اقوام متحدہ کا کردار

ہر دور میں طاغوت نے اسلام کے خلاف خفیہ و اعلانیہ جنگ جاری رکھی۔ جس کے نتیجے میں وہ 1923ء میں خلافت کی مرکزیت کو سو سال تک روکنے میں کامیاب ہوئے۔ خلافت کے تسلسل کو روکنے کے بعد جمہوری طاقتوں نے اقوام متحدہ نام کا ایک ادارہ خلافت کے متبادل کے طور پہ قائم کیا تاکہ اقوام عالم کے مابین توازن قائم کیا جاسکے۔ خلافت کے تسلسل کے روکنے کے بعد اقوام عالم کے بیچ تعلقات اور معاملات میں توازن برقرار رکھنے کیلئے،خلافت کی جگہ اقوام متحدہ نامی ادارے نے لے لی ہے۔ تاکہ سب مل کر امن و امان سے رہیں اور کسی ملک کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔

اقوام متحدہ کی آڑ میں طاغوتی طاقتیں مسلم کش کاروائیاں کررہی ہیں۔ اقوام متحدہ وہی ادارہ ہے، جس کو مسلم ممالک بالخصوص کشمیر اور فلسطین میں ہونے والا ظلم بھی نظر نہیں آتا۔ اقوام متحدہ کا مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، مسلم امۃ کی مرکزیت، خلافت کے قیام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اقوام متحدہ عراق، افغانستان و دیگر اسلامی ممالک پہ عیسائی ریاستوں بالخصوص امریکہ، برطانیہ، یورپ کو جارحیت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جن ممالک نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، ان کے خلاف اقوام متحدہ کوئی اقدامات نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ توازن پیدا کرنے والی تنظیم نہیں بلکہ صرف اور صرف مسلم مخالف ممالک کی تنظیم بن کر رہ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے آج تک کے کردار سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو انھوں نے تمام اقوام کے مابین توازن برقرار رکھا ہوا ہے اور نہ ہی حقوق العباد اور انصاف کو یقینی بنارہا ہے۔ بلکہ وہ غیر اسلامی ریاستوں کی مدد اور مسلمانوں سے تعصب کی بنیاد پہ کام کررہا ہے۔

سقوط خلافت کی وجہ سے جہاں اقوام متحدہ کے ذریعے طاقت کا توازن اہل مغرب کی طرف چلا گیا۔ طاغوتی طاقتوں نے دنیا بھر کے تمام ممالک کو جمہوریت اور سرمایہ دارانہ و سودی معاشی نظام کو نافذ کرکے دلدل میں بھی پھنسا دیا ہے اور آج بھی کوئی اسلامی ریاست جمہوریت کی جگہ اسلام کا عطا کردہ شورائی نظام یا سود سے پاک اسلامی معاشی نظام نافذ نہیں کرسکتی۔ اگر کہیں ایسی کوشش ہوتی ہے تو تمام عالم کفر اس کوشش کو کچلنے کیلئے اکٹھا ہوجاتا ہے اور اقوام متحدہ میں تمام ممالک خاموش تماشائی بن کر تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ ویٹو کا حق رکھنے والے پانچ ممالک امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس کے مفادات کے تحفظ کی تنظیم کا نام اقوام متحدہ ہے۔ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے لیکن اقوام متحدہ کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ

"اقوام متحدہ میں ویٹو کا اختیار کسی ایک اسلامی ملک کو نہیں "

غیرمسلم اب بھی انسانی مساوات کی بجائے عیسائی، یہودی، بدھ، ہندو وغیرہ اپنی ذات پات اور دیگر پہچانوں کو بھول کر اور متحد ہوکر علی الاعلان مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں، کا اندازہ امریکن صدر بش کے اس بیان سے ہوجاتا ہے کہ

"They are going to finish our culture around the globe”
"مسلمان ہماری تہذیب دنیا سے مٹانا چاہ رہے ہیں”

بش جمہوریت کے زیر سایہ بے راہ روی، فحاشی، چوری چکاری،سودی خوری، لوٹ مار کو تہذیب کہہ کر واضح طور پر ایک مسلم کش جنگ کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ یہ صلیبی جنگ کا اعلان تھا۔ جبکہ اسلام ہی دین الہی ہے۔ اسلام نے ہی محبت، امن، انصاف کو فروغ دے کر کئی بے راہ رو اور ظلم کی تہذیبیں معدوم کیں اور لوگوں کو ایک متوازن معاشرے میں جینے کا حق دیا۔ دنیا میں حقوق العباد کی ادائیگی کے پیش نظر اللہ تعالی قرآن مجید میں واضح فرما رہےہیں کہ

"یہود و نصاری یعنی کفار کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے”۔

تیز ترین،براہ راست ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔ ذرائع ابلاغ اگر افغانستان میں چوری، ڈکیتی سے پاک معاشرہ دکھا دیتا تو ان کی تہذیب خطرے میں پڑجاتی۔ عورتوں کو جو تحفظ اور احترام اسلامی معاشرے میں حاصل ہے، اس کی اصلی تصویر ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا دیکھ لیتی تو ان کی مادر پدرآزادی کا نظام خطرے میں پڑجاتا۔ چوری ڈکیتی سے پاک معاشرہ اور امن و سکون دنیا کو نظر آ جاتا تو ان کی راہزنی کی قلعی کھل جاتی۔ اسلامی نظام حکومت کی عظمت پوری دینا پہ واضح ہوجاتی ہے۔ کیونکہ یہ سب اور ایسے بے شمار فلاحی کام اسلام کے نفاذ سے ہی ممکن ہیں۔ ہمارے اپنے ذرائع ابلاغ کے کردار کا یہ عالم ہے کہ ہماری کوتاہیوں یا ذاتی گناہوں کو اسلام ظاہر کرکے پیش کرتے ہیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے خلاف ذہن سازی ہوسکے۔

