنے کیلئے ہم ایک عوامی نمائندہ کو وزیر تجارت بنا کر بھیج دیتے ہیں۔ بجلی، جدید ٹیکنالوجی، صنعت سازی اور دیگر امور ہم عوامی نمائندگان کے ہی حوالے نہیں کردیتے بلکہ سیمینار اور دوسرے ممالک کے وزراء و ماہرین سے بات چیت کرنے کیلئے بھی یہی افراد جاتے ہیں اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھتے ہیں۔ جو کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ

"مغربی جمہوریت کے مطابق حکومت سازی ایسا غیر ضروری اور غیر سنجیدہ کام ہے کہ عوامی رائے فیصلہ کرتی ہے کہ کون قانون سازی اور حکومت سازی کرنے کا اختیار رکھتا ہے”

ایسا نظام کیوں وضع نہیں کیا جاتا کہ  عوام یا طلباء تو درکنار ،پروفیسرز سے رائے لی جائے کہ آپ کواپنے کالج میں یا یونیورسٹی میں کونسا پرنسپل یا چانسلر چاہئے؟۔۔۔ یا یہ پوچھیں گے کہ کونسا پرنسپل یا چانسلر آپ کے کالج  یا یونیورسٹی کا نظام بہتر چلا سکتا ہے۔ یا ہسپتال کے عملہ سے پوچھا جائے کہ آپ کے ہسپتال کا سربراہ کون سا شخص ہونا چاہئے۔ اگر ہم یہاں متعلقہ شعبے کے لوگوں سے رائے نہیں لی جاتی، تو پورا ملک چلانے کیلئے ہم کیوں ایسے لوگوں سے رائے لیتے ہیں؟۔۔۔ جنہیں پتہ ہی نہیں کہ نظام حکومت ہوتا کیا ہے۔ ہم وکلاء  کا نمائندہ وکیل  کو ہی بناتے ہیں اور ڈاکٹروں کانمائندہ ڈاکٹر کو ہی بناتے ہیں۔ لیکن حکومت سازی کیلئے ماہرین امور ریاست کو نمائندہ مقرر نہیں کرتے۔ دنیا کا ہر جمہوری ملک ووٹر کیلئے عمر کی شرط ضرور لگاتا ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بھی نظام تعلیم رائج ہیں ان میں ایک اٹھارہ سال کا بچہ کیا اتنا علم اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیتا ہے کہ وہ ووٹ یا رائے دے سکے؟۔۔۔ جبکہ ایک 80 سال کا بوڑھا، جس کی یادداشت تک کھو چکی ہو،  اسے جمہوری طور پر رائے دینے کا بھی مکمل حق حاصل ہے۔ جبکہ رائے دینے کیلئے عمر کی شرط عائد کرنے کی بجائے،  رائے دینے  کا معیار یہ ہونا چاہئے کہ کون اس قابل ہے کہ رائے دے سکے۔ یعنی رائے دینے والوں کا معیار مقرر کیا جائے۔ صادق و امین ہونےکی  شرط اسمبلی کے اراکین پہ نافذ کرنے کے علاوہ رائے دینے والوں پہ بھی نافذ کی جائے کہ رائے دینے والا کون ہے اور منتخب ہونے والا کون ہے اور اس کے منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں جانے کی ضرورت کیا ہے ۔ ماہرین کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے لوگ صاحب رائے یا ماہرین نہیں ہوتے تو حکومتوں نے بڑے بڑے تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ قائم کئے ہیں جو ہر معاملے میں تحقیق کروا کر اپنی رائے دیتے ہیں۔ لیکن یہ تمام افراد کسی بھی جمہوری طریق کار سے منتخب نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کی علمی استعداد اور تجربے کو دیکھا جاتا ہے۔ عوام کی اکثریت ہرگز یہ نہیں جانتی کہ ہم جس معاملے میں رائے دے رہے ہیں وہ معاملہ ہے کیا؟۔۔۔ ان نمائندوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟۔۔۔ بلکہ ان نمائندوں کو ہی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟۔۔۔  قانون سازی کہتے ہی کس کو ہیں۔ اسمبلیوں میں موجودزیادہ تر نمائندوں کا حال بھی عوام جیسا ہی ہے، کس لئے منتخب ہوئے؟۔۔۔ سڑکیں بنوانے، گیس لگوانے، عوام کی فلاح و بہبود کے  کام کرنے کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ جبکہ عوامی نمائندہ کا  انتخاب قانون سازی کیلئے ہوا ہے اور قانون سے ان عوامی نمائندگان کا دور کا واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلی میں آدھے سے زیادہ  ممبران ن کی جانب سے ایک لفظ بھی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہوتا۔ سنا ہے کہ ایک وزیر پٹرولیم کسی پٹرول پمپ کا افتتاح کرنے گئےتو پٹرول پمپ کے مالک کے کان میں پوچھ ہی لیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ اس جگہ سے تیل نکلے گا۔ ایسے ہی ایک جمہوری ملک کی اسمبلی میں جب ڈیم پہ بحث ہورہی تھی تو ایک ممبر نےکہا کہ جب پانی سے بجلی نکال لیں گے تو پانی میں رہ کیا جائے گا۔ ہم اپنی زمینوں کو پانی لگا کر فصل کیسے لیں گے؟۔۔۔  کم و بیش ایسے ہی حالات منتخب نمائندگان کے ہوتے  ہیں۔ جبکہ انھوں نے حکومت سازی، قانون سازی اور حکومت کے امور میں فیصلہ سازی میں کردار ادا کرنا  ہوتاہے۔

"کسی بھی ملک کی کم از کم ننانوے فیصد سے بھی زیادہ عوام، کسی طور پر بھی اتنا علم نہیں رکھتی کہ حکومتی معاملات کیا ہوتے ہیں اور کیسے چلائے جاتے ہیں۔ اور کون ان معاملات کو چلانے میں ماہر ہے۔ جبکہ مغربی جمہوریت کے تحت، دور حاضر میں، عوام سے رائے لی جاتی ہے”

اس معاملے میں بہتری کی کوشش کی گئی اور گریجویٹ کی لازمی شرط کے تحت ممبران اسمبلی منتخب کئے گئے۔ برسراقتدار رہنے کے لالچ میں بہت سے جعلی ڈگریوں والے اسمبلیوں میں پہنچے۔ جنہیں موجودہ نظام عدل کے تحت نااہل قرار دینے میں بھی سال ہا سال لگ گئے۔ کیونکہ جمہوریت کے ذریعے عام شہری کبھی بھی ایوانان اقتدار تک نہیں پہنچ سکتا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!