جمہوریت میں قانون سازی

دنیا بھر کے عوام ہی نہیں بلکہ مغربی جمہوریت سے تو بہت بڑے بڑے مدبر اور صاحب الرائے لوگ بھی مرعوب نظر آتے ہیں جبکہ

"جب ایک عالم لغزش کرتا ہے ۔۔۔ ایک عالم لغزش میں پڑ جاتاہے”

پاکستان کے آئین کے مطابق کوئی قانون اسلام سے متصادم نہیں ہوسکتا۔پاکستان کے قیام کا مقصد بھی ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ لیکن حکومت سازی کے لئے "قانون ساز و حکومت ساز ایوان”  کے انتخاب کا طریقہ ہی غلط اختیار کرلیا گیا اور اس پہ عجب یہ کہ آج تمام مکاتب فکر و اہل دانش اسی طریقہ انتخاب کو اسلام کے مطابق تسلیم کر نے لگے ہیں۔ مقننہ یعنی "ایوان زیریں” اور "ایوان بالا” میں بیٹھی اکثریت جو کہ دین کا خاص علم نہیں رکھتی ، وہ تمام تر قوانین مرتب کررہی ہے اور اس میں کسی قسم کا یہ لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ قانون سازی اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں کیونکہ اسمبلیوں میں گنتی کے ایک دو علماء ہی عوام کے ووٹوں کی مہربانی سے پہنچ پاتے ہیں اور وہ بھی اس مشینری کا حصہ بننے کے بعد صرف موجودہ رواجی سیاست ہی کر سکتے ہیں۔ اورنہ ہی پہلے سے موجود غیر اسلامی قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق کرنے کا کام کیا جاتا۔ جبکہ پاکستان میں مقننہ کا پہلا مقصد یہی ہے کہ ۱۹۷۳ کے آئین کی جو شقیں خلاف قرآن و سنت ہیں، ان کو ختم کرکے تمام تر نظام حکومت کو قرآن و سنت کے مطابق چلانا یقینی بنایا جائے، جس کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی تشریحات پہ عمل کیا جائے۔ قانون سازی کا دائرہ کار بھی آئین میں قرآن و سنت کو مقرر کیاہوا ہے۔ عوامی نمائندگان کو قرآن و سنت کے قوانین کا علم ہی نہیں اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری کسی قانون سازی کے لئے ضروری ہے۔ آئین میں واضح ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ ہوگا اور اس قانون سازی  کے لئے "اسلامی نظریاتی کونسل” ایک حکومتی ادارہ ہے، تاکہ تمام قوانین اسلام کے اصولوں کے مطابق ہی ہوں۔ لیکن کتنے ہی قانون قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور کتنے ہی قانون بعد ازاں بھی قرآن و سنت سے متصادم بنائے گئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشریحات کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ جبکہ اسمبلی سے قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل کی توثیق سے مشروط ہونا چاہئے۔ ایسا بھی کوئی اقدام نہیں ہوتا۔  پھر محکمہ جات کے کام کرنے اور اختیارات کی حدود و قیود کا تعین کرنے کے لئے قانون سازی کرنا ہے، جس کا بھی ان کو علم نہیں ہوتا۔  یعنی قانون سازی کے لئے عوامی نمائندگان کو منتخب کرنے  کا طریقہ کار ہی سرے سے غلط اور اس پہ مستزاد یہ کہ نمائندگان کو قانون سازی کا پتہ ہی کچھ نہیں ہوتا۔ پوری قوم ان کو ووٹ دے کر ان کے گناہوں کی سزا بھگتتی  ہے۔

” کوئی کتاب یا قانون، قرآن و حدیث سے معتبر  یا جامع نہیں ہوسکتا "

اصل أصول و قانون صرف وہ ہے جو اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ذریعے مقرر فردیا۔ اگر ہم تکنیکی قانون سازی کی بات کریں تو پارلیمنٹ میں موجود ٹیکنوکریٹس کے علاوہ، بننے والے تکنیکی قوانین پہ بحث کو کوئی سمجھنے کی تکلیف بھی شاید نہیں کرتا۔  آج کل تو ٹیکنوکریٹس کا بھی انتخاب سفارش پہ ہوتا ہے یا ووٹ خریدے جاتے ہیں۔ نہیں تو پارٹی فنڈ کے نام پہ بھرتی کر لئے جاتے ہیں۔

قانون سازی نے آجکل ترقی کرلی ہے۔ وفاقی کابینہ/مجلس تشریعی کا اجلاس ہوتا ہے۔ متعلقہ سیکرٹری یا جس نے وہ قانون بنایا ہوتا ہے یا جو معاملے کوبہتر سمجھتا ہے، اس کو بلایاجاتا ہے۔ بریفنگ ہوتی ہے۔  وزراء بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں، جن میں سے اکثر کے متعلقہ وہ مسئلہ ہی نہیں ہوتااس لئے وہ اس کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں، کہ کابینہ/مجلس تشریعی کے اجلاس تک قانون پہنچ گیا ہے، ٹھیک ہی ہوگا اور ایسے کابینہ/مجلس تشریعی اس کی منظوری دے دیتی ہے اور اسمبلی میں قانون سازی کے لئے بل پیش کردیا جاتا ہے۔اب وہ بل بغیر کسی بحث کے منظور کرلیا جاتاہے۔ کیونکہ مقننہ میں موجود افراد کو اس قانون سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اگر آپ یہاں تک پہنچ ہی گئے ہیں تو ختم کریں اسمبلیوں کا دھندہ۔ ان فضولیات اور اضافی اخراجات کی بساط لپیٹ ہی دینی چاہئے۔ کیونکہ

” سیاستدانوں کو "اللہ کی رضا یعنی اسلام” نہیں بلکہ "اسلام آبادیعنی صرف حکومت” چاہئے”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!