جیسے افغانستان میں طالبان کے دور میں مثالی امن تھا۔ صدر صدام حسین کے دور میں عراق میں امن تھا۔ معمر قذافی کے دور میں بھی حالات ٹھیک تھے۔ لیکن آج دیکھیں کہ عراق کو کن سنگین حالات کا سامنا ہے، خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے، دھماکے ہوتے ہیں۔ اب روز لوگ مرتے ہیں۔ صدام حسین، قذافی کے بعد ان ممالک میں کیا کیا ظلم نہیں ہوا۔ اسی لئے نیٹو فورسز نے اسلامی ممالک کو ایک ایک کرکے کچلنا شروع کردیا۔

کشمیر، فلسطین میں روز مسلمانوں کو بے دردی سے ظلما قتل کردیا جاتا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کردیا جاتا ہے اور فلسطین کے علاقے پہ یہودی آبادکاری کی جارہی ہے۔ پوری دنیا پہ مسلمانوں کے قتل ہونے پہ کوئی آواز نہیں اٹھتی جو کہ اقوام متحدہ میں غیرمسلموں کی اجارہ داری کی نشاندہی کرتی ہے اور مسلم کش نظریات کو تقویت دیتی ہے۔

غیر مسلم طاقتوں نے سازشوں کے ذریعے مصر کی حکومت کو ختم کروایا، جبکہ وہ موجودہ جمہوری طریقہ انتخاب کے ذریعے ہی حکومت میں آئے تھے لیکن غیرمسلم اقوام کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ صدر مرسی اور ان کی جماعت اسلام کے حامی اور اسلام پسند تھے۔ صدر صدام کو پھانسی لگا نے کے بعد صدر مرسی کو موت کی نیند سلادیا گیا ہے اور صدر مرسی کی حکومت کی اعلی قیادت کو ہمیشہ کیلئے خاموش کروانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہی ہورہا ہے لیکن غیرمسلم اقوام پوری دنیا کو مسلم دشمنی میں جھونک کر دنیا کو تباہی کے دھانے پہ پہنچانا چاہتی ہیں۔ ان کی نظر میں اپنے اہداف حاصل کرنے کیلئے قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان تمام مسلم ممالک میں ابھی اسلامی نظام حکومت نافذ نہیں صرف عوام اور مسلمان حکمران ہیں اور اہل کفر انھیں بھی دشمن سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں بھی غیر ملکی خفیہ اداروں نے خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان، غیرمسلم اقوام کی خود ساختہ جنگ میں سب سے اہم ہے۔ پاکستان ایٹمی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی اور معدنی وسائل سے مالامال بھی ہے اور ایک مضبوط بڑا اسلامی ملک ہے۔ جغرافیہ کے لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بین الاقوامی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے، ملک کے سپہ سالار اعظم نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو پاکستان کے دورے کے موقع پہ ایک مرتبہ واضح سمجھایا تھا ۔ وہ الفاظ اتنے پراثر تھے کہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی پریس کانفرنس میں زبان پہ بھی آگئے کہ

"سالار اعظم پاکستان نے مجھے کہا ہے کہ پاکستان نہ افغانستان ہے، نہ عراق”

مغربی طاقتیں جمہوریت اور سودی معاشی نظام کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس کیلئے وہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ مسلمانوں کے اتحاد کو وہ اپنے فری میسن ایجنٹس، خفیہ اداروں کے ایجنٹس اور این جی اوز کے ایجنٹس کے ذریعے پار پارہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اورمسلمانوں کے اتحاد اور یگانگت کے سامنے ان کا جمہوری نظام اور سودی معاشی نظام سب ریت کی دیوار سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔

موجودہ عالمی مالیاتی نظام ہو یا عالمی اقتصادی نظام یا ریاستی معاشی نظام، غیر متوازن ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اپنی طاقت بڑھانے کیلئےمغربی طاقتیں اتحاد بناتی ہیں، نگرانی کے نظام بناتی ہیں، تجارت اورکارپوریشن کے معاہدے کرتی ہیں، خفیہ معاہدے طے کرتی ہیں، اقتصادی پابندیاں لگاتی ہیں اور اہم ترین جگہ پر دہشت گردی سے نمٹنے کے بہانے قبضہ کرتی ہیں یا دہشت گردی کرواتی ہیں۔ اپنے اہداف حاصل کرنے کیلئے وعدہ خلافی کرتی ہیں۔ ان کیلئے اقوام متحدہ، عالمی ادارے وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ بدمعاشی، دھونس، قانون شکنی، جبر کی بنیاد پہ پوری دنیا پہ تسلط قائم کیا ہوا ہے۔

ماضی میں لوگوں کو قانون پر اعتبار تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی آڑ میں مغربی حکومتوں کی قانون شکنی کی وجہ سے اب یہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کہ طاقتور لوگوں کی بدعنوانیوں کو نظر انداز کیا جائے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!